ٹیکس محاصل میں 90 ارب روپے کاشارٹ فال ہو گا

ٹیکس محاصل میں 90 ارب روپے کاشارٹ فال ہو گا

اسلام آباد(آن لائن)ادارہ برائے پالیسی اصلاحات نے معاشی صورتحال اور آئندہ بجٹ سے متعلق تجاویز پر مبنی رپورٹ جاری کر دی ہے،رواں مالی سال ٹیکس محاصل میں 90 ارب روپے کے شارٹ فال جبکہ دفاعی اخراجات 900 ارب سے تجاوز کر جائیں گے،کم تنخواہ دار طبقے کیلئے تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ انسٹیٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز کی جانب سے بجٹ 2014-15 کیلئے جاری کردہ تجاویزکے موقع پر سابق مشیر خزانہ اور اقتصادی ماہر ڈاکٹر حفیظ اے پاشا نے کہا کہ حکومت کی توجہ سٹراکچرل اصلاحات کے بجائے قرضوں کے حصول پر ہے۔ حکومت نے آئندہ 5 سے 10 سال کے دوران 52 ارب ڈالر قرض لینے کے معاہدے کر کے آنے والی نسلوں کو گروی رکھ دیا ہے۔ ایف بی آر کی کارکردگی بھی انتہائی مایوس کن ہے۔

رواں مالی سال کیلئے 2475 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا تاہم آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس ہدف میں کمی کر کے 2345 ارب مقرر کر دیا گیا جو حیران کن ہے۔ اس کے باوجود نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف پورا نہیں ہو سکے گا۔ ایف بی آر کو 90 ارب روپے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹیکس چھوٹ کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ 600 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ قرضوں پر سود کی مد میں سالانہ 1300 ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ رواں مالی سال کے آخر تک گردشی قرضہ 355 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گا۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے تجویز دی کہ آئندہ بجٹ میں صرف گریڈ 1 سے 16 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ ہونا چاہیے۔ آئی پی آر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال دفاعی شعبے کے اخراجات 900 ارب روپے سے تجاوز کر جائیں گے۔ صوبائی حکومتوں کے اخراجات میں کمی حیران کن ہے۔ وفاق کے ترقیاتی بجٹ میں 120 ارب روپے کی کمی تشویشناک ہے۔ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق 42 فیصد افراد نے زیرو انکم ظاہر کی ہے۔ نئے مالی سال میں ٹیکس نیٹ خصوصا انکم ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے۔

مزید : کامرس