خدمتِ میں عظمت

خدمتِ میں عظمت
خدمتِ میں عظمت

  

خدمت انسانی فطری امر اور انسانی جبلت میں شامل ہے۔ ریاست کا فرض ہوتاہے کہ وہ اپنے باشندوں کا خیال رکھے اور ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائے۔ کیا دنیا میں ریاستیں اور حکومتیں عوامی ضروریات اور عوامی حقوق کو پورا کرنے میں کامیاب ہیں؟ سیاسی نقطہ نظر اور معاشرتی پہلوؤں کی روشنی میں ترقی پذیر ممالک میں ریاستیں عوامی خواہشات اور عوامی امنگوں کو پورا کرنے میں کامیاب نظر نہیں آتیں۔ پاکستان میں ہیلتھ اور تعلیم کے بے شمار مسائل برسوں سے چلے آ رہے ہیں۔ حکومت نہ تو صحت کی بہتر سہولتوں کی فراہمی میں کامیاب دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی تعلیمی اصلاحات اور درستگی کو بہتر کر سکی ہے۔ علاوہ ازیں دیگر شعبہئ جات زراعت، ماحولیات، لائیوسٹاک، فشری، پلاننگ، کا بھی کچھ ایساہی حال ہے۔ پاکستان کی منصوبہ بندی میں اصلاحات کا عمل تو جاری ہے، لیکن بظاہر اس کے نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ افراط زر اس حد تک جا چکا ہے کہ اب عام شہری اپنی زندگی کی بقاء کے لئے سوچ رہا ہے۔ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں،

لیکن ان وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال میں لانے اور ملک کو اوپر لے کر جانے کے لئے منصوبہ بندی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے حالات میں بے شمار اہم غیر سیاسی اور سماجی ادارے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے لئے بے شمار فلاحی ادارے بلا معاوضہ غریب اور بے سہارا افراد کی نفسیاتی و ذہنی بحالی میں مصروف ہیں۔ ان میں سے پاکستان کا اہم ادارہ فاؤنٹین ہاؤس بھی ہے، جو مقبول ترین اور منفرد فلاحی اداروں میں شمار ہوتاہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس ادارے نے خواجہ سراء افراد کے لئے مکمل منصوبہ بنانے اور معاشرے میں ان کو عزت کا مقام دلوانے کے لئے اہم اقدامات کئے ہیں، حالانکہ خواجہ سراؤں کے لئے اصلاحی پیکیج کا اعلان حکومت کو کرنا چاہیے، کیونکہ یہ افراد بھی انسانیت کے زمرے میں آتے ہیں، ان کے بھی جذبات اور زندگی میں کچھ بننے کی خواہشات کروٹیں لیتی رہتی ہیں۔

اب فاؤنٹین کی مدد سے خواجہ سراء بھکاری بننے کی بجائے باعمل زندگی بسر کر رہے ہیں، اور مختلف فنون،مثلاً سلائی کڑھائی کا کام سیکھتے ہیں۔ ان کی بنی ہوئی دستکاری کی اشیاء بازار میں فروخت کر کے زرمبادلہ حاصل ہوتاہے۔ ان لوگوں میں احساس کمتری کو کم کرنے کے لئے بھی فاؤنٹین ہاؤس کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ خدمت میں عظمت کے جذبے سے معاشرے کے افراد ایسے فلاحی اداروں کو فنڈز، یعنی ڈونیشن دیتے ہیں۔ فاؤنٹین ہاؤس میں بے شمار ایسے ذہنی و نفسیاتی مریض موجود ہیں، جو ملک کے مشہور آدمی ہیں۔ روحی بانو بھی فاؤنٹین ہاؤس میں زندگی کے آخری ایام گذار چکی ہیں۔ یہ ادارہ صحیح معنوں میں بے سہاروں کا سہارا ہے۔ انسانی خدمت میں عظمت اور آخرت کی زندگی کو سنوارنے کا وسیلہ ہے، دنیا اگر قائم ہے تو ایسے اداروں کی وجہ سے جو لوگوں کے دکھ درد کم کرنے میں رات دن مصروف ہیں۔ صدر پاکستان عارف علوی نے چند روز پہلے فاؤنٹین ہاؤس لاہور کا دورہ بھی کیا۔

ڈاکٹر امجد ثاقب اور ایم ایس سیّد عمران نے ان کو جاری منصوبوں کے بارے میں تفصیلاً بتایا۔ صدر پاکستان نے یہاں جاری منصوبوں کو بہت سراہا۔ انسانی بقاء کے لئے نارمل زندگی بہت ضروری ہے۔ معاشرے میں بے شمار افراد ایسے ہیں جو بظاہر آپ کو ذہنی اور جسمانی طو رپر تندرست نظر آتے ہیں، لیکن جب آپ ان کی ہسٹری سنیں یا ان کے گھریلو اور معاشرتی مسائل سنیں تو ذہنی طور بیمار پائیں گے۔ ایسے اشخاص گھن کی طرح اندر سے آہستہ آہستہ کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ معاشرے میں ایسے افراد ہزاروں میں موجود ہیں، جو ذہنی و نفسیاتی علاج نہیں کرواتے اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ مکمل طور پرذہنی مریضوں کی لائن میں لگ جاتے ہیں۔ ایسے افراد کو خود ہی اپنی کیفیات کے مطابق فاؤنٹین ہاؤس جیسے اداروں سے رجوع ضرور کر لینا چاہیے، کیونکہ تندرست افراد کے سبب ہی تندرست معاشرہ وجود میں آتا ہے اور تندرست معاشرے کی بدولت ہی ممالک کی ترقی ممکن ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں فلاحی طورپر پاکستان جیسے ملک میں معاشرے کے تمام افراد ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار رہتے ہیں، جن کی ذہنی صحت مندی کے لئے حکومت کو اقدامات کر کے صحت مند معاشرے کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔

فاؤنٹین ہاؤس 1971ء سے اب تک ذہنی امراض میں مبتلا 60000 سے زائد افراد کی معاشرے میں دوبارہ بحالی کے فرائض انجام دے چکا ہے، اس وقت 700 سے زائد ذہنی مریض بشمول 200 خواتین فاؤنٹین ہاؤس (لاہور، فاروق آباد، سرگودھا) میں زیر علاج ہیں۔ جن میں طالب علم، وکلاء، میڈیکل سٹوڈنٹس، بزنس مین، حکومتی عہدیدار اور فنکار بھی شامل ہیں۔ 350 ذہنی پسماندہ بچوں کو تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت دی جاتی ہے۔ جہاں خواتین اسِٹاف کی زیرنگرانی اپنائیت اور تحفظ کے ساتھ وہ علاج و معالجے کی سہولتوں سے مستفید ہوتی ہیں۔ 750 خواجہ سراء ماہانہ زکوٰۃ فنڈ سے علاج و وظیفہ حاصل کرتے ہیں۔ معاشرے میں بڑھتے ہوئے ذہنی امراض ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ ہر دس افراد میں سے ایک فرد تو ضرور زندگی میں ایک مرتبہ کسی نہ کسی مرض سے دو چار ہو سکتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق ذہنی امراض کے اسباب ہر انسان کے دماغ میں کسی حد تک موجود ہوتے ہیں، جن پر یہ اسباب مختلف وجوہات کی بناء پر غالب آ جاتے ہیں، وہ اس مرض سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔ اس طرح وہ دوسروں کا بوجھ اٹھانے کی بجائے خود دوسروں پر بوجھ بن جاتے ہیں۔فاؤنٹین ہاؤس کے زیر اہتمام فاروق آباد کے پُرفضا ماحول میں ذہنی طور پر پسماندہ خواتین کے لئے 50بیڈز پر مشتمل عائشہ صدیقہ ہومز تعمیر کئے گئے ہیں،فاؤنٹین ہاؤس کے تحت چلنے ولا ادارہ (IDC) جو ذہنی پسماندہ بچوں کی تعلیم و تربیت کی خدمات سرانجام دے رہا ہے، اس میں قریباً 350 بچے سکول، آؤٹ ریچ پروگرام اور ……Inclusive Education …… پر وگرام میں مستفید ہو رہے ہیں …… Down's Syndrome…… میں مبتلا بچے کرموسومز کی زیادتی کے ساتھ پید اہوتے ہیں۔ جس میں بچے کی ذہنی اور جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے، اس بیماری میں مبتلا بچے کی جسمانی علامات میں چپٹا منہ، منگولی شکل شامل ہیں۔ ذہنی علامات میں توجہ میں کمی، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی Impulsive behaviour, Slow Learner, Speech Development اور Delayed Language شامل ہیں۔

فاؤنٹین ہاؤس18 سال سے زائد طبعی عمر کے ذہنی معذور بچوں کو تعلیم کی سہولتیں فراہم کر رہا ہے جس میں بچوں کی تعلیم، ووکیشنل ٹریننگ، میڈیکل چیک اپ اور ان کا نفسیاتی طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ ووکیشنل ٹریننگ کے بعد ان کی Job Placement بھی کی جاتی ہے……Intellectual Disability in Cerebral Palsy …… بیماری میں دماغی افعال میں خرابی کے ساتھ جسمانی افعال بھی متاثر ہوتے ہیں، جس میں پٹھوں کا کھچاؤ، اعصابی افعال کی کمزوری، سست حرکات، چلنے پھرنے بولنے، کھانے پینے اور نگلنے میں مشکلات جیسی علامات ہوتی ہیں،اس کے علاوہ خوراک کی کمی معاشرتی تعلق میں کمی، رویوں کے مسائل اور خود اعتمادی میں کمی بھی ذہنی علامات ہیں۔

فاؤنٹین ہاؤس ایک ادارہ نہیں، بلکہ ایک ایسی تحریک ہے جو دماغی امراض اور ذہنی کُرب میں مبتلا لوگوں کی بحالی کے لئے سرگرم عمل ہے۔ یہاں رہنے والے بیسیوں مریض ایسے ہیں،جنہیں ان کے عزیز و اقارب ہمیشہ کے لئے چھوڑ چکے ہیں، فاؤنٹین ہاؤس ان لوگوں کا گھر ہے، جن کا کوئی گھر نہیں، ان افراد کی رہائش، ادویات اور کھانے پینے کے اخراجات آپ کے عطیات اور زکوٰۃ کی بدولت فراہم ہوتے ہیں۔فاؤنٹین ہاؤس میں 8000 سے زائد مرد و خواتین ممبران (مریض) کو بحالی کی سہولتیں فراہم کی گئیں، 50 ذہنی پسماندہ افراد کو HRVRC میں پیشہ ورانہ ٹریننگ دی گئی۔ 350 ذہنی پسماندہ بچے IDC میں زیر تعلیم ہیں، جنہیں سکولنگ کے ساتھ ساتھ ٹوائلٹ، ٹریننگ اور پیشہ ورانہ ٹریننگ دی گئی ہے۔ لاہور، فاروق آباد اور سرگودھا کی او پی ڈیز میں 36000 سے زائد ذہنی امراض میں مبتلا افراد کوعلاج کی مفت سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ 12000 غریب خاندانوں میں زکوٰۃ و عطیات کی مد میں مفت ماہانہ ادویات تقسیم کی گئیں۔ فاؤنٹین ہاؤس فری کیمپ کے تحت پسماندہ علاقوں میں 20000 سے زائد افراد کو نفسیاتی طبّی امداد دی گئی۔ 25000 سے زیاد طالب علموں اور رضاکاروں کو آگاہی تربیت دی گئی۔فاؤنٹین ہاؤس کے ماہانہ اخراجات اوسطاً دو کروڑ روپے ہیں، جن میں سے تقریباً 8 لاکھ روپے گورنمنٹ، تقریباً 42 لاکھ روپے صاحب استطاعت ممبران (مریضوں) کی ادائیگی سے حاصل ہوتے ہیں،جبکہ بقایا ایک کروڑ پچاس لاکھ روپے کو پورا کرنے کے لئے تگ و دو کرنا پڑ رہی ہے۔ یہ واحد ادارہ ہے، جہاں پورے پاکستان اور بیرون ملک سے مریض آتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -