جان لیوا بیماریوں میں گھرے انسانوں کی خدمت کرنا عبادت سے کم نہیں،گورنر

جان لیوا بیماریوں میں گھرے انسانوں کی خدمت کرنا عبادت سے کم نہیں،گورنر

لاہور( سپیشل رپورٹر) گورنرپنجاب چودھر ی محمد سرور نے کہا ہے کہ مصیبت،تکالیف اور جان لیوا بیماریوں میں گھرے ہوئے انسانوں کی خدمت کرنا اور ان کے دکھوں کا مداواکرنا عبادت سے کم نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاﺅس لاہور میں تھیلا سیمیا سوسائٹی آف پاکستان کے زیر اہتمام تھیلا سیمیا کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔گورنر پنجاب نے کہا کہ حکومت پنجاب نے اس سلسلے میں 18اضلاع میں تھیلا سیمیا پریوینشن پروگرام شروع کیا ہے جو کامیابی سے جاری ہے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ شادی سے قبل خون کے ٹیسٹ جیسے اقدامات کے ذریعے ہم اپنے آنے والی نسلوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں طبعی ماہرین اور ذرائع ابلاغ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ قبل ازیں، سوسائٹی کی چیئرمین مس جواریہ نے سوسائٹی کے اغراض و مقاصد سے متعلق تفصیلا بریفنگ دی اور حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس بیماری میں مبتلا مریضوں کے لئے ادوایات اور خون کی فراہمی میں مزید بہتری لائے۔بعد ازاں، گورنر پنجاب چو دھر ی محمد سرور سے گورنر ہاﺅس لاہور میں ایران کے صوبے سستان اور بلوچستان کے گورنر علی اوست ہاشمی نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ¿ خیال کیا گیا۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان قدیم ،تاریخی اور ثقافتی تعلقات باہمی احترام اور دوطرفہ تعاون پر قائم ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان توانائی، گیس ،انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو نئی وسعتیں دے کر دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تجارتی روابط کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ ایران کے گورنر علی اوست ہاشمی نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ دریں اثنا، گورنر پنجاب چو دھر ی محمد سرور سے گورنر ہاﺅس لاہور میں وومن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد نے چیمبر کی صدر قیصرہ شیخ کے ہمراہ ملاقات کی۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ خواتین مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کے ساتھ ساتھ اب تجارتی شعبے میں بھی اپنا لوہا منوا رہی ہیں۔

مزید : صفحہ آخر