خواتین وکلا ء کیخلاف صنفی، امتیازی پالیسیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے، مقررین 

خواتین وکلا ء کیخلاف صنفی، امتیازی پالیسیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے، مقررین 

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ بار میں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب کا انعقادکیا گیا، تقریب کا انعقاد لاہور ہائیکورٹ بار کے کراچی شہداء ہال میں کیا گیاجس میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے خصوصی شرکت کی جبکہ خواتین وکلاء رہنماء ربیعہ باجوہ، بشری قمر، خالدہ پروین،سابق صدر لاہور ٹیکس بار عائشہ قاضی، شکیلہ اختر رانا سمیت دیگر نے بھی شرکت کی،تقریب میں معاشرے میں خواتین کو درپیش مسائل پر اظہار خیال کیا گیا،خواتین مقررین نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو مسائلِ سے آگاہ کیا خاتون وکلاء نے ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا کہ  خواتین وکلا ء کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر ان کی سہولت کیلئے لاہور ہائیکورٹ بار روم کی توسیع کی جائے اورلاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی میں خواتین کو مستقل نمائندگی دی جائے انہوں نے مزید کہا کہ وکالت کے شعبے میں موجود خواتین کے خلاف صنفی اور امتیازی پالیسز کا فوری خاتمہ کیا جائے اہم اور کلیدی عہدوں تک پریکٹسینگ خواتین وکلا کی رسائی کو یقینی بنایا جائے اسی طرح  ایڈووکیٹ جنرل اور اٹارنی جنرل آفس میں خواتین وکلا کو موثر نمائندگی دی جائے اور کسی خاندان یا لا فرم  سے تعلق کی بجائے میرٹ پر خواتین وکلا کو ترجیح دی جائے۔ اعلیٰ عدلیہ میں خواتین ججز کی تعداد بڑھائی جائے اور خواتین کو متناسب نمائندگی دی جائے۔ سپریم کورٹ میں آئین  کے تحت خواتین ججز کا تقرر یقینی بنایا جائے،لاہور ہائیکورٹ میں ججوں کے تقرر کے عمل کو شفاف بنایا جائے، خواتین ججوں کی مناسب نمائندگی کا خیال رکھا جائے اور میرٹ کی بنیاد پر  ہائیکورٹ میں خواتین ججوں کا تقرر کیا جائے، خواتین وکلا کو طبقاتی سطح پر بھی استحصالی نظام کا سامنا ہے، اہم ایڈوائزیر اور پروفیشنل مواقع تک ان کی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے، دوسری جانب ان عہدوں پر عدلیہ میں اثر و رسوخ رکھنے والے گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کا تقرر کر کے میرٹ پر اہل خواتین کی حق تلفی کی جاتی ہے، اس حوالے سے بار کے عہدے داروں کی مشاورت سے شفاف پالیسی کا ا علان کیا جائے،اکشنز، لیکویڈیشنز، سرکاری /ڈیفینس کیسز کے حواے سے بھی  پالیسی مرتب کی جائے  مندرجہ ذیل قرار داد کے ذریعے خواتین وکلا،نے صدر لاہور ہائیکورٹ بار مقصود بٹر اور ان کی کیبنٹ کے سامنے اپنے مطالبات رکھے ہیں تاکہ ان  مسائل کے حل کے لیے  لاہور ہائیکورٹ  بار ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے عدلیہ اور متعلقہ اداروں سے رجوع کیا جا سکے۔

تقریب 

مزید :

صفحہ آخر -