لاہور ہائیکورٹ کے اندر ہنگامہ اور توڑ پھوڑ

لاہور ہائیکورٹ کے اندر ہنگامہ اور توڑ پھوڑ

اخباری اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز لاہور ہائیکورٹ میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی گئی، اس ہنگامہ آرائی کا الزام ان لوگوں پر لگایا گیا جو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ احاطہ عدالت میں گئے تھے یہ کارکن نعرے بازی بھی کرتے رہے، زبردستی کمرہ عدالت میں داخل ہو گئے، سیکیورٹی واک تھرو گیٹ اکھاڑ دیا۔دھکم پیل سے کمرہ عدالت کا دروازہ اور احاطے میں رکھے گئے گملے بھی ٹوٹ گئے ۔چیف جسٹس نے اس پر اظہار ناراضگی کیا اور اٹھ کر اپنے چیمبر میں چلے گئے۔اعلیٰ عدالتوں میں ہر طرح کے مقدمات زیر سماعت رہتے ہیں۔ اگر سیاسی مقدمات کی سماعت ہو رہی ہو تو سیاسی کارکنوں کو بھی مقدمے کی سماعت میں دلچسپی ہوتی ہے، لیکن عدالتوں کے کمروں میں گنجائش محدود ہوتی ہے ۔ وکلاءکی کافی تعداد بھی کمرہ عدالت میں ہوتی ہے جن کے لئے کرسیاں رکھی جاتی ہیں اس لئے ایک حد سے زیادہ لوگ کمرے میں نہیں سما سکتے۔ عمومی طور پر ایسی صورت میں لوگ خود ہی احتیاط کرتے اور کمرے میں زیادہ رش نہیں کرتے لیکن سیاسی جماعتوں کے کے کارکن ایسے مواقع پر عموماً جذباتی ہو جاتے ہیں اور اپنے لیڈر کے ساتھ ساتھ رہنے کے لئے دھکم پیل کرتے ہیں، لگتا ہے ایسا ہی اس موقع پر بھی ہوا، جس سے عدالت کا وقار مجروح ہوا ہے اور بجا طور پر چیف جسٹس نے اظہار ناراضگی کیا سیاسی لیڈروں کو ایسے مواقع پر اپنے کارکنوں کو عدالتی وقار ملحوظ خاطر رکھنے کی ہدایت کرنی چاہئے۔ چیف جسٹس نے بالکل درست کہا کہ عدالتیں جلسہ گاہ نہیں ہوتیں۔ اس لئے ہر اس شخص سے مناسب طرز عمل کی توقع کی جاتی ہے جو کسی بھی مقصد کے لئے کمرہ عدالت میں آتا ہے۔

مزید : اداریہ