مارچ اور پاکستان 

مارچ اور پاکستان 
مارچ اور پاکستان 

  

سرکاری متوالوں نے احسن اقبال کو جوتا مارا، مصدق ملک اور شاہد خاقان عباسی کو مکے اور ٹھڈے مارے ن لیگ کے سرکردہ لیڈر مریم اورنگزیب کو دھکے دیے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد وہاں تماشا دیکھتے رہے یہ سرکار کے لئے باعث شرم اور قابل مذمت واقعہ ہے جسکا بروقت تدارک ہوجانا چاہیے تاکہ یہ واقعہ وائرس کی طرح بچے نہ دے۔ تحریک انصاف والوں نے یہ جوتے، مکے، ٹھڈے اور دھکے اپوزیشن کو نہیں بلکہ حکومت وقت کو مارے ہیں کیونکہ وزیراعظم صرف ایک جماعت کا نہیں پورے ملک کا ہوتا ہے۔ اگر یہ واقعہ اور ٹرینڈ وائرل ہوا تو خلائی مخلوق کہاں کہاں سرکار کو بچاتی پھرے گی یہ وزیراعظم کے سوچنے والی بات ہے اور انکی طرف اے مذمت اور بروقت اقدامات کی متقاضی ہے۔مارچ کا مہینہ بہت دلچسپ مرحلے میں داخل ہوا چاہتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کون کہاں کھڑا ہے۔ 

حکومت : سینٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی علامتی کامیابی کے بعد بیک فٹ پر ہے۔ آرٹیکل 91 اور سب سیکشن 7 کے تحت صدر پاکستان نے اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے کہا تو ہے لیکن 6 مارچ کو اس اعتماد کے لئے جسطرح کی مہم جوئی طلب کی گئی ہے اس سے ظاہر ہے کہ معاملات جاں بلب ہیں۔ لگ یہ رہا ہے کہ حکومت ریورس گئیر میں ہے لیکن پیزا بنانے والے ابھی اسکا اختتام ضروری نہیں سمجھتے اور بتدریج انخلاء کے حامی ہیں۔ جس طرح حکومت میں آئے تھے اسی طرح جانے پر بھی مضر ہیں اگر انکے دس سالہ منصوبے پر خاک ڈل ہی گئی ہے تو۔ تحریک انصاف کی اگلے انتخابات میں جیت مشکوک لگ رہی ہے کیونکہ سینٹ کے بعد اگلے ضمنی انتخابات ڈسکہ سے کراچی تک رنگ میں بھنگ ڈالتے جائیں گے۔ سینٹ کے چئیرمین کے لئےعوامی  سرکار بھی خفیہ سرکاری امیدوار کو سپورٹ کرنے کے لئے مجبور ہے۔ وہ باقی عہدوں پر تحریک انصاف کے امیدواران کو پیچھے چھوڑنے کی طرح سینٹ چئیرمین شپ بھی خفیہ ہی چھوڑ رہی ہے۔ عمران خاں کے بیانات سے یہ لگ رہا ہے جیسے وہ پریشان ہیں کہ ایک صفحے کی باوجود وہ آہستہ آہستہ کمپنی کی مشہوری کی بجائے انکے لئے بوجھ بنتے جارہے ہیں۔ اب سہاگن وہ جو پیا من بھائے۔ تحریک انصاف آہستہ آہستہ پاور کاریڈار سے دور جاتی نظر آرہی ہے لیکن اقتداراب  رہے بھی تو ڈھیلی ڈھالی اعتماد کی کروائی کے بعد اختیار یقیناً کسی اور جگہ منتقل ہوگیا ہے۔ پنجاب اگر تحریک انصاف سنبھال گئی تو لگتا ہے یہ سال نکل جائے لیکن اگر پنجاب میں تبدیلی آتی ہے تو الیکشن الیکشن کھیل کر زیادہ دیر ڈنگ ٹپانا ممکن نہیں رہے گا۔ تحریک انصاف کی پی ڈی ایم کو احتجاج کی بجائے ووٹ کے استعمال کی دعوتیں ایک پیج کاستیاناس کرتی جارہی ہیں اور تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ فوج کی امداد کے بغیر اعتماد کا ووٹ تو کیا انکا گھر سے نکلنا بھی مشکل ہوجائیگا۔ اور یہ بات اس اعتمادی مشق میں اچھی طرح سمجھا دی گئی ہے۔ عمران خان اس حکومت کے پانچ سال پورے کریں یہ انکی شدید خواہش ہوگی ، لیکن اگلی ٹرم نامعلوم ہے۔ جنرل باجوہ کی توسیع اور نئے آنے والی ڈی جی اور چیف کی تعیناتی کا ان معاملات پر اثر پڑے گا اور یہ دونوں عناصر عمران خان کی اقتدار سے چمٹے رہنے جیسے معاملات اور اگلے انتخاب کی ماہیت پر مزید روشنی ڈال سکیں گے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

پیپلز پارٹی بحرالحال موج میں ہے۔ وہ سٹیک ہولڈر ہیں سندھ کارڈ اور سندھ حکومت میں ہونے کی وجہ سے پر امید ہیں۔ انکا امیدوار ڈارک ہارس ثابت ہوا اور سینٹ میں ہلچل مچا چکا ہے۔ اب بھی چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کے انتخابات ، پی ڈی ایم اور لانگ مارچ میں شمولیت اور عارضی یا مستقبل کی پیش بینی میں انکا کردار بھی ہے اور قیمت بھی۔ اگر وہ پی ڈی ایم کیساتھ اپنے مکالمے اور انکو سڑک سے دور رکھتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ آہستہ آہستہ انکو نوازتی جائیگی اور عمران خان کی قدرومنزلت کم ہوتی جائیگی۔ آصف علی زرداری اس کھیل کے بہترین کھلاڑی ہیں اور اپنے پتے چھپا کر رکھتے ہیں۔  جسطرح صدر بننے تک انکی صدارت نامعلوم تھی اسی طرح انکی اپنے /بیٹے کے لئے وزارت عظمی کی خواہش بھی پوشیدہ ہی رہے گی- کوئی پتہ نہیں اس دوران درمیان میں ق لیگ کے لیڈر چوہدری شجاعت حسین کی طرح ایک چھوٹا سا تاریخی موقع نکل آئے اور ایک دفعہ اقتدار ہاتھ لگے تو کیسز اور فیسز سے پروفیسر زرداری  نپٹنا بہتر جانتے ہیں۔ انکے نزدیک سیاسی فیصلے قرآن و حدیث نہیں ہوتے اور عملیت پسندی ہی سب کچھ ہے شہباز شریف صاحب کے نزدیک نزدیک سوچ ہے۔ ان سے لکھت پڑھت کرکے ہی بات کرنی چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے پاس نئے انتخابات تک گنوانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ سینٹ میں چئیرمین یا ڈپٹی چئیر کی سیٹ لے سکتے ہیں۔ سندھ حکومت چلتی رکھ سکتے ہیں۔ لانگ مارچ میں حصہ لیکر یا حصہ نہ لیکر دونوں صورتوں میں اپ سیٹ کرسکتے ہیں۔ وہ پی ڈی ایم کو اور پی ڈی ایم ان کو کھلا رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ پہلے آنکھ کون جھپکتا ہے۔ سنٹر اور پنجاب میں تبدیلی اور اپ سیٹ میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ پرویز الہی انکے ڈپٹی وزیراعظم رہ چکے ہیں  اب بھی سنٹر اور پنجاب میں تبدیلی کی صورت میں ق لیگ مسلم لیگ ن کی نسبت پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کی اتحادی ہوسکتی ہے۔ زرداری صاحب واحد سیاستدان ہیں جو موجودہ حکومت کیساتھ ملکر آمنے سے یعنی سینیئر پارٹنر، پیچھے سے یعنی وقت پورا کروانے میں اور جونئیر پارٹنر کے طور پر پرویز الہی کی طرح ساتھ دینے اور چلنے کی صلاحیت استطاعت اور چکمہ سازی کا فن رکھتے ہیں بلکہ چوہدریوں کے بعد اس فن میں یکتا ہیں۔ وہ وقت آنے پر خواجہ آصف اور احسن اقبال صاحب کو جنرل مشرف سے حلف دلوا سکتے ہیں تو کسی بھی طرح کا حلف لینے میں انہیں کیا ہچکچاہٹ ہوگی۔ وہ لے بھی سکتے ہیں حلف دے بھی سکتے ہیں۔ انکی تمام سیاسی چالوں میں ن لیگ کے لئے آئیندہ انتخاب تک خیر کا کوئی پہلو نہیں ۔ یہی راج نیتی ہے۔انہوں نے میاں نوا شریف کو سڑک سے دور رکھ کے سب کو اپنی صلاحیت کا گرویدہ کر ہی لیا ہے اب وہ سینٹ چئیرمین اور میاں صاحب ڈسکہ کا ضمنی الیکشن لڑرہے ہیں ۔ یہ صرف آصف علی زرداری / بھولے بادشاہ کی کامیابی ہے۔ 

پی ڈی ایم کی بات کریں تو ضمنیوں کے بعد باقی بچے لانگ مارچ میں اسلام آباد میں بندے اکٹھے کرنا اور اسٹیبلشمنٹ کو ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے میں اسکا مشترکہ ایک کردار ہے۔ اگر میثاق جمہوریت کا پارٹ ٹو لکھا جائے اور اسی کو لیکر باقی ماندہ حکومت اگر ملے ، اگلے الیکشن اور اگلی چار حکومتوں تک پھیلایا جائے اور جدوجہد کو فوج کے سیاست سےمکمل انخلاء تک جاری رکھنے کا عندیہ دیا جائے تو سمجھ میں آتا ہے وگرنہ دوڑ اپنی اپنی ہے۔ پی ڈی ایم مشرق اور مغرب سے تعلق رکھنے والی عوامی مذھبی اور مغربی افکار کی جماعتوں کا مجموعہ ہے جنکی اپنی ووٹ بیس اور حلقے ہیں۔ کسی لکھے گئے متفقہ آئینی چارٹر کے بغیر یہ جلد طاقتور پاور ہنگری اقتدار پسند اسٹیبلشمنٹ کے گھیرے میں آسکتے ہیں۔ نہ یہاں کوئی نوابزادہ نصراللہ خان ہیں اور نہ ہی محترمہ فاطمہ جناح موجود ہیں جو ان تمام اکائیوں کو ایک چھابے میں زیادہ دیر ٹھہرا سکیں۔ ہٹ دھرمی، انا پرستی اور جذباتی بانکپن اور شفاف میڈیا کا نہ ہونا بہت سے معاملات کو خراب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پی ڈی ایم ملک میں لانگ ٹرم سولین حکومت اور جمہوریت کی بقاء کے لئے اب کوئی کردار ادا کرسکتی ہے۔ جیسے ہی کسی ایک کو حکومت ملی تو یہ نیب ہوگی اور ؀یہی ہم ہیں دوستو ہوگا۔ وسیع تر جمہوری رویوں اور سیاست سے فوج کی مکمل بے دخلی کے لئے اسٹیبلشمنٹ سے ڈائیلاگ بھی اگر پی ڈی ایم کے فورم سے ہو تو اچھا ہوگا ۔ اس ڈائیلاگ میں اسٹیبلشمنٹ خود یا اپنی پراکسی کے زریعے بیٹھ سکتی ہے۔ یہ ڈائیلاگ نیشنل سیکوریٹی کونسل یا سپیکر کے زریعے طلب شدہ کراس پارٹی ان کیمرہ پارلیمانی کانفرنس کے زریعے ہوسکتا ہے۔ انُ سے کن سے کونُسے سے پوچھا جاسکتا ہے کہ مصر ، ترکی، برما افغانستان اور کشمیر کے حالات دیکھتے ہوئے انکے مستقبل میں کیا ارادے ہیں۔ وہ راستہ کیسے دیں گے انکی کیا قیمت ہے یا وہ کیسے مطمئن ہوں گے کیونکہ پاکستان اس دو رخی بناء سمت قومی زندگی سے پاکستان بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہا اور ترقی کی پٹری سے بار بار چڑھ کر اتر رہا ہے۔ راستہ دیں اور راستہ لیں کی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا۔ وہ جو کام کھل کر غیر آئینی طریقے سے کررہے ہیں اسکی حوصلہ شکنی اور کچھ کردار متعین کرنا ہوگا تاکہ اسٹیبلشمنٹ کہلوانے والے اداروں یعنی فوج،عدلیہ، الیکشن کمیشن کا من حیث الادارہ ایک غیر جانبدار کردار رہے تاکہ پارلیمان ان سے استفادہ حاصل کرسکے ۔اگر ہم ناکام ہوئے تو آہستہ آہستہ خدانخواستہ جو ہو رہا ہے اسکو دیکھتے ہوئے خاکم بدہن اس ڈائیلاگ کے اہتمام کے لئے ملک ، علاقہ یا لوگ موجود نہیں رہیں گے۔ اللہ کرے دانش مندی اپنا راستہ بنائے اور سیاستدان من حیث القوم بائیس کروڑ لوگوں کو مایوس نہ کریں۔ 

تین دفعہ کے وزیراعظم نواز شریف صاحب کی اگر بات کریں تو وہ ایک شریف النفس انسان ہیں۔ وضع داری، بھولا پن اور قدامت پسندی سے مذین ہے۔ انکے بیانئے ووٹ کو عزت دو میں وزن ہے۔ انکا بیانیہ سچا بھی ہے تاریخی بھی اور ستھرا بھی ہے اور عوام کی امنگوں اور تاریخ سے ہم آہنگ ہے۔ یہ ایسا نعرہ ہے جو قومی یگانگت، مذھبی روحانیت اور جدت بھی رکھتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ہارنے اور جانے کے بعد جو بائیڈن کی وجہ سے اس نعرے کو بین الاقوامی احترام بھی ملا ہے۔ لیکن انکی جماعت کے اکثر لوگ عملیت پسند ، حلقہ کی سیاست پر یقین رکھنے والے اور لانگ مارچ سے خوفزدہ اور ووٹ کے طاقت سے معاملات بدلنے کی طرف مائل بہ کرم لگتے ہیں جو کہ شائد میرے مشاہدے کی بجائے وہم ہو۔ انکا بس چلے اور راستہ ملے تو آج مسلم لیگ کی نائب صدر  مریم نواز شریف کو جہاز پر لندن روانہ کرکے کسی طرح کا ڈائیلاگ شروع کرنے کی کوشش کو سپورٹ کریں۔ استعفے دینے والے ، جدوجہد سالوں تک بنا حکومت کرنے والے ، اور اسٹیبلشمنٹ کی غیر آئین غیر قانونی اور غیر منصفانہ کاروائیوں کو برملا الاعلان برا بھلا کہنے والے مجنوں بہت کم ہیں۔ سو نواز شریف کا بیانیہ ٹاپ پر پر حقیقتاً اسلے لئے عملی جدوجہد،  ؤوٹ ڈالنے والی مشق کی نسبت کم ہے۔ آج بلدیاتی انتخاب کا اعلان ہو اور استعفی دینے ہوں تو کارکن ہلکا ہلکا محبت کے باوجود الیکشن میں حصہ لینے کا کہیں گے۔ سول اور فوجی اشرافیہ اور تھنک ٹینک مسلم لیگ کی اس کمزوری سے غالباً واقف ہیں۔ نواز شریف کے اتنی محنت اور تسلسل سے مشکلات کے باوجود جنرل باجوہ کی توسیع کے وقت اصولی اختلاف نہ کرکے اور جلدی میں بناء شرائط ہاں کرکے مسلم لیگی اکابرین اس بیانئے کی ماہیت کو نقصان پہنچا چکے ہیں۔ جو موقف جنرل راحیل شریف کی دفع اپنایا گیا تھا وہ مضبوط آئینی اور منافقت سے پاک ملکی مفاد میں تھا۔ اس موقف نے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور کم اہل افراد کو زیادہ عرصہ ملک سے کھل کھیلنے کا موقعہ ملا ہے۔ تب ہی تو گوجرانوالہ یا بعد میں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے نیم اور شیم کرنا پڑ رہی ہے۔ سینٹ الیکشن اور ضمنی انتخاب میں عملیت پسندی اور ووٹ کو عزت دو کی عملی شکل میں حصہ لیکر نوا ز شریف  اپنے حلقہ یاراں کو خوش کر چکے ہیں۔ آصف علی زرداری صاحب پی ڈی ایم کو ضمنی /سینٹ الیکشن میں حصہ لینے پر داد و تحسین بھی وصول کررہے ہوں گے۔ اب مارچ میں ضمنی انتخابات /سینٹ میں ووٹیں ڈلوا کر لانگ مارچ کے زریعے دوبارہ سڑک کو رونقیں بخشنا ہیں۔ لوگوں کی نواز شریف سے محبت ان سے انسیت اس بات سے عیاں ہے کہ کسی ایک ممبر نے اپنی جماعت نہیں چھوڑی اور اسٹیبلشمنت کے ایک پیج پر ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن  ابھی تک پییٹریاٹ سے پاک ہے۔ بلکہ اب تو سرکاری جماعت میں چھپے محب الوطن اور اقتدار کے نشے سے مجبور اصحاب جوق در جوق باہر آنے کیلئے تیار ہیں۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے ابسوچنا یہ ہے کہ  بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔ پنجاب ہی پاکستان نہیں ہے اور اکیلی ن لیگ پورے پاکستان کی واحد جماعت نہ ہے۔ ایسے میں سویلین  حکمرانوں اور جماعتوں کو من حیث القوم یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اقتدار چاہیے یا اختیار۔ اقتدار یا اختیار دونوں کے اپنے فوائد اور نقصان ہیں اور دونوں کی اپنی جہتیں اور جدوجہد ۔ اگر اختیار چاہیے تو جی ٹی روڑ حاضر ہے احتجاج زندہ کریں اور اس حکومت کو ختم کریں اور ختم کرنے کے بعد نئے الیکشن کے لئے ملکر جدوجہد کریں ۔ اگر احتجاج کامیاب ہو تو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کریں اور انکو پیچھے ہٹنے کا راستہ دیں اور دوبارہ انکی پیش قدمی روکنے کے لئے قانون سازی کریں۔ جیت کی صورت میں میثاق جمہوریت کی طرز پر اہداف طے کریں اور پہلے نوے دن میں اسکا اعلان کریں۔ اگر یہ کام ن لیگ اکیلے بھی کرے تو بھی میثاق جمہوریت کی طرز پر گراؤنڈ رولز طے ہونے چاہیے وگرنہ جن طاقتوں نے مسلم لیگ کو پانچ سال نیب ختم نہیں کرنے دی وہ اگلے بیس سال بھی سیاستدانوں کو  دائروں میں گھمانے کے وسائل اختیارات اور نفری رکھتے ہیں ۔ اب اگر دیکھا جائے تو نواز شریف کی طاقت ووٹ کی طاقت میں پنہاں ہے سٹریٹ کی طاقت میں نہیں۔ ووٹ زیادہ طاقت میں ہیں اور سڑکوں پر احتجاج کرنے والی نفری بندوقوں والی نفری سے کم ہے۔ سیاسی جماعتوں کو وارڈ لیول تک منظم انداز میں عملی اقدامات کے زریعے پارٹی منظم کرنا ہوگی تاکہ نہ صرف ووٹ محفوظ ہو بلکہ اسکی حفاظت بھی ممکن ہو۔ڈسکہ انتخاب اسکی اعلی مثال ہے۔ دوسرا اگر عملیت پسندانہ ووٹ کے زریعے احتجاج اور انتقام ہی اگلی حکمت عملی ہوگی تو ہم اختیار کے حق اور نیب کے ہاتھوں سینکڑوں پیشیاں بھگتنے کو کہاں رکھیں گے۔ مسلم لیگ نواز عملیت پسندی کی زریعے حکومت بنا بھی سکتی تھی اور آر ٹی ایس فیل ہونے اور ڈبے اٹھ جانے کے بعد بھی ڈائیلاگ کے زریعے پنجاب حکومت بھی بنا اور بہتر چلا بھی سکتی تھی تاکہ سٹیک ہولڈر رہتی اور بحیثیت ایک مقبول جماعت کے پیپلز پارٹی کے ہم پلہ بھی ہوتی ۔ سوال اٹھتا ہے کہ وہ سب کیوں نہیں کیا گیا تاکہ ہم پنجاب کیساتھ ہونے والی اس سوتیلی ماں کے سلوک سے محفوظ رہتے۔ فوج کا سیاست میں عمل دخل نہ ہو اور اسٹیبلشمنٹ صرف آئینی اقدامات کرے یہ خواہش ایک نیک اور پاکستانیت پر مبنی ہے۔مسلم لیگ نواز کی اکثریت پردہ کے پیچھے کھل کر فوج کی مخالفت نہیں کرنا چاہتی۔ ڈائیلاگ کی حامی اور اقتدار پسند جماعت ہے۔ سندھ نے اپنے مینڈیٹ کی حفاظت کی اور پنجاب میں ہم لٹ گئے اور کسی نے آبیاری نہ کی ۔ انُ وجوہات کا جائزہ لینا ہوگا اور احاطہ کرکے پیش بینی کرنا ہوگی تاکہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔ احمد وصی کا شعر حالات کی مناسبت سے یاد آرہا ہے کہ ؀زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا گر یہ طے ہے کہ وہی کھیل  دوبارہ ہوگا۔اللہ مددگار ہو۔ 

اب جاتے جاتے تھوڑی سے بات پاکستان کی کرلیں ۔ یہ ملک قائداعظم نے ایک پناہ گاہ کو طور پر پرچی کی طاقت کے زریعے بنایا تھا جہاں مسلمان ہند سکھ اور سکون کا سانس لے سکیں ۔ گروہی اختلافات مسلک زبان رنگ و نسل یا زات پات کی اونچ نیچ سے یہ ملک ماواراء ہونا چاہیے تھا۔ اب بھی پاکستان میں رول آف لاء آئین اور قانون کی بالادستی ، انصاف ، امتیازی سلوک کا خاتمہ ، آزاد میڈیا، اور آزاد خودمختار جمہوریت ہوسکتی ہے اگر ہم یہ تہیہ کرلیں کہ ہم اسے قائد اعظم اور فاطمہ جناح ، ذوالفقار علی بھٹو  اور بے نظیر بھٹو اور نواز شریف اور شہباز شریف کا ملک بنا کر چھوڑیں گے اور جنرل ایوب خان ، جنرل ضیاءالحق ، جنرل پرویز مشرف کی آمریتوں قصہ پارینہ بنا کر دم لیں گے۔ یہ تمام کاروائی عملیت پسندی مشقت قربانی ، ایماندارانہ جدوجہد اور سخت محنت کی متقاضی ہے۔ مارچ کا مہینہ دلچسپ ہے اور پاکستان انہونیوں کا مرکز ہے یہاں کبھی بھی، کہیں بھی اور کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ امریکہ کی طرح یہاں بھی اقتدار کے سنگھاسن پر چڑھتے اور اترتے دیر نہیں لگتی- واصف علی واصف فرماتے ہیں " غرور کسی انسان میں اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک وہ بدقسمت نہ ہو"  تکبر چاہے علم کا ہو، عقل کا ہو یا حسن کا انسان کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔ آج کل تکبر سر چڑھ کر بول رہا ہے اور ات خدا دا ویر اللہ خیر کریں۔ 

بیرسٹر امجد ملک  ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز برطانیہ کے چئیرمین اور سپریم کورٹ بار اور ہیومن رائیٹس کمیشن پاکستان کے تاحیات رکن ہیں -

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -