سمیع الحق کا میجر(ر) عامر پر مذاکراتی عمل کا دوبارہ حصہ بننے کےلئے پھر دباﺅ

سمیع الحق کا میجر(ر) عامر پر مذاکراتی عمل کا دوبارہ حصہ بننے کےلئے پھر دباﺅ

اکوڑہ خٹک (آئی این پی) جمعیت علماءاسلام (س) اور طالبان مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا حکومتی طالبان کمیٹی کے سابق رکن میجر(ر) محمد عامر پر مذاکراتی عمل کا دوبارہ حصہ بننے کے لئے ایک بار پھر دباﺅ، میجر عامر نے مذاکراتی عمل سے اپنی نا امیدی کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ معذرت کر لی۔ تفصیلات کے مطابق مولانا سمیع الحق نے میجر عامر کو کھانے پر اکوڑہ خٹک مدعو کیا تھا ، جس پر جمعرات کو یہاں مولانا سمیع الحق کی رہائش گاہ پر دونوں کے درمیان ملاقات ہوئی۔ مولانا سمیع الحق نے بات چیت کے دوران میجر عامر پر پر زور دیا کہ وہ مذاکراتی عمل کا دوبارہ حصہ بن جائیں کیونکہ ان کے بغیر یہ سلسلہ چل نہیں پا رہا۔ ذرائع کے مطابق مولانا سمیع الحق نے کہا کہ آپ کے والد مولانا محمد طاہر اور خاندان کا طالبان میں بہت زیادہ اثر و رسوخ تھا اس وجہ سے وہ آپ کا احترام کرتے ہیں اور اس وجہ سے مذاکراتی عمل کی راہ میں حائل بہت سی رکاوٹیں دور ہو جاتی تھیں۔ مولانا سمیع الحق نے میجر عامر سے کہا کہ وہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں دوبارہ اس عمل کا حصہ بن جائیں تو میجر عامر نے کہا کہ مذاکراتی عمل کو بعض لوگوں نے جان بوجھ کر خراب کیا، وہ اس سے علیحدہ ہو چکے ہیں اور اب وہ دوبارہ کسی صورت اس کا باقاعدہ حصہ نہیں بنیں گے۔ ذرائع کے مطابق میجر عامر نے مولانا سمیع الحق پر واضح کیا کہ وہ ملک اور قوم کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں اور پہلے بھی انہوں نے پس پردہ رہ کر خدمات انجام دینے کو ترجیح دی تھی۔ ذرائع کے مطابق مولانا سمیع الحق نے میجر عامر کی طرف سے جن تحفظات کا اظہار کیا، خاص طور پر طالبان کمیٹی کے بعض ارکان کے خود نمائی کے شوق پر انہیں یقین دلایا کہ وہ اس پر قابو پانے کی پوری کوشش کریں گے، تاہم میجر عامر نے مولانا سمیع الحق سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ میرے اپنے گھر کا ہے، میں مذاکراتی عمل سے الگ رہ کر خدمات سرانجام دینے کی کوشش کروں گا، ملک میں خطہ کی مجموعی صورتحال کے علاوہ ملکی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا

سمیع الحق

مزید : علاقائی