بنگلہ دیش کے بلدیاتی انتخابات ایک تجزیہ

بنگلہ دیش کے بلدیاتی انتخابات ایک تجزیہ
بنگلہ دیش کے بلدیاتی انتخابات ایک تجزیہ

  

بنگلہ دیش میں بلدیاتی انتخابات جو مرحلہ وار 19فروری 2014ءکو شروع ہوئے تھے ،وہ 31مارچ 2014ءکو مکمل ہوگئے۔ بنگلہ دیش کی آبادی کم وبیش 16کروڑ ہے اور یہاں کل 64اضلاع ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان سے بنگلہ دیش کی علیحدگی کے وقت مشرقی پاکستان میں 17اضلاع ہوا کرتے تھے۔ علیحدگی کے بعد اضلاع کو آگے تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے، مگر انھیں تحصیل کہنے کے بجائے سب ڈسٹرکٹ یا اُوپا ضلع (Upazila) کہا جاتا ہے۔ کل 487اُوپا ضلع ہیں، ان میں سے469 میں انتخابات ہوسکے، جن میں سے بیش تر کے نتائج کا الیکشن کمیشن نے اعلان کردیا ہے۔ 455 تحصیلوں میں حکومت اور اپوزیشن میں مقابلہ ہوا۔ باقی نشستوں میں مقامی یا دیگر چھوٹے گروپوں کے امیدوار جیتے ،مگر وہ تعداد میں بہت کم ہیں ،یعنی صرف 14۔ ان انتخابات میں جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ بڑے دلچسپ اور ساتھ ہی چونکا دینے والے بھی ہیں۔ حکمران عوامی لیگ نے ان انتخابات میں جو دھاندلیاں کی ہیں ،ان کی مثال شاید ہی کسی جمہوری ملک کے اندر تصورمیں لائی جاسکتی ہو۔ مرحلہ وار انتخابات کے نتائج کو دیکھیں تو پہلے مرحلے میں عوامی لیگ کی حکومت، بی این پی ،جماعت اسلامی اتحاد کے مقابلے میں شکست کھا گئی تھی۔ ہرچند کہ اس مرحلے میں بھی حکمران پارٹی نے کافی مداخلت کی ،مگر پھر بھی شکست اس کا مقدرٹھہری۔

پہلے مرحلے کی ان تحصیلوں میں سے ایک پیرگنج بھی تھی، جو حسینہ واجد کے انتخابی حلقے کا حصہ ہے۔ یہاں کانٹے دار مقابلہ تھا۔ عوامی لیگ کا امیدوار برائے چیئرمین سیادت حسین ساری دھاندلی کے باوجود70877 ووٹ حاصل کرسکا، جبکہ اس کے مدمقابل بی این پی کے امیدوار نور محمد مندل نے 74942 ووٹ لے کر یہ نشست جیت لی۔ نورمحمد مندل اس سے قبل پارلیمانی مقابلوں میں حسینہ واجد کو بھی شکست دے چکے ہیں۔ اس دوران بی این پی کے عہدیداران نے ایک پریس کانفرنس میں جو ڈیلی نیو ایج (Daily New Age) میں 21فروری کو چھپی، اس خدشے کا اظہار کیاتھا کہ اپنی شکست دیکھ کر عوامی لیگ کی حکومت اگلے مراحل میں انتخابی نتائج چرانے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو ملک خانہ جنگی کی بدترین دلدل میں پھنس جائے گا، جو پہلے ہی شدید بحران کا شکار ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن اتحاد سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو پولیس گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال رہی ہے۔ جماعت اسلامی اور بی این پی کے عہدیداران نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا، مگر حکومت کے کانوں پرجوں تک نہ رینگی۔

الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق ایک ہفتے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہونا تھا۔ اس سے قبل ہی عوامی لیگ نے تشدد، ماردھاڑ، قتل وغارت گری اور مخالف امیدواروں کے علاوہ ان کے حامیوں پربلکہ عام ووٹروں کو بھی اس قدر ہراساں کردیا کہ جو لوگ ووٹ دینے کے لئے آئے، وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر گھر سے نکلے۔ کئی امیدوار اور ان کے فعال کارکنان جیل میں ڈال دیئے گئے۔ اس کے باوجود عوامی لیگ اس مرحلے میں بھی شکست کھاگئی۔ تیسرا مرحلہ دوسرے مرحلے کے دو ہفتے بعد ،یعنی 15مارچ کو آیا تو عوامی لیگ نے ایسی صورت حال پیدا کردی ،جس میں ووٹ ڈالنے والوں کو پولنگ سٹیشن کے اندر جانے کے لئے چھلنی سے گزارا گیا اور ستم بالائے ستم یہ کہ بیلٹ بکس راتوں رات عوامی لیگ کے حامی امیدواروں کے حق میں ووٹوں سے بھر دیئے گئے۔ اس کے باوجود عوام کی شدید نفرت کی وجہ سے عوامی لیگ معمولی اکثریت حاصل کرپائی۔ چوتھے مرحلے ،یعنی 23مارچ2014ءکو عوامی لیگ نے دھاندلی اور تشدد میں اتنا اضافہ کردیا کہ اپوزیشن اتحاد سے متعلق نمائندوں نے اپنے ووٹروں کی جانیں بچانے کے لئے بائیکاٹ کی دھمکی دی اور عملاً پندرہ سے بیس تک حلقوں میں اپوزیشن امیدواروں نے بائیکاٹ کردیا۔ ان تمام حلقوں میں اپوزیشن نے اگلے دن ہڑتال کی اپیل کی جو انتہائی کامیاب رہی۔

چوتھے مرحلے کے انتخابی معرکے میں عوامی لیگ کی حکومتی سطح پر غنڈہ گردی نے ایسے حالات پیدا کردیئے کہ اکثر پولنگ سٹیشنوں پر عملاً ووٹ ڈالے ہی نہ جاسکے۔ انتخابی عملہ خاموش بیٹھا رہا اور عوامی لیگ کے کارکن ٹھپے لگا لگا کر بیلٹ بکس بھرتے رہے۔ یوں حکومتی پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کرلی۔ جب 31مارچ کوآخری اور پانچواں مرحلہ ہوا تو تمام غیرملکی مبصرین نے ماحول کو دیکھتے ہوئے کہا کہ اس ووٹنگ کو انتخاب کہنا انتخابات اور جمہوریت کا بدترین اور سنگین مذاق ہے۔ بی این پی نے اس انتخاب کا عملاً بائیکاٹ کردیا۔ اسے عوامی لیگ نے یک طرفہ بلڈوز کیا، لیکن عوام کی شدید نفرت کا یہ منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس کے باوجود عوامی لیگ کے 53 چیئرمینوں کے مقابلے میں عوام نے بی این پی کے 14اور جماعت اسلامی کے تین نمائندے کامیاب کروادیئے۔ اب آئیے مرحلہ وار تجزیہ کرکے دیکھیں کہ حسینہ واجد کے ظالمانہ اقدامات نے کس طرح ان انتخابات کو ایک دل چسپ ڈرامہ بنا دیا ہے۔

پہلا مرحلہ: عوامی لیگ: 37فیصد بی این پی +جماعت اسلامی63فیصد

دوسرا مرحلہ:    عوامی لیگ:39فیصد

بی این پی+جماعت اسلامی:60فیصد

تیسرا مرحلہ:     عوامی لیگ:53فیصد

بی این پی+جماعت اسلامی:47فیصد

چوتھاا مرحلہ:    عوامی لیگ:63فیصد بی این پی+جماعت اسلامی:37فیصد

پانچواں مرحلہ:عوامی لیگ:76فیصد

بی این پی+جماعت اسلامی:24%فیصد

یہ صرف چیئرمینوں کا تجزیہ ہے۔ وائس چیئرمینوں (مردوخواتین) کا تجزیہ نہیں کیا گیا۔ مجموعی طور پر دیکھیں تو 19فروری کو جو عوامی لیگ 37فیصد پر تھی، وہ 31مارچ کو 76فیصد پر جا پہنچی۔ یاللعجب! اسی طرح جو اپوزیشن 63فیصد کی اکثریت رکھتی تھی، صرف چھ ہفتے میں 24فیصد پر لے آئی گئی۔ کیا یہ منصفانہ انتخابات ہیں!!

اگر مجموعی تجزیہ کریں تو پوزیشن یہ بنتی ہے:

عوامی لیگ ٹوٹل چیئرمین:221(52.36فیصد)

اپوزیشن اتحاد:201(47.64فیصد)

ان انتخابات کے دوران ایک دل چسپ اور حوصلہ افزا بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ جماعت اسلامی کے خلاف موجودہ بنگلہ دیشی حکومت کے حد سے بڑھے ہوئے انتقامی وظالمانہ اقدامات کے باوجود جماعت کی حمایت میں کمی کی بجائے اضافہ ہو ا ہے۔ حسینہ واجد حکومت نے غیراخلاقی وغیرقانونی حربے استعمال کرتے ہوئے جماعت اسلامی کو خلافِ قانون قرار دے دیا ہے۔ اس کی ساری قیادت جیلوں میں بند ہے اور بیش تر رہنما¶ں کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ عبدالقادر مُلَّا شہید تو پھانسی کا پھندا چوم کر زندہ جاوید ہوچکے ہیں۔ جماعت کے رہنما جناب دلاورحسین سعیدی (سابق ممبرپارلیمنٹ) کے صاحبزادے مسعود سعیدی اپنے آبائی علاقے میں تحصیل کے چیئرمین منتخب ہوچکے ہیں۔

مسعود سعیدی نے تحصیل ضیاءنگر کے انتخابات میں چیئرمین کی نشست 21077ووٹوں سے جیتی ہے۔ ان کے مدمقابل حکو متی امیدوار عبدالخالق غازی جو دوسرے نمبر پر تھے، صرف 6615ووٹ حاصل کرسکے پھر پر تشدد کارروائیوں پر اتر آئے۔ واضح رہے کہ مولانا دلاور حسین سعیدی بھی اس علاقے سے بھاری اکثریت کے ساتھ پارلیمانی انتخاب جیتتے رہے ہیں (بحوالہ: بنگلہ دیش نیوز، مورخہ24مارچ2014ئ) اس طرح کے کئی دیگر واقعات بھی ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اب عوامی لیگ نے قتل وغارت گری کا ایک نیا دور شروع کردیا ہے۔ جس کا بڑا ہدف جماعت اسلامی اور چھاتروشبر (اسلامی جمعیت طلبہ) کے ذمہ داران وکارکنان ہیں۔ اب تک کئی شہادتیں ہوچکی ہیں، مگر عوامی لیگ سے نفرت بھی اسی تناست سے روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے۔

بی این پی کے قائم مقام سیکرٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر، جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر جناب مقبول احمد اور قائم مقام سیکرٹری جنرل ڈاکٹر شفیق الرحمان نے الگ الگ بیانات میں واضح الفاظ میں اظہار کیا ہے کہ انہوں نے ان بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے کر عوام کی رائے معلوم کرنے اور آئندہ کا لائحہ¿ عمل طے کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ اب اس غاصب حکومتی ٹولے کے خلاف بھرپور عوامی احتجاج کے ذریعے نئے سرے سے جدوجہد کا آغاز کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف کئی تجزیہ نگار یہ لکھ رہے ہیں کہ عوامی لیگ 2019ءتک اپنے اقتدار کے دوران ون پارٹی رول کی فضا بنانے کا پروگرام رکھتی ہے۔ وڈروولسن انٹرنیشنل سنٹر واشنگٹن میں سابق امریکی سفیر ولیم بی میلام نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ گزشتہ دوعشروں میں بنگلہ دیش کی معیشت نے جو کچھ حاصل کیا ہے موجودہ حکمرانوں کی جمہوریت کش پالیسیوں کی وجہ سے اس کے تباہ وبرباد ہوجانے کا خدشہ اور امکان موجود ہے۔ (بحوالہ: دی ایکسپریس ٹریبون 8اپریل2014ئ) اسی طرح سے کئی تجزیہ نگار اپنے مخصوص نقطہ¿ نگاہ کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی لکھ رہے ہیں کہ بنگلہ دیش کے حالات جمہوریت اور رائے عامہ کے احترام کے بجائے انتہا پسندی کی طرف دھکیلے جارہے ہیں۔ ان کے نزدیک ردعمل میں مسلم انتہاپسند میدان میں آجائیں گے اور وہ حکومت اور خطے کے لئے مشکلات پیدا کردیں گے (علی ریاض، پروفیسرالینوئیس یونی ورسٹی، امریکہ، بحوالہ: کرنٹ ہسٹری اپریل2014ئ)

اب خنجر آزمانے اور جگرآزمانے والوں میں سے کون جیتتا ہے۔ معرکہ سخت ہے اور اگلے مراحل میں اسے کسی کل ضرور بیٹھنا ہے۔

مزید : کالم