ملتان میں راشد رحمن ایڈووکیٹ کا قتل

ملتان میں راشد رحمن ایڈووکیٹ کا قتل

اب تو یہ بھی یاد نہیں کہ ملک میں پُرامن دن کون سے تھے، ملک کے تمام شہر لاقانونیت کی زد میں ہیں۔ کراچی لہولہان ہے، بلوچستان ناراض نوجوانوں کے غصے کی زد میں ہے وہ حد سے گزر گئے ہیں، خیبرپختونخوا دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ ایسے میں پنجاب نسبتاً بہتر نظر آتا تھا، لیکن یہاں جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیوں نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔ راہزنی، اغوا برائے تاوان اور قتل کی وارداتوں کے ساتھ معصوم بچیوں سے زیادتی کے واقعات بڑھ گئے ہیں، اس لئے تشویش تو ہو گی۔

ہمارے اکثر دانشوروں اور خود ہمارا بھی یہ خیال ہے کہ وکلاءجب ہڑتال کرتے ہیں تو اس سے بھی عوام ہی متاثر ہوتے ہیں کہ جو حضرات مقدمات کی تاریخوں پر آتے ہیں ان کو مایوسی، پریشانی اور مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، لیکن وکلاءکہتے ہیں کہ وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے یہ اقدام اٹھانے پر مجبور ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ گزشتہ روز ملتان کے وکلاءنے احتجاجی ہڑتال کی اور دیگر بار ایسوسی ایشنوں نے احتجاج کیا ہے۔

یہ احتجاج اور ہڑتال ملتان کے ایک سینئر وکیل راشد رحمن ایڈووکیٹ کے قتل کے خلاف کی گئی، جن کو ان کے چیمبر میںفائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ان کے ساتھی وکیل اور دوست زخمی ہوئے۔ راشد رحمن انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والوں میں تھے ان کے چچا آئی اے رحمن پاکستان میں انسانی حقوق تنظیم کے روح رواں ہیں وہ بزرگ صحافی ہیں جو روزنامہ ”پاکستان ٹائمز“ اور ”امروز“ شائع کرنے والے ادارے کے چیف ایگزیکٹو اور روزنامہ ”پاکستان ٹائمز“ کے چیف ایڈیٹر رہے۔ ان دنوں وہ باقاعدگی سے روزنامہ ”ڈان“ کے لئے لکھتے ہیں۔

بلاشبہ راشد رحمن ایڈووکیٹ کا قتل افسوس ناک ہے۔ اس سے دُکھ پہنچا، تاحال قاتلوں کی گرفتاری کا کوئی علم نہیں، راشد رحمن کے قتل کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ بعض مقدمات کے سلسلے میں ان کو بعض ”بڑے“ لوگوں کی طرف سے دھمکیاں ملتی تھیں۔ اب یہ پولیس کا فرض ہے کہ وہ ایک سینئر قانون دان کے اس قتل کا سراغ لگائے اور نہ صرف قاتلوں کو گرفتار کرے، بلکہ اس کے پیچھے خفیہ ہاتھ کو بھی بے نقاب کیا جائے۔ وکلاءکا مطالبہ بھی یہی ہے وہ انصاف چاہتے ہیں اور انصاف ملنا چاہئے۔

مزید : اداریہ