ایک لاکھ سے زائد بچے تھیلسمیا کا شکار ہیں،ڈاکٹر یاسمین راشد

ایک لاکھ سے زائد بچے تھیلسمیا کا شکار ہیں،ڈاکٹر یاسمین راشد

لاہور( سپیشل رپورٹر ) تھیلیسیمیا فیڈریشن آف پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یاسمین راشد لاہورپریس کلب میں حسین جعفری ، محمد یاسین خان اور ارسلان احمد کے ہمراہ 8 مئی کو تھیلیسیمیا انٹرنیشنل ڈے کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں تھیلیسیمیا انٹرنیشنل ڈے منایا جا رہا ہے ، اس دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں تھیلیسیمیا سوسائٹیز مختلف تقریبات کا اہتمام کرتی ہیں جس میں تھیلیسیمیا کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لئے بھرپور مہم چلائی جاتی ہے انہوں نے کہاکہ تھیلیسیمیا پاکستان کی سب سے بڑی موروثی بیماری ہے جس کا تناسب چھ فیصد ہے یعنی سو پاکستانیوں میں سے چھ یا سات فیصد پاکستانی تھیلیسیمیا کیئرر ہیں اٹھارہ کروڑ ملک کی آبادی میں سے ایک کروڑ دس لاکھ افراد میں اس بیماری کا کیئررہیں ہر دو کیئرر کی آپس میں شادی ہوجائے تو حمل میں پچیس فیصد چانس ہوتا ہے کہ پیدا ہونا والا بچہ تھیلیسیمیا مرض کاشکار ہو گا اس وقت ملک میں ایک لاکھ سے زائد بچے تھیلیسیمیا بیماری کا شکار ہیں ملک ہر سال پانچ ہزار نئے بچے پیدا ہوتے ہیں تھیلیسیمیا فیڈریشن ملک کی دیگر این جی اوز کے ساتھ ملکر کر کام کر رہی ہے ۔ پچھلے بارہ سال سے ان سوسائیٹیز کو اکٹھا کر کے ایک فیڈریشن بنائی گئی ہے اس فیڈریشن کا مقصد بچوں کے علاج کے لئے پاکستان میں یکساں علاج کو یقینی بنانا ہے۔ تھیلیسمیا فیڈریشن آف پاکستان وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پیغام دیتی ہے کہ وہ آئندہ نسل کو صحت یاب رکھنے کے لئے بہت اہم ہیں تھیلیسیمیا کی روک تھام کے لئے چا ر اہم اقدامات کئے جائیں ۔ 1 ) عوام میں شعور پیدا کرنا، 2 ) شادی سے پہلے تھیلیسیمیا کیئرر کا ٹیسٹ کروانا اشد ضروری ہے ۔ کوشش ہونی چاہئے کہ تھیلیسمیا کیئر ر والوں کی آپس میں شادی نہ ہو اگر شادی ہو بھی جائے تو حمل کے تین ماہ کے اندر اس بیماری کی تشخیص کی جا سکتی ہے ۔ اس طریقے سے اس بیماری کی روک تھام کرسکتے ہیں۔ موجودہ حکومت تھیلیسمیا کے مرض کی روک تھام کے لئے ٹھو س اقدامات نہیں کر رہی ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1