جنسی ہراسانی کیس میں بریت کے بعد لارڈ نذیر احمد کا بھی موقف آ گیا 

 جنسی ہراسانی کیس میں بریت کے بعد لارڈ نذیر احمد کا بھی موقف آ گیا 
 جنسی ہراسانی کیس میں بریت کے بعد لارڈ نذیر احمد کا بھی موقف آ گیا 

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر پاکستانی نژاد برطانوی سیاستدان لارڈ نذیراحمدنےجنسی ہراسانی کیس میں بریت پراللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہاہے کہ برطانوی عدالت نےانصاف اورحق سچ پرمبنی فیصلہ دیاہے،یہ کیس سراسرجھوٹ اوربد نیتی پرمبنی تھاجس کا مقصد صرف میری بدنامی تھا،اس کیس کے حوالے سے پولیس اور سی پی ایس کے خلاف انکوائری ہونی چاہئے۔

تفصیلات کےمطابق برطانوی عدالت سےبریت کےبعد پاکستانی میڈیا سےگفتگو کرتےہوئےلارڈ نذیراحمد کا کہنا تھا کہ اس جھوٹےکیس کی بریت پر اللہ کےبعد میں اپنی لیگل ٹیم،فیملی اور دوستوں کا بھی شکرگذار ہوں کہ جو پچھلے پانچ سال سے ڈٹ کر میرے ساتھ کھڑے تھے،مجھےبدنام کرنےکےلئےیہ الزام لگایا گیا تھا ، ان الزامات پر پولیس نے ڈھائی سال تحقیقات کیں ،آج بھی عدالت کےجج نےیہ کہاہےکہ اس کیس میں پولیس کی تحقیقات انتہائی ناقص تھی،جب مجھ پر یہ الزامات لگائےگئےتو ان کے پاس ڈھائی سال تھےلیکن پراسیکیوشن نےکوئی ثبوت پیش نہیں کیا،15 فروری کو جب ٹرائل شروع ہوا تو یہاں پر جیوری کو چننے میں پورا ایک دن لگا جبکہ22فروری کو جج صاحب نے جیوری کو ڈسچارج کردیا ۔

لارڈ نذیر کا کہنا تھا کہ میں جج صاحب کے حوالے سے کہنا چاہتا ہوں کہ اُنہوں  نے بڑے اچھے طریقے سے قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے پراسیکیوشن اور ڈیفنس کی جانب سے دیئے جانے والے دلائل کو  پورے دو ہفتے تک سنا اور آج انہوں نے مضبوط  الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ انتہائی کمزور کیس تھا اور اس میں کوئی جان ہی نہیں تھی ،انہوں نے انصاف پر مبنی فیصلہ دیا ہے،پراسیکیوشن اس کیس کو اگر آگے لیجانا چاہتی ہے تو پھر بھی دیکھا جائے گا ،ہمارا موقف بڑا کلیئر ہے کہ یہ کیس جھوٹ اور بد نیتی پر مبنی تھا جس کا مقصد صرف میری بدنامی تھا ،میں سمجھتا ہوں کہ اس کیس کے حوالے سے پولیس اور سی پی ایس کے خلاف انکوائری ہونی چاہئے ،اس کیس پر اٹھنے والے اخراجات وصول کئے جائیں گے ۔

انہوں نے کہاکہ جب میں پہلےکورٹ آتاتھاتوبرطانوی میڈیا غلط قسم کی بات اور گندی کوریج دینےکےلئےعدالت کےباہرہمیشہ کیمروں سمیت موجودہوتاتھا لیکن آج برطانوی میڈیاکاایک کیمرہ بھی نہیں ہےتاہم یہاں پرمیرے اپنےپاکستانی اورکشمیری بھائی بھی موجود ہیں جن کا میں شکر گذار ہوں ۔

مزید :

برطانیہ -