”جوا ……جو کسی کا نہ ہوا“

  ”جوا ……جو کسی کا نہ ہوا“

  

جوئے کا دھندہ پولیس کی سرپرستی میں ملک کے ہر شہر میں عروج پر 

اس وقت جو برائیاں ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں ان میں سے ایک ”جُوا“ بھی ہے، جو اس وقت پاکستان کے تقریبا ہر شہر میں اکثر پولیس کی سرپرستی میں ہورہا ہے جس کے جال میں پھنس کر کئی لوگ بربادہوچکے ہیں۔ عادی جُواریوں میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے مَحض تفریح کے لئے چھوٹی چھوٹی رقمیں لگانے سے جوا کھیلنے کا آغاز کیامگر رَفتہ رَفتہ اس ”ناسور“ کے ایسے عادی ہوئے کہ اب جُوئے کی لت چھوڑنا ان کے لئے دشوار ہو گیا۔ جوئے میں انسان بہت کچھ ہارجاتا ہے چنانچہ جواری مالی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں،کچھ نہیں سُوجھتا توسود پر قرض لیتے رہتے ہیں اور ایک لمباہاتھ مارنے کے چکر میں جوئے کی دلدل میں مزید دھنس جاتے ہیں،اپنا وقت جوئے کے اڈوں میں برباد کرتے ہیں اوروہاں پر پھیلنے والی مزید برائیوں نشہ،چوری چکاری وغیرہ میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔ کئی جواری اپنی  نوکری یا کاروبار سے بھی غافل ہوجاتے ہیں انجام کار نوکری یا کاروبار ہاتھ سے جاتا رہتا ہے، ان کی گھریلو زندگی تباہ ہوکررہ جاتی ہے،عزت برباد ہوجاتی ہے، ٹینشن کے مارے یہ بیمار ہوجاتے ہیں،بعض اوقات جوا کھیلنے کی پاداش میں پولیس کے ہاتھوں گِرِفْتار بھی ہوجاتے ہیں،یوں ان کو جوئے کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے،جب انہیں کچھ سُجھائی نہیں دیتا تو اپنی زندگی سے اتنا مایوس ہوجاتے ہیں کہ خودکشی جیسے حرام کام کے بارے میں سوچنے لگتے اور اپنی زندگیوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ کر اس دنیا فانی سے چلے جاتے ہیں 

   * اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں جو ا،سود اور قتل وغارت گری عرب میں عام تھی، ان چیزوں کوعیب اور برا ئی بھی تصور نہ کیاجاتا تھا بلکہ ایسے غلط کاموں کے کرنے پر شرمندگی تو کیا ہوتی الٹا اس پر وہ اپنی مجالس میں فخر بھی کرتے تھے اور اپنے اشعارمیں،نجی اور عام محفلوں میں ایسی امور کا ذکر کرکیان پر فخر کرکے اس کو اپنی بہادری تصور کرتے تھے۔صرف اس پر اکتفاء نہیں کرتے تھے بلکہ جوشخص ایسے غلط کاموں سے دوری اختیار کرتاتھا تو اس کو بخل اوربزدلی کے طعنے دیئے جاتے تھے۔ان میں جو ا کی کثرت کا یہ حال تھاکہ لوگ اپنے اہل وعیال کو بھی جوا کے داؤ پر لگاتے تھے۔

 * اس وقت پاکستان کے ہر شہر میں جہاں جہاں پولیس چوکی اور تھانے قائم ہیں وہاں پرزیادہ تر  پولیس کی سرپرستی میں یہ دھندا کھلے عام ہوتا ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ پولیس والے ان سے منتھلیاں لیتے ہیں اور اپنی کاروائی ڈالنے کے لیے اکثر آپ نے اخبارات میں دیکھا اور سنا ہوگا کہ پولیس نے قمار بازی کے اڈوں پر چھاپہ مار کر بیس پچیس تیس افراد کو پکڑ لیا اور ساتھ ہی داؤ پر لگی ہوئی رقم بھی پکڑ لی لیکن یہ سب کچھ پولیس اپنی کارروائی پوری کرنے کے لیے کرتی ہے  باوجود اس کے کہ یہ دھندہ تقریبا ہر شہر میں پولیس کی سرپرستی میں ہوتا ہے اور آپ نے دیکھا ہوگا کہ شہر کے مختلف چوکوں اور کھلے عام لوگ بڑی تعداد میں ٹولیوں کی شکل میں بیٹھے تاش  لڈو وغیرہ کھیل رہے ہوتے ہیں افسوس کہ ایسے جواریوں کی نرسری کے جانب کسی کا کوئی دھیان نہیں جاتا اگر ایسی نرسریاں پکڑی جائیں اور ساتھ ہی بڑے اڈوں پر بھی چھاپے مارے جائیں اور ان کو بھی پکڑا جائے تاکہ یہ دھندا ختم ہو سکے اس وقت یہ دھندا بے شمار مختلف شکلوں میں میں پورے ملک بھر میں متعارف ہو رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سارے کھاتے پیتے گھرانوں کے لڑکے اور لڑکیاں اس بیماری کا شکار ہوتی جا رہے ہیں۔

مری حکومت پاکستان کو ایک تجویز ہے کہ پولیس والوں سے جواریوں کو پکڑنے اور ان کے اڈوں پر چھاپے مارنے کے  اختیارات چھین کر ایک نیا محکمہ ترتیب دینا چاہیے جو صرف قمار بازوں جواریوں کو ہی پکڑے راقم الحروف اس پر مزید تجاویزات بھی دے سکتا ہے پھر ایسے ناسور دھندے کے خاتمہ کے بعد اس ملک کے بہت سارے شہریوں کے گھروں میں سکون اور امن ہو جائے گا۔

٭٭٭

جواریوں کو پکڑنے کے اختیارات پولیس سے چھین کر ایک نیا محکمہ ترتیب دیا جائے!

مزید :

ایڈیشن 1 -