تنخوا ہیں بند، ملازمین نے فخرامام کی رہائش گاہ کو گھیر لیا، مظاہرہ 

تنخوا ہیں بند، ملازمین نے فخرامام کی رہائش گاہ کو گھیر لیا، مظاہرہ 

  

ملتان (سپیشل رپورٹر) پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے ملازمین نے 6 ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر وفاقی وزیر سید فخر امام کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا اور مطالبات تسلیم نہ ہونے پر ڈی چوک پر دھرنا دینے کی دھمکی دے دی - ادھر وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی نے ملازمین کی داد رسی کی بجائے سید فخر امام کے گھر کے باہر احتجاج کرنے والے ملازمین کی فہرست طلب کر لی ہے تاکہ ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکے - کپا(بقیہ نمبر39صفحہ 6پر)

س کی تحقیقات کا ادارہ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی بدستور شدید مالی بحران سے دوچار ہے، سات سو سے زائد زرعی سائنسدان و دیگر ملازمین گزشتہ 6 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں - متاثرہ ملازمین نے تنخواہیں نہ ملنے کے خلاف وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی سید فخر امام کی رہائش گاہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی - مظاہرین حکومت سے فوری طور پر تنخواہوں اور پینشن کی فراہمی کا مطالبہ کیا - مظاہرین کا کہنا تھا کہ کاٹن سیس ایکٹ کے تحت اپٹما کے ذمے دو ارب سے زائد کے واجبات وصول نہ ہونے پر ادارے کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے اعلان کردہ 2 ارب روپے بھی ایک سال سے نہیں مل سکے، گزشتہ آٹھ برس سے ادارہ مستقل سربراہ سے بھی محروم ہونے سے بھی انتظامی امور متاثر ہیں، مظاہرین نے پی سی سی سی کے مالی مسائل حل نہ ہونے پر ڈی چوک پر دھرنے کی دھمکی بھی دی - ذرائع کے مطابق وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی نے ملازمین کی داد رسی کرنے کی بجائے انتقامی کارروائی کرنے کے لیے احتجاجی ملازمین کی فہرست طلب کر لی ہے -

مزید :

ملتان صفحہ آخر -