سندھ میں انتخابات کانتیجہ کیا ہوسکتاہے؟

سندھ میں انتخابات کانتیجہ کیا ہوسکتاہے؟

  

سندھ میں اگرچہ قومی اسمبلی کی 61نشستوں پر اُمیدواروں کا انتخاب ہونا تھا لیکن کراچی کے ایک حلقے میں اُمیدوار کے قتل کے سبب وہاں پولنگ نہیں ہوگی اور اب60نشستوں پر ہی چناﺅ ہوسکے گا۔صوبہ سندھ کو پیپلز پارٹی کا ”آبائی گھر“ کہاجاتا ہے، مگر چونکہ پیپلز پارٹی نے کسی لحاظ سے گزشتہ دور میں اچھی کارکردگی کامظاہرہ نہیں کیا لہٰذا عام خیال یہ تھا کہ اسے سندھ میں قومی اور صوبائی اسمبلی دونوں جگہ چناﺅ میں عوام کی جانب سے غیر معمولی طور پر مسترد کیاجائے گا مگر یہ اندازہ صحیح ثابت نہیں ہوا اور خیال کیا جارہا ہے کہ وہ نصف یعنی 30 نشستیں باآسانی جیت لے گی، اگر واقعی ایسا ہوا اور 11مئی کے انتخابی نتائج نے یہ توقع پوری کردی تو پیپلز پارٹی کے لئے اطمینان بلکہ جشن کی بات ہوگی، اسی طرح سے ایم کیوایم کے بارے میں تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ وہ 15سے17نشستیں جیت کر اپنی سابقہ پوزیشن برقرار رکھے گی ۔ اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ باقی ماندہ 15یا 13 نشستوں پر کامیاب ہونے والے اگر ایک جان اور ایک جسم میں بھی ڈھل گئے تو سندھ کی روایتی سیاسی صورت کو بدلنے سے قاصر رہیں گے، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے پانچ سال تک شراکت داری کے ساتھ اقتدار اپنی گرفت میں رکھا۔ انتخابی مہم کے دوران بھی ان کی ”ہم خیالی“ نے جس میں اے این پی بھی شریک ہے ، مستقبل کانقشہ واضح کردیا ہے، لہٰذا امکان یہ ہے کہ آنے والے پانچ سال گزرے ہوئے پانچ سال کاعکس ہی ہوں گے اور معمولی سے فرق اور کچھ نئے چہروں کے ساتھ عوام اپنے دردکی ”دوا“ ان ہی ”عطا ر کے لونڈوں“ سے لیں گے، جن کے سبب ان کے ”بیمار“ پڑنے کی تشخیص ہوئی تھی۔پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے حریف چاہے اسے ”سانحہ“ کہیں یا ”افسوسناک نتیجہ“قرار دیں یا پھر منفی نتائج کاذمہ دار انتخابی فہرستوں کے نقائص، الیکشن کمیشن کے انتظامات اور فوج کو دکھاوے کی حد تک استعمال کرنے جیسے عوامل کو ٹہرائیں ، انہیں تسلیم کرنا ہی پڑے گاکہ جس منصوبہ بندی کے ساتھ انہوں نے سندھ کے ان دو بڑے شیروں کو چت کر نے کا ارادہ کرکے خود کو ”شیرافگن“ سمجھ لیا تھا وہ منصوبہ بندی ایسی نہیں تھی کہ انہیں مطلوبہ کامیابی ملتی۔ لہٰذا عوام ان سے یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ” آپ ہی اپنی اداﺅں پرذراغور کریں، ہم کچھ عرض کریں گے تو شکایت ہوگی“۔پیپلزپارٹی کو اس لحاظ سے ملک کی سب سے زیادہ تجربہ کار پارٹی کا درجہ حاصل ہے کہ وہ انتخابی سیاست، اقتدار کی سیاست اور اپوزیشن کی سیاست میں بیک وقت مہارت رکھتی ہے، کون نہیں جانتا کہ 2008ءکے انتخابات کے بعد ایم کیو ایم اس کے لئے زہرہلا ہل تھی، صرف اس لئے نہیں کہ 12مئی 2007ءکوکراچی میں ہونے والے قتل عام کے وقت پیپلز پارٹی نے بھی اپنے کئی پیاروں کی لاشیں اُٹھائی تھیں اور صرف اس لئے نہیں کہ ایم کیو ایم نے پرویز مشرف کی انفنٹری بٹالین یا ہر اول دستے کا کردار ادا کیا تھا ،بلکہ اس لئے بھی کہ پیپلزپارٹی اپنی ساخت، اپنے رویے ، اپنے انداز میں ایک مکمل اور بھرپور سندھی پارٹی ہے اور متعدد بار بتاچکی ہے کہ وقت پڑے تو وہ جئے سندھ والوں سے زیادہ سندھی بن سکتی ہے، مثلاً سندھی ٹوپی اور اجرک کو سیاست کے لئے استعمال کرنے کا معاملہ.... یاوہ بھی جئے سندھ والوں کی طرح ”پاکستان نہ کھپے“ کانعرہ لگاسکتی ہے، مثلاًبے نظیر کے قتل کے بعد لاڑکانہ میں نعرے بازی، لہٰذا اس کا صوبے میں حکومت کی تشکیل کے لئے عددی ضرورت نہ ہونے کے باوجود ایم کیو ایم کو گلے لگانا اور شراکت دار بنانا، جو کہنے کو ”متحدہ“ ہے لیکن عملاً جس کی اساس سندھ میں بسنے والے ”مہاجر“یااردو بولنے والے ہیں، در حقیقت زہرہلا ہل کو قند کہنے کاایسامظاہرہ تھا جس کے نتیجے میں اس نے تھوڑا دے کر بہت حاصل کیا، سندھ اسمبلی اور حکومتی ایوانوں کی راہداریاں اسے مرضی کے مطابق دوڑنے کے لئے میدان ثابت ہوئیں۔پیر پاگارو کی فنکشنل لیگ کوبھی پیپلزپارٹی نے ایک عرصے تک شراکت دار رکھا،لیکن جب بلدیاتی نظام کی مخالفت کر کے فنکشنل لیگ نے سندھی قوم پرست پارٹیوں کی آواز میں آواز ملائی اور خود کو پیپلزپارٹی کا متبادل اور سندھ کے حقوق کی محافظ پارٹی ثابت کرنے کے لئے قدم آگے بڑھایا تو ایسا لگ رہاتھا کہ وہ پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم مخالف دیگرجماعتوںکے ساتھ مل کر اور سندھی قوم پرست پارٹیوں کے تعاون سے سندھ میں واقعتا پیپلز پارٹی کی جگہ لے سکتی ہے،فنکشنل لیگ کے امتیاز شیخ کی پلاننگ نے ایک دس جماعتی اتحاد کو بھی جنم دیا، جس میں مسلم لیگ(ن)، جماعت اسلامی، جے یو پی، جمعیت علمائے اسلام اور سنی تحریک وغیرہ بھی شامل ہیں، مگر واقف حال جانتے تھے کہ سندھی قوم پرست پارٹیوں کی حیثیت پر یشر گروپوں سے زیادہ نہیں ہے، وہ احتجاجی سیاست کے ماہر تو ہیں لیکن انتخابی سیاست ان کے بس کا روگ نہیں ہے، اسی طرح جے یو آئی اور سنی تحریک ایسی پارٹیاں نہیں جنہیں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم بلاوجہ خاطر میں لائے۔جب تک مولاناشاہ احمد نورانی حیات تھے ، جے یوپی کو کراچی اور حیدرآبادکی شہری آبادی کے چند مخصوص حلقوں تک ایم کیو ایم کے لئے خطرہ کہاجاسکتا تھا، مگر اب اسے یہ پوزیشن بھی حاصل نہیں رہی، اس لحاظ سے کراچی اور کسی حد تک حیدرآباد میں جماعت اسلامی اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود محض اپنے مضبوط نظم کے سبب ایم کیو ایم کی اصل حریف کہی جاسکتی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کا انحصار تاحال کراچی، حیدرآباد، ٹنڈوالہ یار، میرپورخاص اور نواب شاہ وغیرہ میں پنجابی آبادی کے کہیں محدود اور کہیں مضبوط حلقوں تک ہے، مگر وہ بھی تنہا شہری حلقوں سے ایم کیوایم کو شکست نہیں دے سکتی، چنانچہ اس کا زیادہ انحصار سندھ کے بااثر خاندانوں اور وڈیروں پر رہا جو ”لوہے کو لوہاکاٹتا ہے“ کی مثل پیپلز پارٹی کے وڈیروں کامقابلہ بھی کرسکتے ہیں اور جیت بھی سکتے ہیں۔ ان ٹھوس حقیقتوں کے باوجود جگہ جگہ سے خبریں آئیں کہ دس جماعتی اتحاد میں اتحاد ہی کا سب سے فقدان ہے اور عملاًیہ صورت رہی کہ فنکشنل لیگ، مسلم لیگ(ن) اور جماعت اسلامی نے بھی عوام کو مخصوص حصار کی قید سے باہر لانے کے لئے کوئی بڑا ”شو آف“ نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی نے کرپشن کے ریکارڈ توڑدیئے، نوکریاں بیچنے اور قاعدے ضوابط کی دھجیاں اُڑا کر من پسند افراد کو نوکریاں دینے کے علاوہ پوسٹنگ کرنے کے نئے ریکارڈ قائم کئے، سندھ میں تعلیم کا بیڑہ غرق ہونے کی گواہی سندھ اسمبلی سے سندھی اخبارات تک ہر جگہ سے ملتی رہی، سیلاب اور بارش زدگان مہینوں تک دربدر پھرتے رہے، پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام کو عوام کی مخالفت کے باوجود نافذ کرکے پیپلز پارٹی نے مونہہ کالا کرنے کے بعد بالآخر ضیاءالحق کا بلدیاتی نظام اس طرح نافذ کیا جیسے کشمیر فتح کرلیا ہو، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری اور دیہی سندھ میں بدامنی ڈاکوراج، خصوصاً ہندوﺅں کی تحفظ کے لئے سندھ سے نقل مکانی اس کے ماتھے کا بد نما داغ بن گئے۔فریال تالپوراور اویس ٹپی کا سندھ میں مقتدر ہونے کی داستان تو افسانوی شہرت کی حامل رہی ۔ گھوٹکی کے مہر برادران ، لاڑکانہ کے الطاف اُنڑ، ٹھٹھہ کے شیرازیوں، شکارپور کے مقبول شیخ، نوابشاہ کے ڈاہری وغیرہ کی پیپلز پارٹی میں از سرنو شمولیت، حتیٰ کہ ارباب رحیم کو جوتے مارنے کے بعد پارٹی میں شمولیت کے لئے معافی تلافی کے ساتھ پیغام بھیجنے میںبھی اس نے حجاب محسوس نہیں کیا۔مگر تمام تر تنظیمی انتشار ، بلاول کے اپنے والد سے اختلافات کی خبروں اور کوئی مرکزی شخصیت انتخابی مہم کو چلانے کے لئے موجودنہ ہونے اور پارٹی ٹکٹ خاندان کے افراد کو دینے کے باوجود اس نے سندھ کی روایتی وڈیرہ سیاست پر گرفت کے لئے بھٹوخاندان کی جذباتی مگرفیصلہ کن حیثیت کوایک بار پھر اساسی محورکی حیثیت سے چابکدستی اور مہارت کے ساتھ استعمال کرنے کامظاہرہ کیا ہے۔ اسی طرح ایم کیو ایم نے انتخابی مہم کے دوران دس روز میں تین ہڑتالوں کے ذریعہ جہاں بہ وقت ضرورت استعمال کے نقطہ ¿ نظر سے انتخابی مہم میں اپنی مظلومیت کو اُبھارا ، وہیں یہ آزمایا کہ کہیں حریفوں کی باتوں سے ”گمراہ“ ہوکر اس کا ووٹ بینک ”مضبوط تجوری“ توڑنے کی کوشش تو نہیں کرنے لگا ہے، جبکہ ایم کیو ایم کے حریف بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اسے 1988ءسے 2013ءتک 25سال کے دوران ہونے والے انتخابات نے سائنٹیفک اور جدیدخطوط کے علاوہ مضبوط تہہ در تہہ نظم کے ساتھ کامیاب انتخابی سیاست کی حامل ایسی پارٹی بنادیا ہے ، جس میں کسی اُمیدوار تو کجارکن اسمبلی بن جانے والے شخص کوبھی ازخود اخباری بیان یا ٹی وی انٹرویو دینے کی اجازت نہیں ہے،چنانچہ وہ سندھ کی شہری آباد ی کو ”مارتے ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے“ کے کامیاب فارمولے کے تحت آئندہ بھی کئی برس تک اپنے ووٹ بینک کی حیثیت سے بروئے کار لاتے رہےں گے۔ یہ تلخ حقائق اپنی جگہ، مگر سچ بات یہ ہے کہ سندھ کی اردو بولنے والی آبادی کو اس حصار سے باہر لانے کے لئے جس سائنٹیفک ، جدید منظم اور مشترکہ پلاننگ کی ضرورت ہے ، ایم کیو ایم کے حریف اس سے تہی دست بھی ہےں اور بے پرواہ بھی ہےں،لہٰذا ”افسوسناک نتیجہ “نکلنا تو فطری ہے۔  ٭

مزید :

کالم -