حکومت نے احتجاج اور دھرنوں سے نمٹنے کیلئے مربوط حکمت عملی طے کر لی

حکومت نے احتجاج اور دھرنوں سے نمٹنے کیلئے مربوط حکمت عملی طے کر لی

لاہور(جاوید اقبال) وفاقی حکومت نے 11مئی کو پاکستان تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں کے احتجاج اور دھرنوں سے نپٹنے کے لئے مربوط حکمت عملی طے کر لی ہے وفاقی حکومت نے اس حوالے سے پنجاب حکومت کو خصوصی ٹاسک بھی سونپ دیا ہے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی صدارت میں اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری داخلہ سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد میں تحریک انصاف کو پرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خواتین کے ساتھ بچوں کی اسلام آباد آمد کی آڑ میں زیادہ سے زیادہ بسوں کے قافلے اسلام آباد کی حدود سے باہر روک لئے جائیں گے اور اس ضمن میں وفاقی وزیر داخلہ نے پنجاب کے سیکرٹری داخلہ، آئی جی سے رابطہ کیا اور انہیں ہدایت کی کہ پنجاب کے شہروں سے ریزو پولیس کے ساتھ پولیس اہلکاروں کو اسلام آباد کی سکیورٹی کے لئے 10مئی کی شام سے قبل وفاقی دارالحکومت کی سکیورٹی پر مامور بنانے کو یقینی بنایا جائے اور 20ہزار کے قریب نفری پنجاب کے دیگر شہروں سے وفاقی دارالحکومت بھیج دی جائے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اسی سلسلے میں پنجاب حکومت کو خصوصی ٹاسک دے دیا گیا۔ پنجاب حکومت کو ہدایت کی گئی 10مئی کو صبح سے پنجاب سے اسلام آباد کی طرف آنے والی راستوں کی کڑی نگرانی کی جائے جس کے لئے اہم مقامات پر پولیس کے ناکے مضبوط کئے جائیں اور ناکوں پر دیگر شہروں سے آنے والی وہ بسوں اور گاڑیاں جن میں خواتین کے ساتھ بچے ہوں ان کو روک کر چیک کیا جائے اور ایسی خواتین جن کے ساتھ بچے ہوں ان کی بسیں اسلام آباد سے قبل ہی پولیس اپنے اپنے علاقوں میں رکے انہیں بند کر دیا جائے۔ دریں اثناءتحریک انصاف نے جو ایسی حکمت عملی طے کر لی ہے تحریک انصاف کو ضلعی اور تحصیل تنظیموں کے علاوہ ڈویژن تنظیموں سے کہا گیا ہے کہ وہ کارکنوں کو عام بسوں کے ذریعے سفر کرا کر 10مئی کی رات اسلام آباد اور پنجاب میں تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر خان ترین کا کہنا ہے کہ حکومت نے پرامن احتجاج روکنے کے لئے پولیس گردی کرائی تو احتجاج کا دائرہ کار ملک بھر میں وسیع کر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی بدنیتی کھل کر سامنے آ گئی ہے خواتین کے ساتھ بچوں کو بہانہ بنا کر روکنا جمہوری اصولوں کے برعکس ہے حکومت جلسہ ناکام بنانا چاہتی ہے اگر کسی قافلے یا بس کو خواتین کے ساتھ بچے آنے کا بہانہ بنا کر روکا گیا تو اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے اور حالات کی ذمہ داری کی حکومت پر عائد ہو گی۔

 خصوصی ٹاسک

مزید : صفحہ اول