مصر اس حالت کو امریکہ کی وجہ سے پہنچا

مصر اس حالت کو امریکہ کی وجہ سے پہنچا
مصر اس حالت کو امریکہ کی وجہ سے پہنچا

  

واشنگٹن (بیورورپورٹ) شاید ہی دنیا کا کوئی ایسا ملک ہو کہ جس کے اندرونی معاملات میں امریکہ مداخلت نہ کررہا ہو۔ کہیں سازشیں، کہیں دھمکیاں اور کہیں کھلم کھلا حملے امریکی سیاست کا شعار بن چکا ہے۔ مصر کے عوام بھی بدقسمتی سے امریکی مداخلت کی وجہ سے بدترین سیاسی کشمکش کا شکار ہیں۔ کبھی امریکہ انقلاب کا حامی نظر آتا ہے تو کبھی انقلابیوں کا قلع قمع کرتا نظر آتا ہے۔ کبھی سیاستدانوں کا حامی تو کبھی مغربی جرنیلوں کا، حال ہی میں مصر کی سیاست پر قابض جنرل عبدالفتح السیسی نے انکشاف کیا ہے کہ پچھلے سال منتخب صدر محمد مورسی کا تختہ اٹلنے سے پہلے امریکی حکومت نے اس سے رابطہ کیا اور صدر مورسی کا تختہ الٹنے میں کچھ تاخیر کرنے کو کہا۔ ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران السیسی نے بتایا کہ امریکی سفری نے اسے ایک دو دن انتظار کرلینے کو کہا تھا۔ اس دعوے سے اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ جنر السیسی نے منتخب صدر کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے امریکہ کے ساتھ صلح مشورہ کیا تھا۔ امریکہ نے مصری فوج کے اقتدار پر قبضہ کے بعد مصر کی امداد کم ضرور کی ہے لیکن اسے بند نہیں کیا کیونکہ امریکہ صدر مورسی کی اقتدار سے محرومی کو منتخب صدر کا تختہ الٹنے کے مترادف نہیں سمجھتا۔

مزید : بین الاقوامی