لاہور میں سرچ آپریشن جاری350 افراد کو مشکوک سمجھ کر حراست میں لے لیا گیا

لاہور میں سرچ آپریشن جاری350 افراد کو مشکوک سمجھ کر حراست میں لے لیا گیا

لاہور ( کرائم سیل ) سی سی پی او لاہور چوہدری شفیق گجر کے احکامات کے تحت لاہور کی تمام ڈویژنز میں سرچ آپریشن جاری ہے ۔ سول لائنز ڈویژن پولیس نے گذشتہ دو روزمیں سرچ آپریشن کے دوران 15 دینی مدارس ،40 ہوٹل اور سرائے، 24 ہوسٹلز، 55 گودام، 47 ورکشاپس، 21فیکٹریوں،317گھروں، دکانوں اور 1200 سے زائد افراد کی چیکنگ کے دوران 350 افراد کو شناختی دستاویزات مکمل نہ ہونے اور مشکوک سمجھتے ہوئے حراست میں لیکر پوچھ گچھ کی ،ان میں سے 300 افراد کو بعد از تحقیقات اورشناختی دستاویزات دیکھنے کے بعدرہا کر دیا گیاجبکہ 50 ایسے مشکوک افغان اور پٹھانوں سے تحقیقات جاری ہیں جو اپنے شناختی کارڈ اور کوائف نہیں دے سکے ۔ تفصیلات کے مطابق ایس پی سول لائنز عمر ریاض چیمہ کی سربراہی میں پولیس کی مختلف ٹیموں نے ریس کورس ، قلعہ گجر سنگھ ، گڑھی شاہو ، پرانی انارکلی ، مزنگ ، چوبرجی ، جین مندر، لٹن روڈ، شالیمار ، گجر پورہ ، چائنہ سکیم ،مغلپورہ ، درس بڑے میاں ، بھوگیوال ،سنگھ پورہ ، عالیہ ٹاؤن ، شبیر ٹاؤن،کرول گھاٹی،دھوبی گھاٹ،ستارہ کالونی ، شریف کالونی اور نظام آباد کے علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران مختلف دینی مدارس، ہوٹل ، سرائے ، ہوسٹلز، گودام ، فیکٹریوں ، ورکشاپوں اور گھروں سے 350 افراد کو دستاویزات مکمل نہ ہونے اور مشکوک حرکات کے باعث حراست میں لیکر تفتیش کی جن میں سے 300 افراد کو شناختی دستاویزات دکھانے اور تفتیش میں کلیئر ہونے کے بعد چھوڑ دیا گیاجبکہ 50ایسے مشکوک افراد جو اپنے شناخت کے حوالے سے دستاویزاتی ثبوت مہیا کرنے کے علاوہ کوئی ٹھوس شواہد بھی نہ دے سکے، ان سے تفتیش جاری ہے جبکہ113گھروں اور دکانوں کے مالکان کو تھانوں میں کوائف جمع کرائے بغیر کرائے دار رکھنے پر وارننگ دیتے ہوئے تین دن میں کرایہ داروں کے کوائف متعلقہ تھانوں میں درج کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔لاہور میں ہونیوالے سرچ آپریشن کے دوران شہریوں کو بے جا پریشان کرنے اور شریف شہریوں سے بدتمیزی کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ اس ضمن میں جب لاہور پولیس کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو اُنہوں نے بتایا کہ سرچ آپریشن جرائم پیشہ افراد کے خلاف گھیرا تنگ کرنے اور خفیہ اداروں کی طرف سے فراہم کی جانے معلومات کی وجہ سے کیا جا رہا ہے اور اس دوران جہاں بھی پولیس کی جانب سے شریف شہریوں سے زیادتی کی گئی ایسے اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید : علاقائی