ہسپتالوں کی حالت زار !

ہسپتالوں کی حالت زار !
ہسپتالوں کی حالت زار !

  

عوام کوصحت سمیت تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے ، اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا کردار بڑا قابلِ تعریف ہے کیونکہ وہ خود کو حقیقی معنو ں میں خادمِ اعلیٰ ثابت کرتے ہوئے بڑی محنت اور ایمانداری سے معاملات درست کرنے میں مصروف ہیں ،لیکن بیوروکریسی اس راہ میں رکاوٹ ہے۔بیوروکریسی کی دیکھا دیکھی بالخصوص پبلک ڈیلنگ سے وابستہ سرکاری اداروں مثلاًہسپتالوں وغیرہ میں سرکاری ملازمین نے بھی خود کو حاکم اور عوام کو محکوم سمجھنا شروع کردیا ہے ،جبکہ رہی سہی کسر کرپشن کا ناسور پوری کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف کے تمام اصلاحی اقدامات کے باوجود صورت حال پریشان کن ہے ۔ مزید دکھ اس لئے ہوتا ہے کہ اگرچہ خوش قسمتی سے صوبے کو شہباز شریف ایسا شخص مل گیا ہے جس نے قلیل وقت میں ڈینگی کے ناسور کا خاتمہ کرکے خلوص نیت کا ثبوت دیا ہے ،لیکن بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین اپنی سستی، نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے اُن کے اصلاحی اقدامات کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں جس کا بڑا زبردست نمونہ سرکاری ہسپتالوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔

گذشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل پر پنجاب کے ایک سوشل سیکیورٹی ہسپتال کے بارے میں دستاویزی فلم دکھائی جارہی تھی۔ انسانوں کے علاج و معالجے کے لئے بنائے گئے اس ہسپتال میں بلیاں بڑی شان سے کھلے عام چہل قدمی کرتے ہوئے خود کو حقیقی معنوں میں شیر کی خالہ ثابت کررہی تھیں ،مریضوں کے درمیان بے خوفی سے دندناتے ہوئے چوہے خود پر سے بزدلی کا لیبل اُتارنے میں مصروف تھے، جبکہ کاکروچوں کی بھی کوئی کمی نہیں تھی ۔ انسانوں کی زندگیاں بچانے کے لئے بنائے گئے اس ہسپتال میں مریض ان خطرناک جانداروں میں بے یارومددگار پڑے تھے جو طاعون سمیت خوفناک سے خوفناک بیما ری پھیلانے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ یہ کسی ایک ہسپتال کا قصہ نہیں، بلکہ ہرجگہ صورت حال یکساں ہے۔ کچھ عرصہ قبل راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں چوہوں نے کاٹ کاٹ کر ایک نومولود کو شدید زخمی کردیا تھا۔ مزید یہ کہ سوشل سیکیورٹی کی سہولت خود ہی مزدوروں کا استحصال کررہی ہے، کیونکہ آجر سے پیسے لے لئے جاتے ہیں، لیکن اجیر کو مطلوبہ سہولتیں مہیا نہیں کی جاتیں، اس کے علاوہ سرکاری و غیرسرکاری اداروں کے ملازمین کو سوشل سیکیورٹی کارڈز جاری کئے جاتے ہیں، لیکن یہ صرف سوشل سیکیورٹی ہسپتالوں تک ہی محدود ہیں، حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ جس شخص کے پاس سوشل سیکیورٹی کارڈ ہو اُسے تمام سرکاری ہسپتالوں میں علاج و معالجے کی سہولت مہیا کی جائے۔

اگر سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں اور عملے کی بات کریں تو مریضوں و لواحقین کی تذلیل کرنے اور اپنے فائدے کی خاطر ہڑتال کرکے زندگی و موت کی جنگ لڑتے مریضوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے حوالے سے محمود و ایاز کی طرح اکثریت ایک ہی صف میں کھڑی نظر آتی ہے ۔ پرائیویٹ ہسپتالوں کی طرف نظر دوڑائیں تو مزید ہول اُٹھتا ہے کیونکہ اب یہ بھی انتہائی منافع بخش دھندہ بن چکا ہے۔ بہت سی ایسی شکایات منظر عام پر آئی ہیں کہ نجی ہسپتالوں میں بغیر کسی وجہ کے مریضوں کا آپریشن کرکے یا معمولی بیمار کو انتہائی سنگین بیماری میں مبتلا ثابت کرکے لاکھوں روپے بٹور لئے گئے۔ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران یہ خبریں بھی پڑھنے کو ملیں کہ ریسکیو 1122کے اہلکار کسی شدید زخمی کو سرکاری ہسپتال لے کر گئے تو عملے نے اُسے طبّی امداد دینے سے انکار کردیا۔

یہ سب کچھ اُس ملک میں ہورہا ہے جو اسلام کے نام پر وجودمیں آیا تھا، یعنی وہ دین جو دیگر تمام مذاہب کے مقابلے میں انسانی حقوق اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے۔ دوسری طرف یورپ کے غیر مسلم ممالک میں عوام کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے اُس کا اندازہ بھی اس ایک واقعہ سے کرلیں۔ سابق برطانوی وزیراعظم کے بیٹے یوان بلیئر نے دوستوں کے ساتھ موج مستی کی اور نشے کی زیادتی کی وجہ سے گھر واپس جاتے ہوئے راستے میں بے ہوش ہوکر گر پڑا، ایک راہگیرسمجھا کہ اس نوجوان کو دل کا دورہ پڑا ہے ،چنانچہ اُس نے فوراً نزدیکی ہسپتال کو اطلاع دی، تھوڑی ہی دیر میں جدید سہولتوں سے آراستہ ایک ایمبولینس وہاں پہنچ گئی جس میں ایک ہارٹ سپیشلسٹ ڈاکٹر اور دو نرسیں تھیں، یہ ایمبولینس ٹونی بلیئر کے بیٹے کے لئے نہیں، بلکہ ایک عام آدمی کے لئے آئی تھی کیونکہ راہگیر اور ہسپتال والوں میں سے کسی کو پتہ نہیں تھا کہ سڑک پر گرا ہوا یہ نوجوان برطانوی وزیراعظم کا بیٹا ہے ۔ معائنہ کرنے پر پتہ چلا کہ لڑکے کودل کا دورہ نہیں پڑا،بلکہ وہ نشے میں دھت ہے، چنانچہ پولیس کو اطلاع دی گئی۔

 یوان بلیئر کو پولیس سٹیشن لے جایا گیا جہاں یہ بتانے کے باوجود اُسے حوالات میں بند کردیا گیا کہ وہ برطانوی وزیراعظم کا بیٹا ہے۔ اطلاع ملنے پر ٹونی بلیئر خود پولیس سٹیشن پہنچااور ایک عام آدمی کی طرح بیٹے کی ضمانت کرواکرکے اُسے رہا کروایا۔ اگر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف تمام سرکاری ہسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کے احکامات صادر کریں تو صورت حال خاصی بہتر ہوسکتی ہے، کیونکہ کاروباری شعبے سے وابستہ افراد تجارتی میدان میں کارنامے سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ سماجی شعبے میں بھی دکھی انسانیت کی بھرپور خدمت کررہے ہیں۔ اگر میاں شہباز شریف پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بااختیار کمیٹیاں قائم کرکے انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے بھرپور شخصیات کو ان کی سربراہی سونپیں تو نہ صرف اُن کے کندھوں سے ذمہ داریوں کا بوجھ کچھ کم ہوجائے گا بلکہ سرکاری ہسپتالوں کی حالت بھی درست ہوسکے گی۔ مَیںمیاں شہباز شریف کی صلاحیتوں کا تہہ دل سے قائل ہوں اور اُن کی کامیابی کے لئے بھی ہمہ وقت دعاگو رہتا ہوں ،چنانچہ میری شدت سے خواہش ہے کہ شہباز سرکاری ہسپتالوں کی طرف بھی پرواز کریں جس سے پنجاب کے لاکھوں نہیں کروڑوں افراد کا بھلا ہوگا۔

مزید : کالم