لوڈشیڈنگ، وزیراعظم کا حکم....کریڈٹ کون لے گا؟

لوڈشیڈنگ، وزیراعظم کا حکم....کریڈٹ کون لے گا؟
لوڈشیڈنگ، وزیراعظم کا حکم....کریڈٹ کون لے گا؟

  

 تجز یہ: چودھری خادم حسین

گزشتہ دنوں سابق وزیر مخدوم فیصل صالح حیات نے کہا تھا کہ وہ رینٹل پاور کیس لے کر سپریم کورٹ گئے اور خواجہ آصف ساتھی درخواست دہندہ بن گئے اور ذمہ داری ان پر آگئی لیکن بعد ازاں انہوں نے مناسب پیروی نہیں کی ورنہ آج توانائی کے بحران کو حل کرنے کی واضح شکل سامنے آگئی ہوتی۔ اسی طرح لاہور کے شہری جب مینار پاکستان کی طرف جاتے اور آزادی چوک کو ایک جدید انٹرچینج میں تبدیل ہوتے دیکھتے ہیں تو ان کو وہ کیمپ یاد آجاتا ہے جو پیپلزپارٹی کے وفاقی دور اقتدار میں پنجاب کے وزیراعلیٰ نے لگایا اور اسے دفتر قرار دے کر کولر تک لگوانے سے انکار کردیا تھا اور ہاتھ والے پنکھے سے ہوا لیتے تھے۔ ان دنوں لوڈشیڈنگ کو ایشو بناکر کہا گیا کہ اقتدار میں آتے ہی لوڈشیڈنگ بتدریج ختم کردیں گے، لیکن یہ سب انتخابی دعوے تھے، اقتدار ملا تو سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضے) کی مد میں پانچ سو ارب روپے کی رقم ادا کرکے ریلیف حاصل کرلی گئی، جو یقیناً تھوڑے عرصہ کے لئے تھی کہ قرضے پھر سے بڑھتے چلے گئے اور مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

اب موسم سخت آیا ہے تو سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا، خود وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو یہ کہنا پڑا ”مجھے اعدادوشمار نہ بتائیں، لوڈشیڈنگ کم (عملی طور پر) کرکے دکھائیں“ اب یہ بھی معروضی حالات ہیں کہ وزیراعظم نے یہ نوٹس تو عوامی احتجاج اور پریشانی کے حوالے سے لیا لیکن اس کا ”کریڈٹ“ 11مئی کو مجوزہ احتجاج کرنے والوں کو ملنا شروع ہوگیا۔ ایسے اقدامات ایسے وقت پر ہوں تو سلوک یہی ہوتا ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران حکمرانوں کی میڈیا ٹیم اور خود حکمرانوں نے توانائی کے بحران کو بہت کیش کیا، ایم او یو پر ایم او یو ہوتے رہے، ایک سے ایک منصوبے کے لئے سنگ بنیاد رکھے جاتے رہے لیکن یہ حقائق سابقہ حکومت ہی کی طرح فراموش کردئیے گئے کہ اس موسم میں ڈیموں سے پانی کا اخراج کم کرنا مجبوری ہوتا ہے کہ آئندہ فصل کے لئے ذخیرہ محفوظ رہے۔ یہ بھی نظر انداز کیا گیا کہ تھرمل کے لئے آئل کی ضرورت ہوتی اور یہ بجلی مہنگی پڑتی ہے، اس حقیقت کو ماہر اور اعدادوشمار کے گورکھ دھندے والے ماہرین ہی آشکار نہیں ہونے دیتے، ماضی کے حکمرانوں کو بھول میں رکھا تو اب بھی یہی کھیل جاری تھا، حالانکہ میاں شہباز شریف کی سخت تگ و دو اور نگرانی سے یہ توقع نہیں تھی۔

ان شعبدہ بازوں کا کمال ہے کہ عام آدمی کے لئے بجلی کے نرخ چودہ روپے فی یونٹ تک پہنچا دئیے گئے اور اس سے زیادہ یونٹوں کو اٹھارہ روپے فی یونٹ کردیا ہے لیکن پہلے سو یونٹوں کے چکر میں سبسڈی کا شور مچاکر عام لوگوں کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی جارہی ہے حالانکہ گرمیوں میں پنکھے والے صارف بھی دو سو یونٹ سے زیادہ بجلی خرچ کرنے کے مجرم ٹھہرتے ہیں کہ میٹر بھی تیز ہیں، اس کے باوجود نقصان تو بڑھا کر بتایا جاتا، چوری بھی شہریوں کے ذمہ لگائی جاتی لیکن لائن لاسز اور محکمے کی مفت بجلی کا ذکر نہیں ہوتا۔

وزیراعظم کے اجلاس میں پہلی مرتبہ بعض بند یونٹوں کا ذکر ہوا تو وہ برہم ہوئے کہ کیوں بند ہیں؟ ان کو چالو کیا جائے، اب کہتے ہیں کہ اسی ماہ کے اندر چار ہزار میگا واٹ سے زیادہ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوجائے گی۔ لیکن یہ نہیں بتاتے کہ پھر لوڈشیڈنگ کتنی ہوگی۔ وزیراعظم نے تو پھر بھی 6 اور 7 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کے لئے کہاہے، اگر رپورٹ پر اعتبار کیا جائے تو جون کے پہلے ہفتے میں بجلی کی کمی صرف ایک ہزار سے بارہ سو میگا واٹ رہنا اور لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بمشکل دو یا تین گھنٹے ہونا چاہیے۔ اب یہ میاں شہباز شریف کے دیکھنے کی بات ہے کہ کیا سچ اور کیا غلط ہے؟ بہرحال لوڈشیڈنگ گلے تو پڑ گئی ہے۔

توانائی کا بحران اپنی جگہ امن وامان کا مسئلہ بھی تو ہے، پھر یہ تو اعدادوشمار بولتے اور ماہرین نفسیات بتاتے ہیں کہ شدید گرمی میں جرائم بھی بڑھتے ہیں خصوصاً لڑائی جھگڑے اور قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے، ایسے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا چوکس ہونا ضروری ہے۔ ہمارے یہاں قوانین موجود ہوتے ہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہوتا، یہاں پر قواعد اور پنجاب میں قانون بھی موجود ہے کہ پراپرٹی ڈیلروں کی رجسٹریشن ہوگی، ان کے باقاعدہ دفتر ہوں گے اور ان پر یہ بھی لازم ہوگا کہ کسی بھی خریدار اور کرائے دار کے کوائف سے متعلقہ تھانے کو آگاہ کریں، اس پر بوجوہ عمل نہیں ہوا حالانکہ کئی بار ہدایات جاری ہوئیں۔

حال ہی میں لاہور پولیس نے وسیع تر سرچ آپریشن شروع کیا اور مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ ایسے میں تھانہ مصطفےٰ ٹاﺅن (وحدت روڈ) کی طرف سے لگے بینرز پڑھے تو اطمینان ہوا کہ کوئی درست سمت کی طرف ہوا، ان بینرز میں تمام پراپرٹی ڈیلرز اور کرایہ داروں کو سات روز کا وقت دیا گیا ہے۔ کہ وہ تھانے میں آکر اپنے اور کرایہ داروں کے کوائف درج کرائیں جس کے لئے ہیلپ ڈیسک کا بنادیا گیا ہے، یہ اچھا اقدام ہے اور قانون و قاعدے کے مطابق ہے اس پر پورے پنجاب ہی نہیں پورے ملک میں عمل ہونا چاہیے، اس سے غلط کار حضرات کی نشاند ہی میں مدد ملے گی جو بھی پولیس سٹیشن ایسی مثبت کارروائی اور جرائم کی روک تھام میں دلچسپی لے گا اسے عوامی حمایت بھی حاصل ہوگی۔

خادم حسین

مزید : تجزیہ