جنوبی افریقہ ،عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کے دوران 97مشتبہ افراد گرفتار

جنوبی افریقہ ،عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کے دوران 97مشتبہ افراد گرفتار

                                        پریٹوریا(این این آئی)جنوبی افریقہ میں نسلی عصبیت کے خاتمے کے بیس سال بعد پانچویں عام انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے ،انتخابات کے نتائج کا اعلان آئندہ چند رو زمیں کیاجائیگاجبکہ ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے ،انتخابات میں حکمراں جماعت کی کامیابی کے واضح امکانات ہیں،ادھر افریقین سیکورٹی حکام نے بتایاہے کہ فورسزکے خصوصی آپریشن کے دوران الیکشن سے متعلق جرائم میں ملوث 97افرادکو گرفتارکرلیاگیا،انہوں نے بتایاکہ تمام افرادکو نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیاجہاں ان سے تفتیش کی جارہی ہے گرفتارکیے جانے والوں میں متعددغیرملکی بھی شامل ہیں،میڈیارپورٹس کے مطابق جنوبی افریقہ میں اقلیتی سفید فام کمیونٹی کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ نسلی عصبیت بھی انجام کو جا پہنچی تھی،انتخابات میں ایسے ووٹر بھی شریک تھے جنہیں وہ دور یاد نہیں،ٹرن آﺅٹ تقریبا 50سے 60فیصدتک رہا، رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق حکمران افریقین نیشنل کانگریس (اے این سی)نسلی عصبیت پر فتح پانے والی طاقت کے طور پر اپنی ساکھ کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو سکتی ہے، جائزوں کے مطابق اے این سی کی حمایت تقریبا 65 فیصد ہے۔ یہ شرح 2009 کے انتخابات سے کچھ ہی کم ہے اس وقت اس جماعت کو 65.9 فیصد سے فتح حاصل ہوئی تھی جس کے نتیجے میں صدر جیکب زوما اقتدار میں آئے، تجزیہ کاروں کا یہ موقف ہے کہ اے این سی کا شاندار ماضی اب تاریخ کا حصہ بن گیا ہے اور ووٹروں کی توجہ اقتصادی بحران پر رہے گی جبکہ وہ زوما کے اقتدار کی پہلی مدت کے دوران سامنے والے والے اسکینڈلز پر بھی توجہ مرکوز کریں گے، جنوبی افریقہ کو 2009 کے اقتصادی بحران سے نکلنے کے مشکل مرحلے کا سامنا رہا ہے۔ 1994 میں نسلی عصبیت کے دور کے خاتمے کے بعد اس کے لیے معاشی بدحالی کا یہ پہلا موقع تھا۔ اے این سی کی حکومت نے شرح نمو کو پٹری پر رکھنے اور 25 فیصد کی شرح بے روزگاری کو نیچے لانے کی کوششیں کیں جنہیں طاقتور یونینوں کی جانب سے نقصان پہنچا۔

ادھر افریقین سیکورٹی حکام نے ایک پریس کانفرنس میں بتایاکہ فورسزکے خصوصی آپریشن کے دوران الیکشن سے متعلق جرائم میں ملوث 97افرادکو گرفتارکرلیاگیا،انہوں نے بتایاکہ تمام افرادکو نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیاجہاں ان سے تفتیش کی جارہی ہے گرفتارکیے جانے والوں میں متعددغیرملکی بھی شامل ہیں۔

مزید : عالمی منظر