پانچ صدیاں پرانا پراسرار ڈھانچہ دریافت

پانچ صدیاں پرانا پراسرار ڈھانچہ دریافت
پانچ صدیاں پرانا پراسرار ڈھانچہ دریافت

  

لندن (بیورورپورٹ) پولینڈ میں ماہرین آثار قدیمہ نے ایک ایسی قبر دریافت کی ہے کہ جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ  انسانوں کا خون پینے والے شخص یعنی ”ویمپائر" کی ہے ۔ ملک کے جنوبی پولمرینین نامی صوبے میں آثار قدیمہ کے ماہر سلاﺅ میرگورکا کی رہنمائی میں ایک ٹیم کھدائی کررہی تھی کہ انہیں ایک ایسا ڈھانچہ ملا کہ جس کی تدفین عام مردون سے کچھ مختلف انداز میں کی گئی تھی۔ اس مردے کو دفن کرنے سے پہلے اس کے دانت نکال کر اس کے منہ میں ایک پتھر ٹھونس دیا گیا تھا اور ایک نوک دار لکڑی اس کی ٹانگ میں ٹھونک دی گئی تھی۔ اس ”ویمپائر“ کو تقریباً 400 سال پہلے دفن کیا گیا تھا ”خون پینے والوں“ کا یہ قبرستان عام قبرستان سے ہٹ کر بنایا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت لوگوں میں یہ عقیدہ پایا جاتا تھا کہ اگر ”ویمپائر“ کے دانت نکال لئے جائیں تو وہ مزید لوگوں کا خون نہیں پئے گا اور اس کی ٹانگ میں نوکدار لکڑی ٹھونکنے کا مقصد یہ تھا کہ کہیں وہ دوبارہ زندہ ہوکر لوگوں کا خون پینے نہ نکل کھڑا ہو۔

مزید : ڈیلی بائیٹس