کیا سستے پرائیویٹ حج کے راستے میں ایئر لائنز رکاوٹ ہیں؟

کیا سستے پرائیویٹ حج کے راستے میں ایئر لائنز رکاوٹ ہیں؟
کیا سستے پرائیویٹ حج کے راستے میں ایئر لائنز رکاوٹ ہیں؟

  

حج2014ءپاکستانی تاریخ میں انفرادیت حاصل کر چکا ہے۔ سرکاری سکیم کا پیکیج نہ صرف سستا قرار دیا جا رہا ہے بلکہ8گھنٹوں میں سوا لاکھ سے زائد حج درخواستیں دے کر اہل پاکستان نے مہر بھی ثبت کر دی ہے، پہلے آیئے پہلے پایئے کی بنیاد پر وصول کی گئی درخواستوں نے وزارت مذہبی امور کو آزمائش میں ڈال دیا ہے، ہدف کے مطابق کس کا انتخاب کرے اور کس کا نہ کرے۔56000 افراد کے حج2014ءکے لئے کل سرکاری حج کوٹہ میں سے ہارڈ شپ کے افراد کو بھی اکاموڈیٹ کرنا ہے اور جموری دور ثابت کرنے کے لئے ارکان پارلیمنٹ کو بھی راضی کرنا ہے۔ بظاہرVIP حج سمیت ایسے تمام راستے بند کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جنہیں چور دروازہ کہا جاتا ہے اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ کوئی یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، مگر آج کے کالم میں چند امور کی نشاندہی کرنی ہے اس سے پہلے وفاقی وزیر سردار محمد یوسف، پیر حسنات شاہ، وفاقی سیکرٹری اطہر اسماعیل، جوائنٹ سیکرٹری حج شہزاد احمد ڈپٹی سیکرٹری فرید اللہ خٹک، ڈی جی سید ابو عاکف، ڈائریکٹر رفع شاہ اور ان کی ٹیم کا اہل ِ پاکستان کی طرف سے شکریہ اداکرنا ہے۔ انہوں نے کم وسائل میں رہتے ہوئے حج سستا کر کے دکھایا ہے مجھے یہ اس لئے دوبارہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ مخصوص لابی سرکاری حج سکیم کی بھتہ قریش کے علاقوں میں حاصل کی گئی عمارتوں کو بنیاد بنا کر منفی پراپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے، حالانکہ اس سے پہلے سرکار پر انگلی عزیزہ کی وجہ سے میرے سمیت سب اٹھاتے رہے ہیں۔ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ پرائیویٹ حج سکیم جسے سعودی حکومت نے حج2013ءکے آپریشن کو انتہائی کامیاب قرار دیا ہے۔2006ءسے2013ءتک پرائیویٹ سکیم کے حج آرگنائزر نے عزیزہ، خالدیہ، شوکیہ، سمیت دیگر نئے نئے علاقے پیکیج کو افورڈ ایبل بنانے کے لئے متعارف کرائے ہیں اس لئے بھتہ قریش کو زیر بحث لانے کی بجائے شٹل بس اور کھانے کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ممکنہ اقدامات کے لئے دُعا اور دوا کرنی چاہئے۔25ہزار سے زائد اِن عازمین حج کی بات کرنی ہے جنہوں نے غریب اور مستحق افراد کے حق پر شب خون مارنے کی کوشش کی ہے یہ وہ پروفیشنل حجاج کرام ہیں جو ہر سال پرائیویٹ حج سکیم میں مرضی کے مطابق پیکیج حاصل کر کے حج کی سعادت حاصل کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے ان ہزاروں مجبور اور غریب افراد جو پاکستان کے دور دراز علاقوں میں بستے ہیں سے زیادتی کی ہے جو اب بھی سالہا سال سے حج کے خواب کو تعبیر دینے کے لئے کمیٹیاں ڈالتے آ رہے ہیں۔ ان افراد کے خوفناک عزائم جو سامنے آئے ہیں اللہ کرے غلط ہوں اور ایسا نہ ہوا ہو۔ ان افراد نے2لاکھ62ہزار اور 2لاکھ72ہزار کے سرکاری پیکیج اس نیت سے بینکوں میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے جمع کرائے ہیں سرکاری حج سکیم کے جہاز کی ٹکٹ جو پرائیویٹ سکیم میں ڈیڑھ لاکھ تک ہے، سرکاری سکیم کی تقریباً ایک لاکھ کی ٹکٹ کا بھی مزا لیں اور مکہ مدینہ کی رہائش دو لاکھ میں مزید بھی حاصل کر لیں تو ان کا ملا کر پیکیج5لاکھ نہیں بنتا، حقیقت میں یہ افراد سات سات لاکھ ادا کر کے جانے والے بتائے جا رہے ہیں یہ بھی پتہ چلا ہے، بعض بنکوں کی بہترین مارکیٹنگ اور بعض کے مضبوط اکاونٹ کی وجہ سے بینکوں میں یہی افراد حج درخواست جمع کرانے کا وقت11بجے سے پہلے ڈالوانے میں کامیاب رہے ہیں اللہ تو یقینا بہتر فیصلہ ساز ہے حج کیوں ضروری ہے؟ حج کس پر فرض ہے؟ اور کیوں فرض ہے؟ یہ کسی اور نشست کے لئے رکھتے ہیں۔ البتہ ایک قاری کی تجویز وزارت مذہبی امور کو پیش کرنی ہے۔ حج 2013ءمیں پرائیویٹ حج سکیم میں فریضہ حج ادا کرنے والوں کا ڈیٹا نکالا جائے، ان کی درخواستیں سرکاری سکیم سے مسترد کر دی جائیں اور اس میں بھی شہروں کو پہلے نمبر پر رکھا جائے۔ یہ ساری گیم شہروں میں ہوئی ہے دیہات میں نہیں۔ میری دُعا ہے ایسا نہ ہوا ہو تمام باتیں افواہیں ثابت ہوں۔

حج پالیسی وہ جناب اعجاز الحق دیں یا علامہ کاظمی وہ ظفر الحق صاحب ہوں یا سردار یوسف ہمیشہ ایک بات آتی ہے ہمارے لئے تمام حاجی برابر ہیں، مگر عملاً ایسا نہیں ہوتا۔

2006ءسے پرائیویٹ حج سکیم کا آغاز ہوا۔ سعودی حکومت نے پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی اس لئے سکیم متعارف کرائی کہ حاجی مرضی کی سہولتوں کے ساتھ مرضی کا فلائٹ شیڈول اور عمارتیں حاصل کر سکیں اس کے لئے ریکارڈ یہ ہے کہ ہر حج پا لیسی میں دعویٰ کیا جاتا رہا۔ سرکاری سکیم اور پرائیویٹ حج سکیم کے 40روزہ اور شارٹ پیکیج کے حجاج یکساں سلوک کے مستحق ہیں۔ حج کرایہ ایک ہو گا، یہ باتیں ہر حج پالیسی کے اعلان کے موقع پر وفاقی وزیر مذہبی امور نے آج تک کی ہیں، مگر عمل کے وقت پرائیویٹ حج سکیم کے حج آر گنائزر کو کہہ دیا جاتا ہے۔ ایئر لائنز کا کاروبار ہے، آپ کا بھی کاروبار ہے کچھ زیادہ دے دیں۔ اس کا بعض افراد نے غلط مطلب لیا۔ انہوں نے پیکیج ہی برداشت سے باہر بنانے شروع کر دیئے اس سال حج 2014ءمیں جب وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور ان کی ٹیم کی طرف سے حج سستا کرنے کے لئے اقدامات شروع کئے گئے تو مجھے یاد ہے ہوپ کے درویش چیئرمین جناب سلمان طاہر جو تاریخ ساز کردار ادا کرنے کے بعد مزید چیئرمین رہنے سے معذوری کا اظہار کر چکے ہیں۔ فرمایا کہ پرائیویٹ حج سکیم کے حج آرگنائزر کے ساتھ اگر ایئر لائنز تعاون کریں اور وزارت اپنے اعلان کے مطابق سرکاری اور پرائیویٹ حج سکیم کے40روزہ اور شارٹ پیکیج کا حج کرایہ یکساں کروانے میں کامیاب ہو جائے تو اہل ِ پاکستان کو پرائیویٹ سکیم کا افورڈ ایبل پیکیج مل سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ وزارت کے ذمہ داران سے ہوپ کے ذمہ داران نے بات بھی کی۔ ہوپ کے سیکرٹری جناب احسان اللہ نے مجھے حوصلہ بھی دیا، دُعا کریں ایئر لائنز کی موناپلی ختم ہو جائے، اچھی خبر ملے گی، مگر کہاں، ایئر لائنز بھی اپنی روایات قائم رکھے ہوئے ہیں اور وزارت بھی سرکاری حج

تک کا کرایہ کم کرانے کو غنیمت سمجھتے ہوئے چپ ساد گئی ہے۔ سرکاری حج کرایہ آنے پر ہوپ سمیت ملک بھر کے حج آرگنائزر خوش پائے گئے، مگر ایئر لائنز کے گٹھ جوڑ اور مخصوص لابی کی سازشوں کی وجہ سے سرکاری حج سکیم میں پانچ ایئر لانز کی طرف سے30ہزار حج کرایہ وصول کرنے کی تجویز پر عمل ہوا اور نہ پی آئی اے، شاہین، سعودیہ ایئر لائنز کو سرکاری حج کرایہ پرائیویٹ حج سکیم کے40روزہ حاجیوں سے وصول کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد کرانے میں کامیاب رہی، نتیجہ ہمیشہ کی طرح حج آرگنائزر پھر ایئر لائنز مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ حج آرگنائزر نے مجبوراً وزارت کی طرف سے ٹھنڈی ہوا نہ آنے کی صورت میں شاہین ایئر لائنز کا ایک لاکھ25ہزار کا کرایہ کا فیصلہ قبول کر لیا ہے۔ ناس ایئر لائنز نے بھی ایک لاکھ25ہزار متعارف کرا دیا ہے۔ پی آئی اے قومی ایئر لائنز کا فائدہ لیتے ہوئے ابھی تک حج کرایہ ہی نہیں دے پائی۔ یہی صورت حال سعودی ایئر لائنز کی ہے۔ بابر اکرام کی صورت میں با وقار قیادت 100کی بجائے صرف 70فیصد افراد کو جہازوں میں اکاموڈیٹ کرنے کی خوشخبری دے رہی ہے۔ 100کوٹہ والے70افراد ان کے ساتھ لے جائیں، 30کو اللہ کے سپرد کر دیں۔ سعودیہ ایئر لائنز کے اوپر جے ایس اے کے نام پر قابض افراد نے مارکیٹ میں جو اندھیر نگری مچا رکھی ہے کسی صورت حوصلہ افزا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا میرٹ صرف پیسہ ہے۔ پی آئی اے نے جو کچھ گزشتہ حج میں کیا یا شاہین ایئر لائنز نے کیا یا سعودی ایئر لائنز کے نام پر بعض افراد مارکیٹ میں کر رہے ہیں ان پر بھی بہت سے کیمرے فٹ ہیں، ان کی ایمانداری اور نام نہاد مارکیٹنگ کے نام پر جاری مکروہ دھندے کو بے نقاب کرنے کے لئے بے تاب ہیں۔ وزارت مذہبی امور کو عازمین جج کی بہتری کے لئے آگے بڑھ کر ایئر لائنز سے معاملات طے کروانا چاہئے۔ سرکاری اور پرائیویٹ حج سکیم کے 40روزہ اور شارٹ پیریڈ کے حج کرایوں میں ہزاروں روپے کے فرق کو ختم کرانے کے لئے عملاً کچھ کرنا چاہئے۔ ریال سستا ہونے کی وجہ سے حج آرگنائزر کو بھی سرکار کی روایت پر عمل کرتے ہوئے اپنے پیکیج کو سستا کرنا چاہئے۔ ریال26 کا ہو گیا ہے تو لازمی واجبات 29روپے کی بجائے27روپے کے حساب سے نافذ کرنا چاہئے۔ آخر میں وزارت کے ذمہ داران سے درخواست کرنی ہے۔ حج کوٹہ کی لوٹ سیل جو مارکیٹ میں لگی ہوئی ہے ذمہ دار کون ہے؟ کس نے کتنے پیسے لے رکھے ہیں، کس کے نام پر لے ر کھے ہیں۔ حج کوٹہ کا پنڈورا بکس کھولنے سے پہلے اڈیالہ جیل، کیمپ جیل لاہور میں ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے والوں کے انجام کو سامنے رکھنا چاہئے۔ مجھے یقین ہے انہوں نے اتنا بڑا گناہ نہیں کیا تھا جتنی انہیں سزا مل چکی ہے۔ حج کوٹہ کا پنڈورا بکس کھلنے کے بعد منظر پیر صاحب حسنات شاہ صاحب شاید پہلے دیکھ چکے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم سے وزارت مذہبی امور میں مزید رہنے سے معذرت کی ہے۔ اگر عہد حاضر کے اتنے بڑے بزرگ سید پیر حسنات شاہ صاحب آنے والے منظر کا احوال دیکھ چکے ہیں تو حکمرانوں کو بھی عبرت پکڑنی چاہئے۔ ایک ایک ایم این اے سات سات کمپنیوں کو کوٹہ دلانے کے لئے سرگرم ہے۔ وزراءسینیٹرز کی بات ہی اور ہے اللہ نیتوں کے حال بہتر جانتا ہے۔

 

مزید : کالم