ایران اور چھ عالمی طاقتوں کی بات چیت ،کار آمد،یورپی یونین

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کی بات چیت ،کار آمد،یورپی یونین

                                                           نیو یارک(آن لائن)یورپی یونین کے مطابق ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین مذاکرات کا تازہ دور کارآمد رہا۔ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے طویل المدتی حل کے لیے مذاکرات کا یہ دور نیو یارک میں منعقد ہوا۔یورپی یونین کے ایک ترجمان نے بتایا کہ نیو یارک میں ہونے والی بات چیت کے دوران مذاکراتی عمل کے تنازعات کو بہتر انداز میں سمجھنے اور مذاکرات کے اگلے، اعلی سطحی دور کی تیاریوں پر توجہ مرکوز رہی۔ مذاکرات کا اگلا باقاعدہ دور تیرہ مئی سے یورپی ریاست آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں شروع ہوگا۔ ایک مغربی سفارت کار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر خبر رساں ادارے کو بتایا کہ بات چیت کے دوران ایران کے اراک ری ایکٹر سے متعلق تنازعے کے حل کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔واضح رہے کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی آڑ میں جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ تہران انتظامیہ اس الزام کو رد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین گزشتہ برس نومبر میں چھ ماہ دورانیےکی ایک عارضی ڈیل طے پائی تھی، جس کے تحت تہران کو چند متنازعہ جوہری سرگرمیوں کو ترک کرنے کے بدلے میں کچھ مالی پابندیوں میں چھوٹ دی گئی۔ اس ڈیل کی مدت بیس جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔ فریقین اس عرصے میں ایک جامع اور طویل المدتی ڈیل کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں ہیں تاکہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کئی سال سے چلے آ رہے فاصلے مِٹ سکیں۔چھ عالمی کے ’پی فائیو پلس ون‘ کہلانے والے گروپ میں امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، چین اور روس شامل ہیں اور مذاکرات میں ان کی نمائندگی یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کر رہی ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما کی مشیر برائے قومی سلامتی سوزن رائس نے اپنے دورہ اسرائیل میں میزبان ملک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ واشنگٹن حکومت ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے اجازت نہیں دے گی۔ گزشتہ برس اپنے عہدہ دوبارہ سنبھالنے کے بعد رائس کا یہ پہلا دورہ اسرائیل تھا، جس میں گزشتہ روز انہوں نے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور صدر شمعون پیریز سے ملاقاتیں کیں۔ امریکی قومی سلامتی کی مشیر نے کہا کہ وہ امریکا کے اتحادی ملک اور ایرانی ایٹمی پروگرام کے سخت مخالف اسرائیل کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ رکھیں گی۔ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رائس کا مزید کہنا تھا کہ عالمی برادری کے تحفظات دور کرنے کے لیے سفارت کاری ہی سب سے کارآمد ذریعہ ہے۔ سوزن رائس آج سے اسرائیل میں شروع ہونے والے امریکی اسرائیلی سٹریٹیجک مذاکرات میں واشنگٹن کے وفد کی سربراہی کر رہی ہیں۔

مزید : عالمی منظر