”پانی اور ہمارے رویے“

”پانی اور ہمارے رویے“
”پانی اور ہمارے رویے“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


موسم سرما کی آمد آمد ہے، بہار کا موسم ہے، جس میں پانی کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ پانی کے بغیر کوئی جاندار شے زندہ نہیں رہ سکتی۔ ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لئے صاف پانی سے گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے کولر لگائے جاتے ہیں، گھروں کو دھونے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کپڑے زیادہ جلدی گندھے ہو جاتے ہیں۔ان کے دھونے کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے۔ فضا بھی آلودہ رہتی ہے۔ انسان دن میں کئی  بار غسل کرتا ہے۔ یہاں تک کہ جانور بھی سخت گرمی میں پانی میں رہنا پسند کرتے ہیں۔پاکستان کے کافی علاقوں میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ دور دور سے بھر کر لانا پڑتا ہے۔ خواتین اپنے سروں پر گھڑے اور ہاتھ میں بچے اٹھائے یہ منزل طے کرتی ہیں، پھر گھر کے آدمیوں کا پیٹ بھرتی ہیں۔اگرچہ کچھ شہروں کا بھی یہی حال ہے۔ خاص طور پر کراچی جیسے بڑے شہر میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں، ٹینکر آتے ہیں اور رقم لے کر پانی فروخت کرتے ہیں۔ بڑی مشکل سے لوگ روزمرہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس کی نسبت کئی بڑے شہروں میں پانی بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے، حکومت نے پانی کا بل مقر کیا ہوا ہے۔ چاہے وہ جتنا مرضی پانی استعمال کرے یا ضائع کرے، کوئی مسئلہ نہیں، کوئی خدا کا خوف نہیں۔ گھر کے باہر فرش پر پانی چھوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ ایک بالٹی سے بھی فرش صاف کیا جا سکتا ہے، مگر کیا کیا جائے، نوکرانی کو سمجھایا نہیں جا سکتا۔ یہ نظارہ قابل دید ہوتا ہے۔ جب وہ پائپ کے ذریعے یہ عمل کر رہی ہوتی ہے۔ اس موقعہ پر وہ جھاڑو کا استعمال نہیں کرتی۔


ایک فوارے کی شکل میں پانی اس کے جسم پر بھی گرتا ہے جس سے اسے سکون حاصل ہوتا ہے، پھر ملازم ملتے کہاں ہیں، اس کے مرضی سے کام کرنے میں ہی بھلائی ہے۔ہر خوشی کے موقعہ پر عیدی، کپڑے، تحفے اس کا حق ہے۔ اس کے بچوں کی شادی بھی آپ کے ذمہ ہے، روزمرہ کھانے پینے کا بندوبست بھی آپ نے کرنا ہے، ورنہ اس کے لئے اور گھر بہت ہیں۔دوسری جانب حکومت کی طرف سے پانی کے ناجائز استعمال پر پابندی لگائی گئی تھی۔ یہ معاملہ شاید ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔ ورکشاپ والوں نے پھر سے موٹر سائیکل اور گاڑیاں صاف پانی سے سروس کرنا شروع کر دی ہیں۔ اچھے خاصے چار جز وصول کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ اس سے صاف پانی بہت استعمال ہو رہا ہے۔کمال کی بات ہے کہ گندے پانی سے فصلیں سراب کی جاتی ہیں۔ سبزیاں بھی گندے پانی سے تیار کی جاتی ہیں، جس کے انسانی صحت پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عوام مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ان کے معدے خراب ہو گئے ہیں، پیٹ مٹکے ہو گئے ہیں۔ ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔ مگر اس مافیا کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جاتی۔ اگر کی بھی گئی ہے تو کچھ دنوں کے لئے۔پھر وہی صورت حال ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ منافع حاصل کرنے لگے ہیں۔


حکومت کے خزانے میں کچھ نہیں جاتا۔ کچھ لوگوں کی جیبوں میں ضرور جاتا ہے،اس لئے پانی کے غلط استعمال کو روکا نہیں جا سکا۔ حکومت نے عوام کی سہولت کے لئے ملک میں صاف پانی کے فلٹر پلانٹ لگائے، مگر افسوس جو منظر دیکھنے کو ملتے ہیں، دل بہت دکھتا ہے۔ اس فلٹر پانی سے برتن کپڑے وضو کے نام پر ہاتھ پاؤں ناک جوتے دھونے کا عمل نظر آتا ہے۔ اگر منع کیا جائے تو لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتے ہیں اور مذہب کو درمیان میں لے آتے ہیں۔ہم وضو کر رہے ہیں،پھر دوسرا منظر فلٹر پانی سے رکشہ گاڑیاں دھونے کا عمل بھی ہے۔ باقی کسر ریڑھی والوں نے پوری کر دی۔ رہڑی پر نیلے کالے ڈرم بھر کر لے جاتے ہیں،ان پر کائی جمع ہوئی ہوتی ہے۔اگر روکا جائے تو کہتے ہیں غریب آدمی کو پانی سے روکتے ہو،اسی پانی سے سارے کام کرتے ہیں،کپڑے دھونا، برتن کھانا پکانا جانوروں کو پانی پلانا، خود نہانا پھر بچوں کی بے شمار تعداد اس فلٹر پانی سے سارا دن نہاتی کھیلتی نظر آئے گی۔ پوچھا جائے تو کہتے ہیں، بچے ہیں گرمی ہے، اس فلٹر پانی سے نہانے دو اور کھیلنے دو۔ غریبوں کے گھر اے سی تو نہیں ہے۔ 


اب گھروں کی بات ہو جائے۔ چھتوں پر بڑی چھوٹی ٹینکیاں لگی ہوئی ہیں، اس میں سرکاری پانی ٹیوب ویل کے ذریعے پہنچ رہا ہے، پھر بھر جاتا ہے،یہاں تک کہ اوور فلو ہو کر بہنے لگتا ہے، چھت اور دیوار خراب ہو گئی ہے، مگر عمارت والے کو احساس نہیں۔ اس نے کوئی اسٹاپر یا گولہ ٹینکی میں نہیں لگوایا ہوا۔دوسرے اسے مقررہ بل آتا ہے۔اس سے بات کی جائے کہ پانی ضائع نہ کرو،تو فرماتے ہیں ہم بل ادا کرتے ہیں، کیا وہ پانی کا صحیح بل ادا کرتے ہیں؟ علمائے دین سمجھا سمجھا کر تھک گئے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا دریا کے کنارے وضو کر رہے ہو تو بھی پانی ضائع نہ کرو، مگر افسوس ہم پر اثر ہی نہیں ہوتا۔ مسجدوں میں بھی ٹوٹیاں لگی ہوتی ہیں،پانی کا کھل کر استعمال ہوتا ہے، جبکہ ایک لوٹے سے بھی وضو ہو سکتا ہے،ایک بالٹی کے پانی سے غسل ہو سکتا ہے۔ماہرین رائے دے رہے ہیں کہ پانی کی سطح بہت نیچے جا چکی ہے، مگر ہم یقین نہیں کرتے، بلکہ پہلے سے زیادہ پانی کا استعمال کرتے ہیں، کئی کئی دن ٹیوب ویل چلتا رہتا ہے اور پارکوں میں پانی لگایا جاتا ہے، جبکہ وہاں گھاس پیدا کی جاتی ہے، اس میں کوئی پھل، سبزی کا کوٹہ مخصوص نہیں کیا گیا جس سے کوئی فائدہ بھی ہو۔مسجدوں کے وضو کا پانی پارکوں میں ڈال دیا جائے، تو ٹیوب ویل و بجلی خرچ کرنے کی ضرورت نہیں، جب تک حکومتی ادارے باہر نکل کر کام نہیں کریں گے، مسئلہ حل نہیں ہو گا اور آئندہ پانی کے مسئلے پر مقامی اور ملکی سطح پر جنگیں ہوں گی۔

مزید :

رائے -کالم -