زرعی یونیورسٹی ملتان: وائس چانسلر میرٹ کو ”روندنے“ میں  ماہر، عہدوں کی بند ربا نٹ: خزانے پر بھی قبضہ 

زرعی یونیورسٹی ملتان: وائس چانسلر میرٹ کو ”روندنے“ میں  ماہر، عہدوں کی بند ...

  

ملتان(جنرل رپورٹر)  ایگریکلچر یونیورسٹی ملتان میں میرٹ کی سنگین بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، سال 2015ء میں قواعد کے برعکس ڈی جی خان ایگریکلچر کالج سے مستعار الخدمتی (Lien)پر آنے والے گریڈ 17کے انتظامی ملازم رفیق فاروقی کو لیژن کی مدت ختم ہونے کے باوجود گریڈ 19کے عہدے پر ٹرثیرار (خزانچی) کے عہدے پر تعینات کردیاگیا۔مذکورہ افسر ڈی جی خان ایگریکلچرکالج میں بھی مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث رہا جہاں تحقیقات مکمل ہونے پر الزامات ثابت ہوئے جس پر انھوں نے سزا سے بچنے کیلئے ایگریکلچر یونیورسٹی ملتان میں تعیناتی کرائی اور بعدازاں وی سی کی مدد سے مذکورہ یونیورسٹی کو مستقل مسکن بنالیا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ کی ملی بھگت سے ایک ہی وقت میں رجسٹرار اور خزانچی بھی رہ چکے ہیں،اس کے علاوہ وہ ڈائریکٹر پروکیورمنٹ کے طور پر بھی اب کام کر رہے ہیں۔رفیق فاروقی مذکورہ ملازم کی غازی یونیورسٹی  میں مستعارالخدمتی یعنی لیژن کی تین سال مدت ختم ہوگئی مگر انہوں نے قانونی طور پر واپس ڈی جی خان رپورٹ کرنے کی بجائے زرعی یونیورسٹی ملتان میں وی سی سے تعلقات کی بناء پر یہیں کنٹریکٹ حاصل کر لیا حالانکہ قانونی طور پر پوسٹ مشتہر کی جانا ضروری ہے جس کی میرٹ لسٹ اور کال لیٹر ضروری ہے۔مذکورہ ملازم کو کنٹریکٹ دیتے وقت سنڈیکیٹ کو یہ اختیار حاصل نہیں تھا جبکہ مذکورہ ملازم کی تعیناتی بغیر اشتہار کے دی گی یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کوئی بھی ایک یونیورسٹی سے دوسری یونیورسٹی میں شفٹ یا لیژن پر نہیں جا سکتا  اگر جائے گا تو نئے سرے سے یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ میں انٹرویو کے ذریعے جائے گا مگر گریڈ سترہ سے برا ہ ر است دو گریڈاپ ہو کر گریڈ انیس میں اپ گریڈ ہونے والے افسر کو وی سی کی طرف سے مکمل حمائیت رہی کیونکہ وہ وی سی کو معالی طور پرمضبوط کر رہا ہے اور تمام فنانشل معاملات مرضی سے چلانا مقصود تھا۔اس ضمن میں مذکورہ افسر نے روزنامہ ”پاکستان“کے رابطے پر اپنے موقف میں کہا کہ میں کنٹریکٹ پر اور سینڈیکیٹ کے ذریعے اس یونیورسٹی میں آیا تھا غیر قانونی طور پر میری تعیناتی نہیں ہوئی ہے۔وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر راؤ آصف نے بھی انکے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینڈیکیٹ باڈی نے بطور خزانچی انکی منظوری دی ہے۔ 

مزید :

صفحہ آخر -