توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے متبادل ذرائع استعمال کرنا ہونگے : نیاز کاٹھیا

توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے متبادل ذرائع استعمال کرنا ہونگے : نیاز ...

اسلام آباد (اے پی پی) معروف تجزیہ کار نیاز کاٹھیا کا کہنا ہے کہ توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے متبادل ذرائع استعمال کرنا ہونگے ۔ ریڈیو پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سولر سسٹم سے بجلی کا حصول دیگر ذرائع کی نسبت سستا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سولر سسٹم تیزی سے مقبول ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں سولر سسٹم سے 350میگا واٹ بجلی حاصل کی جارہی تھی تاہم اب یہ 1000میگا واٹ تک پہنچ جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی بحران کی وجہ سے پاکستانی تاجر اپنا سرمایہ بنگلہ دیش اور دوسرے ممالک میں منتقل کر دیا تھا

تاہم موجودہ حکومت کی حکمت عملی کی وجہ سے اس رجحان میں کمی آن شروع ہوگئی ہے ۔ نیاز کاٹھیا نے مزید کہا کہ توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے بینکوں کو آسان شرائط پر قرضے دینا ہونگے تاکہ عام آدمی بھی گھروں میں سولر سسٹم لگا سکے ۔ اس موقع پر موجود ماہر توانائی افتخار قریشی نے کہا کہ پاکستان کے پاس کوئلے کی نعمت موجود ہے جس سے سستی بجلی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس جانب توجہ مبذول نہیں کی گئی جس کے باعث توانائی کا بحران پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت آئندہ 5سالوں تک 21ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی خواہشمند ہے اور ہمیں اسکا ساتھ دینا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کی تقسیم میں بہتری کیلئے ضروری ہے کہ لائن لاسز کو کنٹرول کیا جائے ۔

تھرکول کے مزید 4 بلاکس کی نیلامی میں ملکی و غیرملکی کمپنیوں کی دلچسپی

کراچی(آن لائن)تھرکوئل کے مزید 4 بلاکس کی نیلامی میں ملکی و غیرملکی کمپنیوں نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین خورشید جمال نے گزشتہ روز تھر کول پراجیکٹ سے متعلق ایک بریفنگ کے موقع پرصحافیوں کو بتایا کہ تھر کے کوئلے کے مزید 4بلاکس کی نیلامی کے لیے 3مقامی اور 7غیرملکی پارٹیوں نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے، غیرملکی پارٹیوں میں چین کی 3 امریکا کی 1، روس و چین کے کنسوریشم پر مشتمل 1 گروپ جبکہ مڈل ایسٹ اور چینی کمپنیوں کے کنسورشیم پر مشتمل 2 گروپ شامل ہیں، ان پیشکشوں پر غور کیا جارہا ہے اور کچھ پارٹیوں سے اضافی معلومات بھی مانگی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت ترجیحی بنیادوں پر تھر کے کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے منصوبے مکمل کرنا چاہتی ہے، سندھ حکومت کی سنجیدگی اور ملک کی سیاسی قیادت میں توانائی کی خودکفالت کے لیے اتفاق رائے نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 4مزید بلاکس کی نیلامی رواں مالی سال کے آخر تک مکمل کرلی جائے گی، سندھ حکومت نے توانائی منصوبے کیلئے سال2013-14کے بجٹ میں 15ارب روپے مختص کیے تھے جس میں سے 5ارب روپے تھرکول منصوبے کیلئے کوئل فنڈ میں مختص کیے گئے۔

، یہ رقم اب بڑھا کر 8ارب روپے کردی گئی ہے۔تھر میں اینگرو اور سندھ حکومت کے مشترکہ منصوبے کے فزیکل ورکس اور ڈیولپمنٹ کے لیے 1.5 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے، سندھ حکومت کی51 فیصد ایکویٹی کے لحاظ سے ساڑھے 3سال میں 15ارب روپے انویسٹ کرے گی جس کے لیے سالانہ 5ارب روپے کا فنڈ درکار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی پاور پراجیکٹس کے لیے 10سے 15 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے اور اگر اسی طرح تسلسل کے ساتھ پاور پراجیکٹس کے لیے فنڈز مختص کیے جاتے رہے تو منصوبے کی ایکویٹی کے لیے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہوگی اور منصوبے کو بروقت مکمل کیا جاسکے گا۔

مزید : کامرس