کرپشن کے خاتمے کیلئے بھر پور مہم چلائینگے آغاز اپنے ہی محکمے سے کرینگے رانا اکرام ربانی

کرپشن کے خاتمے کیلئے بھر پور مہم چلائینگے آغاز اپنے ہی محکمے سے کرینگے رانا ...

             لاہور(رانا شفیق پسروری، تصاویر ذیشان منیر) کرپشن بہت عام ہے، اس کے خاتمے کے لئے انقلابی انداز میں کام کرنا ہوگا، عام روٹین سے ہٹ کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، مجھ پر وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے جو اعتماد کیا ہے میں اس پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا اور دن رات ایک کرکے حکومتی اداروں سے کرپشن کے خاتمے کا جتن کروں گا۔ان خیالات کا اظہار محکمہ انٹی کرپشن کے نامزد ہونے والے وائس چیئرمین سابق وزیر اور ممتاز دانشور رانا اکرام ربانی نے”پاکستان فورم“میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے رشوت لینے والا منہ چھپاتا پھرتا تھا، اس کے بچے بھی اس کو مطعون کرتے تھے۔ اب رشوت اور کرپشن ایک فیشن کی طرح عام ہے اور کرپشن کرنے والے اکڑتے پھرتے ہیں۔ ہم کرپشن کے خاتمے کے لئے بھر پور مہم چلائیں گے اور آغاز اپنے ہی محکمے سے کریں گے۔ ہمارا اہم ہدف وہ پوائنٹ ہوں گے جہاں عام آدمی کو روز مرہ کاموں کے سلسلے میں جانا پڑتا ہے،ہم کھلی کچہریاں تسلسل سے لگائیں گے، لاٹ لائیینس بنائیں گے، ڈاک سے ملنے والی شکایات اور اخبارات وٹی وی کی رپورٹوں پر بھی کارروائی کریں گے اور مختلف انجمنوں وبارایسوسی ایشنز سے ملنے والی تجاویز کو بھی روبہ عمل لائیں گے۔رانا اکرام ربانی نے کہا کہ میں پیپلزپارٹی کا نظریاتی کارکن تھا، مگر اب پارٹی ،محض زرداری ٹولہ بن کر رہ گیا ہے، میں میاں نواز شریف ،میاں شہباز شریف کے کام کرنے کے بہترین انداز اور ملک وقوم سے اخلاص سے متاثر ہوکر مسلم لیگ(ن) میں شامل ہوا ہوں۔ محکمہ انٹی کرپشن کے نومنتخب وائس چیئرمین رانا اکرام ربانی نے کہا کہ کرپشن بہت زیادہ ہوچکی ہے، پہلے کبھی کوئی رشوت لیتا تھا تو معاشرے میں منہ چھپاتا پھرتا تھا،اس کے گھر والے اس کو ناپسند کرتے تھے اور واضح طور پر کہہ دیتے تھے کہ ہم حرام کی کمائی نہیں کھائیں گے،معاشرہ بدعنوانیوں پر زندگی تلخ کردیتا تھا، مگر آج کل رشوت کو نہ صرف معاشرتی طور پر قبول کرلیا گیا ہے بلکہ اس کو ذریعہ آمدنی سمجھتے ہوئے اچھی نطر سے دیکھا جاتا ہے،مگر یہ ہر حال میں یہ برائی ہے اور معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹتی چلی جارہی ہے۔ رانا اکرام ربانی نے کہا کہ پہلی ترجیح میں اگر ہم عوام کے اعتماد کو محکمہ انٹی کرپشن پر بحال کرنے ہی میں کامیاب ہو جائیں تو یہ بھی بہت ہوگا اور اس سے ہمارے کام کا ایک رخ بھی متعین ہوجائے گا۔ ہمارا معاشرہ جس سٹیج پر پہنچ گیا ہے، کرپشن کے خلاف مہم میں یہ نظرآتا ہے کہ کرپشن کو معاشرتی طور پر قبول کر لیا گیا ہے، جتنی بڑی یہ بُرائی ہے اتنا برا نہیں سمجھا جاتا، محض احتسابی کارروائیاں ہی کافی نہیں، ضرورت ہے کہ عوامی سطح پر ذہن سازی بھی کی جائے اور کرپشن کے مکرو چہرے اور بدنمائی کو واضح کیا جائے، رانا اکرام ربانی نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سوسائٹی کی ریڑھ کی ہڈی مڈل کلاس(متوسط طبقہ) ہوتا ہے، لیکن ہمارے ملک میں سب سے زیادہ دیہی طبقہ نشانہ بنا ہے، سی وجہ سے کوئی سیاسی ومعاشرتی تبدیلی کی لہر نظر نہیں آتی، متوسط طبقہ ملکی و عوامی معاملات سے لاتعلق ہر کر رہ گیا ہے اور یہ ایک بہت بڑا معاشرتی نقصان ہے، انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک میں پارلیمانی ارکان کو فنڈز فراہم نہیں کئے جاتے، یہ بھی کرپشن ہی کا ایک ذریعہ ہے اسی وجہ سے پارلیمانی ارکان بلدیاتی اداروں کو اپنی سوکن سمجھتے ہیں حالانکہ بلدیاتی اداروں کا قیام معاشرتی طور پر اور ترقیاتی معاملات میں بہت ضروری ہے، رانا اکرام ربانی سے سوال کیا گیا کہ وہ اپنے کام کو کس انداز میں آگے بڑھائیں گے؟انہوں نے کہا جس معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں اس میں اوپر سے نیچے کی طرف اصلاح مشکل ہے، میں چاہوں گا کہ اس طرف توجہ دوں جہاں ایک عام آدمی کے معاملات متعلق ہیں، مجھے وزیر اعلیٰ نے خاص طور پر ہدایت کی ہے کہ عام آدمی کے دکھ دور کرنے کے لئے ، اس کے معاملات سے متعلقہ محکموں اور عہدوں پر نظر رکھوں، وزیر اعلیٰ نے خاص طور پر کہا کہ میں انٹی کرپشن کے محکمے پر خصوصی توجہ دینا چاہتا تھا، مگر مصروفیات زیادہ ہونے کی وجہ سے نہ دے سکا، اس کے لئے میں ایک نیک نام آدمی چاہتا تھا، اس لئے آپ کو یہ محکہ سونپنا چاہتا ہوں، چنانچہ انہوں نے یہ ذمہ داری مجھے سونپ دی، میں اپنے ڈیپارٹمنٹ کو نئے سرے سے منظم کروں گا اور عام آدمی کی اپروچ آسان کروں گا۔ کھلی کچہریاں عام ہوں گی اور تسلسل سے ہوں گی، ہاٹ لائن کا انتظام کروں گا بار ایسوسی ایشنز اور دیگر عوامی انجمنوں سے تجاویز کا حصول اور ڈاک کے ذریعے درخواستوں کی وصولی بھی مدِ نظر رکھی جائے گی،مگر ڈاک سے وصول ہونے والی درخواستوں کے ساتھ شناختی کارڈ کی کاپی ضروری ہوگی اور تصدیق کے بعد کہ یہ درخواست صحیح آدمی کی طرف سے ہے تو اس پر فوری کارروائی ہوگی۔،۔ ایک اور سوال کے جواب میں محکمہ انٹی کرپشن کے نامزد وائس چیئرمین نے کہا امن وامان کی صورتِ حال کو مثالی نہیں کہا جاسکتا، لیکن وزیر اعلیٰ کے علم میں کوئی بدامنی کا معاملہ آجائے تو وہ فوراً ایکشن لیتے ہیں، متاثرین کی دل جوئی بھی کرتے ہیں اور معاملہ پیش آنے کی وجوہات بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اس حوالے سے خصوصی احکامات بھی جاری کرتے ہیں، رانا اکرام ربانی سے سوال کیا گیا کہ تمام ترقیاتی کام صرف لاہور ہی میں کیوں ہو رہے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ لاہور شہر پنجاب کا چہرہ ہے، اس لئے ہر صوبائی حکومت کو اس کی بہتری اور خوب صورتی پر ضرور توجہ دینی چاہئے ، اسی سے صوبہ کا امیج بنے گا، میاں صاحب اور موجودہ حکومت لاہور کے علاوہ بھی پورے صوبہ میں دوردراز علاقوں تک میں مثالی کام کر رہے ہیں، اس سلسلے میں ہر علاقے کے ایم این ایز اور ایم پی ای حضرات کو چاہئے کہ وہ اپنے علاقوں کی ترقی کے لئے وزیر اعلیٰ کے سامنے علاقائی مسائل ضرور رکھیں، گزشتہ روز وہ رینالہ کود گئے اور وہاں لوگوں نے مطالبہ کیا تو اسی وقت وہاں 1122بنانے کے احکامات دے دئیے، ،۔ رانا اکرام ربانی سے ایک سوال پوچھا گیا کہ آپ نے اپنی پارٹی کیوں چھوڑی؟انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اب وہ پارٹی نہیں رہی ، جو بھٹو صاحب نے قائم کی تھی، یہ اب زرداری ٹولہ بن چکی ہے، پیپلز پارٹی نہیں خود اس کے اپنے ایک لیڈر کا بیان ،چند روز قبل آیا تھا کہ میاں منظور وٹو کی قیادت میں موجودہ پارٹی سے کارکن دور ہوتے جارہے ہیں۔ میاں منظور وٹو کا ماضی کا کردار لوگوں کے سامنے ہے، ایک سوال کے جواب میں رانا اکرام ربانی نے کہا کہ پچھلے الیکشن میں زرداری ٹولے نے جس طرح پارٹی ٹکٹ تقسیم کئے اس سے رہی سہی پارٹی بھی تباہ ہوکر رہ گئی تھی، قومی اسمبلی کا امیدوار کسی اور صوبائی امیدوار کو لئیے پھر رہا تھا، پارٹی ورکروں سے کوئی رابطہ نہ تھا، وہ قاف لیگ، جس کو قاتل لیگ کہا جاتارہا، اس سے اتحاد کو پارٹی ورکروں نے کسی صورت قبول نہیں کیا تھا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پارٹی عوامی سطح سے غائب ہوگئی۔

مزید : صفحہ آخر