صبح بخیر....لیکن؟

صبح بخیر....لیکن؟
صبح بخیر....لیکن؟

  

وحدت روڈ کے اردگرد رہنے والوں کی اکثریت کا تعلق نچلے متوسط طبقہ سے ہے۔اگرچہ صاحب حیثیت حضرات کی تعداد بھی معقول تر ہے جو خود تاجر اور صنعتکار بھی ہیں، جس نچلے متوسط طبقے کا ذکر کیا ہے۔وہ زیادہ تر ملازمت پیشہ ہے۔یہ حضرات سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں خدمات انجام دیتے اور یوں ان کی آمدنی لگی بندھی ہے۔آج کل کی زبان میں ان کا تعلق فکسڈ انکم گروپ ہے، جو سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے کہ مہنگائی کا ہر بوجھ ان پر آتا ہے۔تاجر اور صنعتکار حضرات تو احتجاج بھی بڑے ہلکے انداز میں کرتے ہیں،جیسے کوئی کم گو بہو جھگڑالو ساس کی زیادتی کے جواب میں فریاد کرتی ہے۔اس وحدت روڈ ہی کے ایک طرف حکومت کی طرف سے بنائی گئی فروٹ اور سبزی منڈی بھی ہے، منڈی کیا ہے ایک اچھی پرچون مارکیٹ ہے،کیونکہ صبح صبح جو بولی ہوتی ہے وہ اسی فروٹ اور سبزی منڈی کے دکان داروں کے لئے ہے جو اپنی منڈیوں میں سارا دن پرچون سودا بیچتے ہیں۔عرف عام میں ان کو پھڑیا کہا جاتا ہے، لیکن یہ اس تعریف پر پورے یوں نہیں اترتے کہ صبح سے شام گئے تک باقاعدہ دکانیں سجا کر بیٹھتے ہیں، بہرحال یہ حضرات علامہ اقبال ٹاﺅن سے وحدت روڈ کے اردگرد واقع آبادیوں میں دکان داری والوں سے کافی معقول نرخوں پر سودا فروخت کرتے ہیں۔

ایک تو یہاں بازار کی نسبت تھوڑا سستا ہونے اور پھر قدرے تازہ ہونے کی وجہ سے ان آبادیوں والوں کا رخ اسی طرف ہوتا ہے، ان میں بڑی بڑی کاروں والوں کے ساتھ ساتھ سائیکل والے بھی آتے ہیں، ہمارا اپنا تعلق نچلے متوسط توکیا نچلے طبقے ہی سے ہوگیا ہے۔اس لئے سبزی اور فروٹ کے لئے ادھر ہی کا رخ کرنا پڑتا ہے کہ مصطفےٰ ٹاﺅن کے دوکان دار زیادہ فرق کے ساتھ سودا بیچتے ہیں۔

گزشتہ صبح بہت خوشگوار تھی، اسلام آباد میں ہونے والی بارش کے اثرات لاہور تک بھی تھے اور فجر کے وقت بہت فرحت آمیز، خوشگوار اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی جس نے کئی دنوں کی کوفت اتار دی اور ذہن فریش ہو گیا۔سیر صبح کے بعد گھر آئے اور دفتر کی تیاری شروع کی تو صاحبزادی نے یاد دلایا کہ پیاز اور ادرک کے ساتھ ٹماٹر بھی ختم ہو گئے ہوئے ہیں، ساتھ ہی بکرے کے گوشت کی بھی فرمائش تھی، اس لئے تیار ہونے کے بعد سب سے پہلے سبزی منڈی کا رخ کیا۔خیال تھا کہ تین بار پٹرولیم کے نرخوں میں کمی اور بعض مثبت اقدامات کے اثرات اس منڈی پر بھی پڑے ہوں گے، لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ....خواب تو خواب ہی ہوتے ہیں، آپ جتنے بھی مثبت ہوں سوال تو دوسری طرف سے سلوک کا ہے۔ ہم پیاز والی دکان تک جانے کے لئے روانہ ہوئے تو اردگرد سبزیوں پر بھی نظر ڈالتے چلے گئے کہ ایک آدھ سبزی تو لے لی جائے۔پہلی نظر کریلوں پر گئی کہ سیزن ہے اچھے اور سبز کریلے تھے۔نرخ پوچھا جواب ملا، ”دو کلو خریدیں تو دوسو روپے کے ہوں گے“ دوسرے معنوں میں دو کلو خریدنے پر رعائت تھی ورنہ کلو سے زیادہ کے نرخ ایک سو روپے فی کلو کی نسبت سوا سو یا اس سے زیادہ ہوں گے۔یہاں بھی ایک خریدو ایک مفت والا معاملہ تھا لیکن قیمت بہرحال دو کلو ہی کی تھی، کان کو ہاتھ لگایا۔

آگے بڑھے اور پیاز والی دکان کا رخ کیا، پیاز کے نرخ معقول سے کچھ ہی بڑھے ہوئے تھے تاہم ادرک 65روپے کا پاﺅ تھا اور ٹماٹر کے نرخ بھی بہر طور زیادہ ہی تھے، آلو تھے، مقامی اور دیسی تھے، خریدنے کی ہمت نہ ہوئی، لیموں کی ضرورت تھی تو ساتھ والے دکان دار سے دو تین لیموں مانگے تو جواب ملا“ کتنے تولوں۔یہ 80روپے کے پاﺅ (250گرام) ہیں، مجبوراً یہ ضرورت بھی پوری کی اور اس کے بعد گھر کو لوٹے کہ کسی اور سبزی کی قیمت بھی دریافت کرنے سے گریز کیا، البتہ گھیا خرید لیا کہ 20روپے کلو تھا۔

گھیا تو خرید لیا پھر خیال آیا کہ اس کے لئے گوشت بھی لازم ہے، محلے دار شاہد قصاب کے پاس آئے، دو ایک گاہک تھے جن کو گوشت 720روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا تھا، شاہد سے دریات کیا۔ محترم یہ نرخ (بقول خود شاہد) تو پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھنے کی وجہ سے مقرر کر لئے گئے تھے۔ اب تو پٹرولیم مصنوعات خصوصاً ڈیزل تین بار سستا کیا گیا اور حکومت نے ٹرانسپورٹر حضرات سے بھی کہا ہے کہ وہ کرایوں میں کمی کریں۔ انٹرسٹی بسوں کے کرائے میں تو پانچ پیسے فی میل کمی کے لئے کہہ دیا گیا ہے، تاہم بار برداری کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا، اس کے باوجود توقعات باندھتے ہوئے پوچھا کہ پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کے باعث اشیاءکی قیمتیں بھی کم ہو جانا چاہئیں، لیکن یہاں کا تو باور آدم ہی نرالا ہے، جواب ملا، منڈی(قصاب منڈی)تو بالکل متاثر نہیں ہوئی، بلکہ مزید قیمت بڑھنے کا اندیشہ ہے۔

اب اس کے بعد سیر صبح اور خوش گوار ترین ٹھنڈی ہوا نے جو احساس فرحت دیا تھا وہ سب زائل ہو کر رہ گیا اور سوچا کہ آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں کہ دیانت داری سے کام چلانا مشکل تر ہوگیا ہے، بہرحال مرتا کیا نہ کرتا گھر میں کچھ تو پکنا تھا اور ہم بیس روپے کلو والے گھیا اور تھوڑے سے گوشت پر اکتفا کرنے پر مجبور ہو گئے، حالانکہ خود وزیراعظم کا ارشاد ہے کہ قیمتیں کم کی جائیں۔خوشگوار ہوا اور فضا کہیں معدوم ہو گئی!

مزید : کالم