عورت خاندانی اقدا ر و روایات کی امین ہے،سمیحہ راحیل

  عورت خاندانی اقدا ر و روایات کی امین ہے،سمیحہ راحیل

  

لاہور (لیڈی رپورٹر)عالمی یوم خواتین کے موقع پرحلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی طرف سے مضبوط خاندان، محفوظ عورت، مستحکم معاشرہ کے عنوان سے ڈسکشن فورم کا اہتمام پری کانٹینینٹل ہوٹل میں کیا گیا،افتتاحی خطاب میں ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ خاندانی نظام معاشرے کی بنیادی اکائی اور اساس ہے،عورت خاندانی نظام کی محافظ اور اقدار و روایات کی امین ہے۔ مرد و عورت کے باہمی تعاون اور ذمہ داریوں کی تقسیم خاندان کو جلا بخشتی ہے۔مرد معاش کی زمہ داری کے ساتھ وہ ماحول فراہم کرنے کا مجاز ہے کہ جہاں عورت خاندان کی تربیت اور نسلوں کی تراش خراش کی زمہ داری بحسن خوبی انجام دے سکے۔ مضبوط خاندانی نظام ہمیشہ سے مشرقی معاشروں کی  بڑی قوت اور ان کے استحکام کی علامت رہاہے۔، خصوصاًان معاشروں میں جہاں دین کی تعلیمات کا اثر ہے، لوگ بہت سے ایسے مسائل سے محفوظ ہیں جن کا سامنا جدید دنیا میں رہنے والے افراد کرتے ہیں۔ سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی نے بھی خطاب کیا۔

 اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ خاتم الانبیاء ? محسن نسوانیت بن کر آئے۔ آپ نے عورت کو اس کا جائز مقام عطاکر کے  کل انسانیت کواحسان مندکیا۔ اسے پستی سے نکال بلندی پر سرفراز کیا۔ ہوس زدہ معاشرے کی ستائی ہوئی  آج کی عورت  پھر اپنے کھوئے ہوئے وقار کی بحالی کی خاطر حقوق نسواں کی تحریکوں کے پرفریب جال کا شکار ہو رہی ہے۔ حقوق نسواں کے مصنوعی نعرے عورت کے وقار اور خاندان کے وجود کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہیں جو اللہ کے قوانین سے بغاوت،عورت کی بیجا آزادی، گھر داری کی نفی اور جنسی بے راہ روی کی طرف راغب کر رہے ہیں۔خاندانی نظام کا تحفظ معاشرے کے بقاء  کے لئے ناگزیر ہے لہذا  اس بنیادی ادارے کے تحفظ اور استحکام کیلئے ہر طبقے کو اپنا مطلوبہ کردار ادا کرنا ہو گا - میاں بیوی اپنے اپنے فرائض کی احسن طریقے سے ادائیگی, خلوص اور شفقت سے بچوں کی تربیت کریں اور ماں باپ کے مضبوط کردار اور رویے سے ایک متنوع خاندان کو پنپنے کے لئے سازگار ماحول فراہم کیا جائے جس میں بزرگوں کے احترام خدمت گذاری اور بزرگوں کی طرف سے بچوں کے لئے شفقت اور نرمی کے جذبات کے ساتھ تربیت اخلاق کا عملی نمونہ فراہم کیا حائیاس کے علاوہ علماء  اکرام,آئمہ مساجد, تعلیمی ادارے اور ذرائع ابلاغ خصوصا ٹی وی چینلز پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تدریس تبلیغ اور وعظ و نصیحت کا جو فریضہ وہ اپنی اپنی جگہ ادا کر رہے ہیں, اس میں خاندان کے ادرے کو مضبوط و مستحکم کرنے والے کرداری رویے کو پروان چڑھائیں. نوجوان نسل کو یہ باور کروایا جائے کہ محفوظ مستقبل کے لئے مضبوط و مستحکم خاندان کا وجود کتنا ضروری ہے - یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والے ڈرامے بھی واضح طور پہ خاندانی زندگی سے متنفر کرنے والے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ان کا نتیجہ معاشرے میں نظر آنے لگا ہے۔ گھرجو سکون، محبت اور خیر خواہی کی جگہ ہے اور جہاں  ایک نومولود کی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے، اسے نفرت، فریب، بے وفائی، سازش اور چالبازی کا گڑھ بنا کر پیش کیا جارہا ہے، ایک ایسی جگہ جہاں ہر رشتہ دوسرے رشتے کی جاسوسی کرنے، اسے دھوکہ دینے اور نقصان پہنچانے میں مصروف ہے۔مسلسل اور کثیر عوامی احتجاج کے باوجود ان ڈراموں پر پابندی نہیں لگائی جارہی۔        

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -