سیاسی جماعتوں میں موروثیت کا ذمہ دار  کون ؟  سینیٹر ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی حیران رہ جائے

سیاسی جماعتوں میں موروثیت کا ذمہ دار  کون ؟  سینیٹر ساجد میر نے ایسی بات کہہ ...
سیاسی جماعتوں میں موروثیت کا ذمہ دار  کون ؟  سینیٹر ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی حیران رہ جائے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سربراہ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے رہنما سینیٹر پروفیسرساجد میر نے کہا ہے کہ عمران خان کے دعوؤں اور بھاشن کی اصلیت  تو سب کے سامنے کھل چکی ہے،سیاست میں موروثیت خاندانوں یا سیاسی جماعتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کی پسند اور نا پسند کا معاملہ ہے،نواز شریف اگر فوج کی گود میں پلے بڑھے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ "ایک زرداری ،سب پر بھاری"والی بات پرمیں اتفاق نہیں کرتا۔

معروف صحافی اور اینکر پرسن جواد فیضی کے یوٹیوب پروگرام"چوتھا ستون"میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ساجد میر  نے کہا کہ سیاست اور اپنی جماعت  میں ،میں نہ کسی کا وارث ہوں اور نہ ہی کوئی میرا وارث ہے،میرے دو بیٹے اپنے ،اپنے کام میں مصروف ہیں اور اُن کا جماعت کی عملی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے،سیاست میں موروثیت خاندانوں یا سیاسی جماعتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کی پسند اور نا پسند کا معاملہ ہے،لوگوں کو جب کسی لیڈر شپ سے محبت ہوتی ہے تو پھر اس کے یہ جذبات اپنے لیڈر کے تمام متعلقین کے لئے بھی ہوتے ہیں،یہ عوام ہی پسند کرتے ہیں کہ فلاں لیڈر کے بعد اس کے بیٹے یا بیٹی کو آگے آنا چاہئے،اگر سیاست میں موروثیت بری بات ہے تو یہ عوام کا قصور ہے لیڈروں کا نہیں ۔

اُنہوں نےکہاکہ پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت  بڑی دیرینہ ہے،لیاقت علی خان کی شہادت سےشروع ہونےوالا سلسلہ ابھی تک برقرار ہے، پوری دنیا میں اسٹیبلشمنٹ کا عمل دخل ہوتا ہے لیکن مداخلت نہیں ہوتی ،نواز شریف اگر فوج کی گود میں پلے بڑھے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟کسی کی گود میں پلنے بڑھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ،جب وہ سنِ شعور کو پہنچتا ہے تو اپنے تجربات اور اپنے علم کی روشنی میں جو مرضی رویہ اختیار کرے ۔

ایک سوال کے جواب میں سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوتے ہیں ،ایک پارٹی میں بھی اختلاف رائے ہو سکتا ہے تو اتحادی جماعتوں میں تو ہونا ہی ہونا ہے تاہم اختلاف رائے کے بعد فیصلے اتفاق رائے سے ہی ہوتے ہیں،لانگ مارچ پنڈی جائے گا یا اسلام آباد؟15مارچ کو پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں فیصلہ ہو جائے گا اور تب تک  لانگ مارچ کی تیاریاں بھی کافی آگے بڑھ چکی ہوں گی ۔

وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے لانگ مارچ موخر کرنےیا آگےبڑھانےکے سوال کےجواب میں اُنہوں نےکہا کہ شیخ رشید کیا کوئی تاریخ دیتے ہیں کہ ملک سے دہشتگردی کب ختم ہو گی ؟دہشتگردی کا خطرہ تو بڑے عرصے سے ہے، اس کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں ختم تو نہیں کی جا سکتی؟حکومت کی جانب سے  چیئرمین سینیٹ کا الیکشن جیتنے کے دعوے پر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ حکمران ایجنسیوں کی مداخلت اور خرید و فروخت پر یقین رکھتے ہیں ، چیئرمین سینیٹ کے اپوزیشن کے نمبرز پورے بلکہ کچھ زیادہی ہی ہیں ،اراکین اپنے ضمیر اور پارٹی کے مطابق ووٹ دیں ۔

سینیٹرساجد میر نے کہا کہ ڈسکہ الیکشن حکومت کےسرپربدنامی کاٹیکہ اور نہ مٹنے والا داغ ہےجس کو تھوڑاسا دھونے کی کوشش الیکشن کمیشن نے کی ہےجو اچھی کوشش ہےاوراس کی تحسین ہونی چاہئے،عمران خان کےدعوؤں اور بھاشن کی اصلیت  تو سب کے سامنے کھل چکی ہے،ڈسکہ الیکشن کے معاملے میں میرا خیال تھا کہ شائد وہ اپنی شخصیت،منصب اوروقار کاتھوڑا سا بھرم رکھتے ہوئے اور کچھ نہیں تو خاموشی اختیار کر لیں گے لیکن اُنہوں نے خاموش رہنے کی بجائے الیکشن کمیشن کے خلاف باقاعدہ چارج شیٹ لگاتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہمارا موقف سنے بغیر غلط فیصلہ کیا ۔

ایک اور سوال کے جواب میں سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ "ایک زرداری ،سب پر بھاری"والی بات پرمیں اتفاق نہیں کرتا تاہم وہ پرانے اور عقلمند سیاست دان ہیں،اُنہوں نے اپنے پتے پہلے بھی  اچھے کھیلے ہیں اور اب بھی ،اِس معاملے میں وہ کافی ماہر ہیں ،رہی "سب پر بھاری "ہونے کی بات  تو یہ بحث طلب سوال ہے۔ 

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -