بیرونی دباﺅ پاکستان اور ایران کی تجارت کو متاثر کررہا ہے : علی اوست ہاشمی

بیرونی دباﺅ پاکستان اور ایران کی تجارت کو متاثر کررہا ہے : علی اوست ہاشمی

لاہور (کامرس رپورٹر) ایرانی صوبے سیستان اور بلوچستان کے گورنر علی اوست ہاشمی نے کہا ہے کہ بیرونی دباﺅ پاکستان اور ایران کی تجارت کو متاثر کررہا ہے لہذا نجی شعبے کو آگے بڑھ کراس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وہ لاہور چیمبر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر کاشف انور نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ساﺅتھ ایشیاسید نبی زادے ، ایرانی قونصل جنرل محمد حسین بانی اسدی، لاہور چیمبر کے سابق صدر محسن رضا بخاری، ایگزیکٹو کمیٹی اراکین میاں زاہد جاوید احمد، طلحہ طیب بٹ اور چودھری محمد اسلم نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ علی اوست ہاشمی نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ وہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کوئی بیرونی دباﺅ قبول کیے بغیر فیصلہ لے کیونکہ یہ بہت اہم پراجیکٹ ہے، ایران پہلے ہی اپنی جانب اس منصوبے پر کام مکمل کرچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان،ترکی اور چین ایک معاشی بلاک بناکر دنیا بھر کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے ملاقاتیں کی ہیں جنہوں نے باہمی تجارت بڑھانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم پاکستان سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندے ایران بھجوانے کی درخواست کی ہے تاکہ وہ ایران کے بینکنگ چینلز سے ملاقاتیں کرکے کرنسی ٹرانزیکشن کا معاملہ حل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان چاہے تو ایران اسے ڈیڑھ سال میں بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد دے سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے نجی شعبے کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بہت کم ہے۔ انہوں نے پاکستانی تاجروں کو ایرانی بلوچستان اور سیستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور ایرانی تاجر گوشت، پھلوں، انجینئرنگ، ٹیکسٹائل کے شعبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی کرسکتے ہیں۔ ایران میں پاکستان کی 70سے زائد مصنوعات پر دیگر ممالک کے مقابلے میں ڈیوٹی کی شرح بہت کم ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر کاشف انور نے کہا کہ اگر سمگلنگ کا خاتمہ کرکے براہِ راست تجارت ہو تو باہمی تجارت کا حجم دو ارب ڈالر سے بڑھ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر کا ایک وفد جون میں ایران کا دورہ کرے گا۔ کاشف انور نے کہا کہ پاکستان باہمی تجارت مقامی کرنسی میں کرنے کی حمایت کرتا ہے کیونکہ چین اور روس پہلے ہی بڑی کامیابی سے ایسا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونو ںممالک کے درمیان ٹرانسپورٹیشن کے کچھ مسائل ہیں جنہیں جلد از جلد حل ہونا چاہیے۔ پاکستان ایران کو آم، چاول، کینو، آلو اور گوشت برآمد جبکہ ایران سے پیٹرو کیمیکلز، پلاسٹک مصنوعات، پیرافین، آئرن سکریپ اور کیمیکلز وغیرہ درآمد کرتا ہے۔ لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر نے امید ظاہر کی کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل دونوں ممالک کے تجارتی و معاشی رشتے مزید بہتر خطوط پر استوار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پہلے ہی ایران چیمبر آ فکامرس اینڈ انڈسٹری، مشہد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری،اصفہان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، تہران چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، ایرانی نیشنل کمیٹی آف ای سی او چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور شیراز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرچکا ہے جن کا مقصد باہمی تجارت کو بڑھانا اور تجارتی وفودکے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔

مزید : کامرس