انسانیت دوست  سفارتکاری

انسانیت دوست  سفارتکاری
انسانیت دوست  سفارتکاری

  

چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے ملک کی اہم ترین سیاسی سرگرمی "دو اجلاسوں" کے موقع پر چین کی خارجہ پالیسی کے اہم نکات کی مفصل وضاحت کی ہے اور عالمی اور علاقائی امور میں چین کے موقف کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا ہے۔ایک بڑے ملک کی حیثیت سے چین نے انسانیت کے مشترکہ مفاد میں ایک مرتبہ پھر عالمی برادری بالخصوص دنیا کے اہم ممالک  پر زور دیا کہ انسداد وبا کی خاطر سستی اور قابل رسائی ویکسین کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔چین نے اس امید کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی برادری مل کر کام کرتے ہوئے کثیر الجہتی کی مشعل کو انسانیت کی ترقی کے لیے آگے بڑھا سکتی ہے۔

یہاں اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چین اپنے عملی اقدامات سے کثیر الجہتی اور انسانیت کےمشترکہ مفاد کے نظریے پر کاربند ہے ،باقی ممالک کی طرح محض کھوکھلے بیانات کبھی بھی چین کی پالیسی نہیں رہی ہے۔چین دنیا کی واحد اہم معیشت ہے جس نے سال 2020 میں مثبت شرح نمو حاصل کی ہےاور ترقی کے ثمرات کا باقی دنیا کے ساتھ بھرپور تبادلہ کیا گیا ہے۔دنیا میں سنگین وبائی صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے چین نے 1949میں اپنے قیام کے بعد اب تک کے سب سے بڑے "ہنگامی انسانی ہمدردی" منصوبے کا آغاز کیا۔ چین نے انسداد وباکی خاطر ویکسین کی دستیابی کو عام کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا  اور ہنگامی بنیادوں پر ضرورت مند 69 ترقی پذیر ممالک کو بلا معاوضہ امدادی ویکسین فراہم کی گئی جبکہ 43 ممالک کو ویکسین برآمد کی جا رہی ہے۔چینی وزیر خارجہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ چین ویکسین سے متعلق قوم پرستی یا پھر ویکسین پر سیاست کی بھرپور مخالفت کرتا ہے۔

انسانیت دوست سفارتکاری کے ساتھ ساتھ حالیہ برسوں میں دنیا نے دیکھا کہ پر امن بقائے باہمی کے تحت تعلقات کا فروغ چین کی سفارتکاری کا نمایاں ترین پہلو رہا ہے۔چین نے روس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے فروغ سے عالمی سطح پر اہم طاقتوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کا ایک نیا ماڈل متعارف کروایا ہے۔ چین۔امریکہ تعلقات کے حوالے سے چین کی خارجہ پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں ،چین باہمی تعلقات کی پائیدار اور مستحکم ترقی کو درست سمت پر واپس لانے کے لئے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔چین کی جانب سے یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ امریکہ دو طرفہ تعاون کی راہ میں حائل اپنی تمام غیر دانشمندانہ پابندیاں ختم کرئے گا اور دونوں بڑے ملک انسداد وبا، معاشی بحالی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھا سکیں گے۔چین نے امریکہ پر واضح کیا کہ ایک چین کا اصول ایک "سرخ لکیر" ہے جسے عبور نہیں کرنا چاہئے اور نئی امریکی انتظامیہ کو تائیوان سے متعلق سابق ٹرمپ انتظامیہ کی "خطرناک روش" اپنانے سے باز رہنا چاہیے۔

چین کی جانب سے ایک مرتبہ پھر سنکیانگ میں نام نہاد "نسل کشی" کے بیانیہ کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد، جھوٹ اور افواہ قرار دیا گیا ہے۔حالیہ برسوں میں چین نے ہمیشہ یہ موقف اپنایا ہے کہ بیرونی ممالک کی شخصیات کے دورہ سنکیانگ کا خیر مقدم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے سچ دیکھ سکیں اور خود افواہ سازوں کو شکست دے سکیں۔یہ امر قابل زکر ہے کہ گزشتہ چالیس برسوں میں سنکیانگ میں ویغور قومیت کی آبادی  پچپن لاکھ پچاس  ہزار سے بڑھ  کر ایک کروڑ بیس لاکھ تک جا پہنچی ہے، گزشتہ ساٹھ برسوں میں سنکیانگ  کے  مجموعی معاشی حجم میں 200 گنا سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔اوسط متوقع عمر 30 سال سے 72سال تک  جا پہنچی ہے۔اس کے برعکس سنکیانگ سے متعلق مغربی میڈیا اور چند مغربی سیاستدانوں کے بیانات سنکیانگ کی ترقی اور خوشحالی کی نفی کرتے ہیں اور محض جھوٹ کی بنیاد پر سنکیانگ کی ترقی اور استحکام کو نقصان پہنچانے اور چین کی ترقی کو روکنے کے درپر ہیں۔

چین نے اپنی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ عالمگیریت اور کثیر الجہتی کی اعلانیہ حمایت کی ہے اور چینی وزیر خارجہ کی میڈیا بریفنگ میں بھی ایک مرتبہ پھر " بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو" کی مشترکہ ترقی کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ چین کا موقف ہے کہ بی آر آئی بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے  کا عمدہ مظہر ہے اور دنیا میں وبائی صورتحال کے باوجود بی آر آئی تعاون کو مزید فروغ ملا ہے جس کے شاندار نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ چین " بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو" کی اعلیٰ معیار کی مشترکہ تعمیر کو یقینی بنانے کے لئے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر  آمادہ ہے۔

پاکستان کے تناظر میں چین۔پاک اقتصادی راہداری کو بی آر آئی کا فلیگ شپ منصوبہ قرار دیا جاتا ہے اور وبا کے باوجود سی پیک کے اہم منصوبہ جات کی تکمیل چین۔پاک دوستی کا بہترین مظہر ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی میں چین کے ساتھ تعلقات کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ رواں برس سفارتی تعلقات کے قیام کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں ملک روایتی دوستی کو عوامی مفاد میں کس انداز سےآگے بڑھاتے ہیں اور پاکستان کیسے چین کے ترقیاتی ثمرات سے استفادہ کرسکتا ہے۔  

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -