ڈرونوں کا مستقبل!

ڈرونوں کا مستقبل!
ڈرونوں کا مستقبل!

  

چند روز پہلے ملٹری سٹیشن لائبریری، لاہور گیا تو ڈسپلے کاﺅنٹر میں ایک کتاب رکھی تھی۔ عنوان تھا: ”ڈرون وار فیئر“ اور مصنفہ کا نام تھا: ”میڈی بنجمن“۔

اگرچہ ڈرونوں کی وہ گرم بازاری اب پاکستان میں ختم ہوتی نظر آتی ہے جو چند ماہ پیشتر ہوا کرتی تھی، مگر آج بھی اس کی یاد ہر پاکستانی کو غم و غصے میں مبتلا کر دیتی ہے۔.... مَیں نے نہ چاہتے ہوئے بھی کتاب اٹھائی اور ورق گردانی کے لئے سٹڈی روم میں جا بیٹھا۔

اس پیپر بیک کتاب کے صفحات250ہیں اور ہلکے خاکی رنگ کے اُس کاغذ پر چھپی ہے جس کا وزن دوسرے ہر سفید کاغذ کی بہ نسبت سبک ہوتا ہے۔ کوئی تصویر نہیں، لیکن کتابت جلی حروف میں ہے۔ یعنی فانٹ سائز اتنا ہے کہ پڑھنے میں دقت نہیں ہوتی۔ دو سطروں کا درمیانی فاصلہ بھی اتنا زیادہ ہے کہ پڑھتے ہوئے ”مطالعاتی کشادگی“ کا احساس ہوتا ہے۔ مصنفہ امریکی میڈیا کی جانی پہچانی شخصیت ہے۔ سماجی عدل وانصاف کے حصول کے لئے جدوجہد کرتی رہی ہے۔ حقوقِ انسانی کی سرگرم کارکن ہے اور اب تک درجنوں احتجاجی جلوسوں کی قیادت کر چکی ہے۔ آٹھ کتابوں کی مصنفہ ہے اور بڑی باقاعدگی سے اس کے مضامین مغربی رسائل وجرائد میں جگہ پاتے ہیں۔

اس کتاب کے نو باب ہیں جن کے عنا وین درج ذیل ہیں:

(1) قاتل ڈرونوں کے ساتھ عشق بازی

(2) ایک پھلتی پھولتی مارکیٹ

(3) یہاں ڈرون، وہاں ڈرون، ہر جگہ ڈرون

(4) پائلٹوں کے بغیر کاک پٹ

(5) ریموٹ کنٹرول کے بدنصیب شکار

(6) کیا ڈرونوں سے قتل کرنا قانونی ہے؟

(7) اخلاقیات سر پیٹ رہی ہے

(8) ڈرونوں کے مخالفین کا جوابی وار

(9) ڈرونوں کی مخالفت اب عا لمگیر ہو چکی ہے۔

ان عنوانوں سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ مِس بنجن کا جھکاﺅ کس طرف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ سنگدل لوگوں کی سرزمین ہے لیکن اس کے باوجود یہ امریکہ ہی تھا جہاں ڈرون باری کے خلاف مہم کا آغاز ہوا اور اقوام متحدہ کی طرف سے اس کی شدید مذمت کی گئی۔ یار لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ ڈرون مخالف تحریک امریکہ کی افغانستان سے واپسی کے ساتھ وابستہ ہے۔ وگرنہ کیا سبب ہے کہ2009ءسے2012-13ءتک فاٹا پر آگ اور خون کا طوفان برپا کیا جاتا رہا اور ڈرون نہ رکے۔ اب کیوں رک گئے؟ مَیں سمجھتا ہوں کہ اگر ایسا ہے تو ہمیں امریکہ کی اس ابن الوقتی سے بھی سبق اندوز ہونا چاہئے۔

یہ کتاب پہلی بار2012ءمیں نیو یارک اور لندن سے چھپی تھی، لیکن میرے سامنے جو ایڈیشن ہے وہ 2013ءمیں ہارپر کولنز،(انڈیا) سے شائع کیا گیا ہے۔ بھارتی کرنسی میں اس کی قیمت350 روپے درج ہے۔ لیکن پاکستانی بُک سٹالوں نے اس پر قیمت کا جو ٹیگ چسپاں کیا ہے اس پر اس کی قیمت695روپے درج ہے۔ یعنی انڈیا سے دوگنا.... تسلیم کہ پاکستانی روپے کی قدر بمقابلہ بھارت کم ہے، پھر بھی ایسا نہیں کہ دوگنا کم ہو.... شائد یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کتب بینی کا شوق دم توڑ چکا ہے۔ یہی کتاب انڈیا میں رعائتی نرخوں پر 50فیصد کٹوٹی کے بعد200روپے میں مل جاتی ہو گی اور یہ ایسی قیمت ہے جو عام خریدار کی جیب پر گراں نہیں گزرتی۔

مصنف کا اسلوبِ نگارش سادہ، سہل، دلآویز اور زیادہ ٹیکنیکل اصطلاحوں سے گرانبار نہیں۔ اس نے پاکستان کے بہت سے علاقوں میں آ کر ڈرون زدگی کا شکار ہونے والے خاندانوں کے انٹرویو کئے اور ان کے جذبات و احساسات کو واشگاف انداز میں بیان کرنے میں اپنی قوم سے ”بے وفائی“ کا پورا پورا ثبوت دیا ہے۔

قارئین محترم! یہ خیال نہ کیجئے کہ مَیں نے یہ کالم اس کتاب پر تبصرے کے لئے لکھا ہے۔.... ایسا نہیں.... میرا مقصد یہ ہے کہ آپ کو بتاﺅں کہ ہم پاکستانی مظلوموں اور امریکی ظالموں میں کیا فرق ہے۔

مجھے یقین ہے آپ میں سے بہت سے حضرات نے اس موضوع پر جن کتابوں کا مطالعہ کیا ہو گا وہ بیشتر انگریزی زبان میں ہوں گی، جن رسائل میں ڈرون باری کا موضوع ڈسکس کیا گیا ہو گا وہ بھی انگریزی میں ہوں گے اور جن اخبارات نے فاٹا پر امریکی ڈرون حملوں کے حق میں یا ان کی مخالفت میں مضامین اور کالم تحریر کئے ہوں گے، وہ بھی انگریزی زبان ہی میں ہوں گے۔.... اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے کہ اپنے پرنٹ میڈیا میں آپ نے جو کچھ پڑھا وہ معروضی انداز کا تھا یا محض ماتم گساری، رونا پیٹنا اور آہ و زاری تھی؟

اور جہاں تک کتابوں اور رسالوں کا تعلق ہے تو آپ کی نظر سے شاذ ہی کوئی ایک آدھ کتاب ایسی گزری ہو گی جس میں اُردو زبان میں ڈرونوں کے موضوع پر اظہار خیال کیا گیا ہو گا۔ دوسری طرف یاد کیجئے کہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا صبح و شام وشب کتنے برسوں سے روزانہ یہی ڈھول پیٹتا رہا کہ فلاں جگہ ڈرون حملہ کیا گیا، اتنے لوگ مارے گئے، اتنے معصوم اور بے گناہ افراد امریکی بربریت کا شکار ہوئے اور اتنی خواتین کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔.... یہ بھی یاد کیجئے کہ ٹاک شوز کے شرکائے مباحثہ میں اکثریت نے امریکہ پر ان ڈرون حملوں کا کتنا اور کیا کیا الزام لگایا۔ پاکستان کے فوجی آمروں کو کتنی بار مجرم ٹھہرایا کہ انہوں نے امریکہ کی ایک فون کال پر گھٹنے ٹیک دیئے اور اپنی ہی معصوم رعایا کو خون میں نہلا دیا۔.... کیا یہ سارے واعظ، سارے معترضین، سارے ماتم گسار، سارے دانشور اور سارے سیاست دان (یا ان کے ترجمان) اپنی بِپتا انگریزی زبان میں لکھ کر اسے کتابی شکل میں شائع نہیں کر سکتے تھے؟.... ہمارے پاکستانی پبلشرز نے کیوں، ان پاکستانی لکھاریوں کی پذیرائی نہ کی؟.... کیوں اپنے کمرشل مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی؟.... کیوں اپنے موقف اور اپنے استدلال کو دنیا کے سامنے نہ رکھا؟....

بہت سے پاکستانی حضرات عربی زبان کے عالم اور مصنف ہیں۔ وہ بڑی شدو مد سے اسلامی ممالک میں جا کر عربی زبان میں مختلف مذہبی موضوعات پر لیکچر دیتے نہیں تھکتے۔ کیا وہ عربی زبان میں ڈرونوں کے خلاف لیکچر دے کر یا کوئی کتاب لکھ کر عرب دنیا میں نہیں بھیج سکتے تھے اور کیا اس طرح عربوں کے جذبات ابھار کر امریکہ پر دباﺅ نہیں ڈال سکتے تھے؟ اگر وہاں کی حکومتیں پاکستانی عربی مطبوعات کو اپنے ہاں درآمد کرنے کی اجازت نہ بھی دیتیں تو بھی کیا اس مسئلے کو حکومتی سطح پر نہیں اٹھایا جا سکتا تھا؟.... ذرا سوچیں کہ ہمارے لکھاریوں نے کیا کیا اور ”زبانی کلامی“ ہمدردی سے آگے نکل کر عملی جدوجہد کا آغاز کیوں نہ کیا؟ اگر مِس بنجمن ایک خاتون ہو کر امریکہ میں بیٹھ کر یہ کام کر سکتی ہے تو کیا پاکستانی یا دیگر مسلمان خواتین لکھاریوں کو سانپ سونگھ گیا تھا؟

ہم کئی برس تک اسی کشمکش میں الجھے رہے کہ امریکی ڈرون گرائیں یا نہ گرائیں.... اگر گرا لیں تو امریکہ کا ردعمل کیا ہو گا اور کیا وہ ہمیں پتھر کے زمانے میں پہنچانے کا ”وعدہ“ پورا کرے گا یا کچھ اور کرے گا؟.... ہم نے یہ نہ جانا کہ1980ءکے عشرے میں جب امریکہ نے سٹنگر میزائل مجاہدین کے ہاتھوں میں دے دیئے تھے اور جب روسی طیارے اور ہیلی کاپٹر ان میزائلوں کا شکار ہو کر گر رہے تھے تو کیا روس نے مجاہدین پر ایٹم بم برسا کر ان کو بھی ”پتھر کے زمانے“ میں پہنچا دیا تھا؟

مَیں سمجھتا ہوں کہ مسلم اقوام پر کئی صدیوں سے ایک شدید قسم کا فکری جمود طاری ہے جو عملی اقدام سے روکتا ہے۔ ہم بڑے اچھے مفکر ضرور ہوں گے، اچھے عامل یا باعمل مسلمان نہیں ہیں۔ ہم باعمل مسلمان صرف اس کو جانتے ہیں جو اسلامی شعائر کا ظاہراً پابند ہو۔ ہم اسے پیر، فقیر، درویش، ولی، اولیا، دانشور، واعظ، مقرر، خطیب اور نجانے کیا کیا القاب دیتے ہیں لیکن اقبال کے اس شعر کی تشریح کرنے سے قاصر رہتے ہیں:

صحبت ِ پیر ِ روم سے مجھ پر ہوا یہ راز فاش

لاکھ حکیم سربجیب، ایک حکیم سربکف

اگلے روز مَیں کسی انگریزی میگزین میں ”ڈرونوں کا مستقبل“ نام کا ایک آرٹیکل پڑھ رہا تھا۔ اس میں صاحب مضمون نے بتایا تھا کہ امریکہ میں ”ڈرون سازی“ کے نئے آفاق کی حدود کہاں تک پھیل رہی ہیں۔ ان حدود کا مختصر تذکرہ بھی ایک طویل کالم کا متقاضی ہو گا۔.... تاہم ایک دو گوشوں کا ذکرکرنا بے جا نہ ہو گا۔

پاکستان30برس سے (1984ءسے 2014ءتک) سیاچن پر بیٹھا ہوا ہے۔ پاک فوج کو وہاں جن مشکلات کا سامنا ہے ان میں ایک مشکل، رسدات (Supplines) کی فراہمی بھی ہے۔ امریکہ میں اس پہلو پر تجربے کئے جا رہے ہیں کہ کیا قطب شمالی (یا قطب جنوبی) میں جانے والی مہمات کو ڈرونوں کی مدد سے ہر قسم کی رسدات کی ترسیل کا بندوبست کیا جا سکتا ہے؟ کیا وہاں سے مجروحین اور بیماروں کا انخلاءانہی ڈرونوں کی مدد سے ممکن ہے؟.... پاک فوج نے اگر سیاچن گلیشیر پر 30سال تک مزید بیٹھے رہنا ہے تو اس کی ٹرانسپورٹ کی مشکلات کو مستقبل کی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

ڈرونوں کی مدد سے ایسے کام لئے جانے کے تجربات بھی ہو رہے ہیں جو کسی بھی قوم کی تقدیر بدل کر رکھ سکتے ہیں (خاص طور پر پاکستان کی)

ایسے کیمرے ایجاد کئے جا چکے ہیں کہ جو زیرِ زمین اور زیرِ آب معدنیات کی (Imagery) کی تفصیلات کی فراہمی میں بڑے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ بلوچستان میں بہت سے معدنی ذخائر زیر زمین مدفون ہیں۔ جدید ڈرون بھیج کر وہاں کے مخصوص قطعات ِ اراضی کی تصویر کشی کی جا سکتی ہے اور معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ہماری زمین کے نیچے کتنا تانبا، سونا، لوہا، کوئلہ، تیل اور پانی موجود ہے۔ اسی طرح گوادر سے لے کر کراچی تک کا ساحل سمندر200 میل تک (آگے کی طرف) ہمارا خصوصی اقتصادی زون (EEZ) کہلاتا ہے۔ ڈرونوں کی مدد سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ بحیرہ¿ عرب میں کون سے مقام پر زیرِ آب تیل موجود ہے۔ پھر وہاں رِگوں (Rigs) سے کھدائی کر کے اس دولت سے وطنِ عزیز کو مالا مال کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی حکومت کو چاہئے کہ وہ پاکستانی نوجوانوں کو بیرونی ممالک میں اس شعبے میں وظائف دے کر بھیجے تاکہ وہ اس جدید ٹیکنالوجی کی است وبود کی خبر پا کر واپس وطن آئیں اور پاکستان کو ایک خوشحال معاشرے کی نوید دیں۔

مزید : کالم