بدر اور غوری ایکسپریس کی بحالی

بدر اور غوری ایکسپریس کی بحالی
بدر اور غوری ایکسپریس کی بحالی

  

فیصل آباد، تحصیل چک جھمرہ، سانگلہ ہل، صفدر آباد، بہالیکے، فاروق آباد اور ضلع شیخوپورہ کے شہریوں کے لئے خوش خبری ہے کہ ریلوے نے کورونا وائرس کے باعث بند ہونے والی فیصل آباد اور لاہور کے درمیان چلنے والی بدر اور غوری ایکسپریس دوبارہ شروع کر دی ہے پاکستان ریلوے کے لئے پچھلا سال کچھ اچھا ثابت نہیں ہوا ریلوے حادثات میں قیمتی جانوں کے نقصان کے ساتھ ریلوے کو زبردست نقصان کا سامنا رہا۔ سابقہ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے 2020ء کو ریلوے کا فریٹ کا سال قرار دے رکھا تھا، خدا لگتی کہتا ہوں کہ کورونا نہ آتا تو شیخ رشیدا حمد کو زبردست شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا، وہ شرمندگی سے بچ گئے، مقدر کے سکندر نکلے اور انہیں وزیر داخلہ کے قلم دان سے نواز دیا گیا۔ اتحادوں کی سیاست جب ضرورت بن جائے تو کارکردگی اور قابلیت کی بجائے اقتدار قائم رکھنے کے لئے حکومت کو اپنے اتحادیوں کو راضی اور خوش رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔  نئے وفاقی وزیر اعظم سواتی ریلوے میں انقلابی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں، ان کی رائے میں پہلے ہی کافی وقت ضائع ہو چکا ہے، وہ ریلوے افسران اور ملازمین کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ افسران کو فری ہینڈ دینا چاہتے ہیں تاکہ بہتر اور فائدہ مند نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ وہ ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں متعدد اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کی صدارت کے دوران باہمی مشاورت سے ریلوے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے متعدد فیصلے کر چکے ہیں، جن میں ڈویژنل سپرنٹنڈنٹس کی میرٹ پر خود دلچسپی لے کر تعیناتی کرنا شامل ہیں۔

 ڈی ایس کو فری ہینڈ اور مکمل اختیارات دیئے گئے ہیں اور ساتھ ہی ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانے کی ذمہ داری بھی ان پر ڈال دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی کا کہنا ہے کہ ریلوے افسروں کو بہتر نتائج کے لئے سپورٹ کروں گا۔ ریلوے اراضی کو کمرشل استعمال میں لانے کے لئے پلاننگ شروع کر دی گئی ہے، قبضہ گروپوں سے ریلوے کی تمام زمین واگزار کرائی جائے گی، زمینوں کو کمرشل استعمال میں لانے کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دوسرے صوبوں کے چیف منسٹرز سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ فریٹ سیکٹر ریلوے کی 65 فیصد آمدن کا ذریعہ ہے، اس کے مسائل پر قابو پایا جائے گا۔ ڈی ایس مکمل اختیارات اور فری ہینڈ ملنے کے باوجود کارکردگی نہ دکھا سکے تو محکمانہ ایکشن ہوگا، سہولتیں فراہم کرنا میرا اور ٹارگٹ پورا کرنا افسران کا کام ہے۔ ریلوے انتظامیہ نے ریلوے پولیس کو ریل گاڑیوں میں مسافروں کے ٹکٹ چیک کرنے سے مکمل طور پر روک دیا ہے۔ ٹرین میں ٹکٹ چیک کرنا ٹکٹ ایگزامینر کا کام ہے، ٹرین کے ساتھ ڈیوٹی دینے والے اہلکاروں کا کام مسافروں کے جان و مال کی حفاظت کرنا ہے۔ ٹرینوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے، اس سلسلے میں ایس پی ریلوے لاہور سمیت تمام ڈویژنوں کے ایس پیز ریلوے کو مراسلے بھجوا دیئے گئے ہیں، کوتاہی اور غفلت برتنے پر کارروائی ہو گی۔ 

مزید :

رائے -کالم -