لوڈشیڈنگ،بجلی چوری اور اوور بلنگ کنٹرول نہ کرنے پر وزارت پانی و بجلی کوتفصیلی جواب داخل کرانیکا حکم

لوڈشیڈنگ،بجلی چوری اور اوور بلنگ کنٹرول نہ کرنے پر وزارت پانی و بجلی ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کی لوڈشیڈنگ، چوری اور اوور بلنگ کنٹرول نہ کرنے کیخلاف دائر درخواستوں پر وزارت پانی و بجلی، پیپکو اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی )کو4جون تک حتمی اور تفصیلی جواب داخل کرانے کا حکم دیدیا، چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ افسوس ہے کہ حکومت غریب عوام کی مشکلات کم کرنے کیلئے کچھ نہیں کر سکی ۔چیف جسٹس عمر عطاءبندیال نے درخواستوں پر سماعت کی ، واپڈا کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ تسلیم کرتے ہیں کہ بجلی کی چوری ہو رہی ہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گرمی میں آپ کا پلان کیسے فیل ہو گیا، پیپکو کے نمائندے نے بتایا کہ جب تک بجلی کی پیداوارمیں اضافہ نہیں ہوگا لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ خواجہ طارق رحیم کا موقف تھا کہ کھاد انڈسٹری کو دی جانے والی گیس مل جائے تو لوڈشیڈنگ میں کمی ہو جائے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوڈشیڈنگ کی موجودہ لہر قوم اور معاشرے کے لئے تباہ کن ہے۔ہرصارف کو اتنی بجلی ملنی چاہیے جو اس کی بنیادی ضرورت کو پورا کر سکے۔عدالت شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنائے گی۔ درخواست گزاروں کے وکیل ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ ملک میں 16گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ، حکومت لوڈشیڈنگ کم کرنے اور بجلی کی پیدوار میں اضافہ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔عدالت نے بجلی کی لوڈشیڈنگ، چوری اور اوور بلنگ کنٹرول نہ کرنے کیخلاف دائر درخواستوں پر وزارت پانی و بجلی، پیپکو اور این ٹی ڈی سی کو4جون تک حتمی اور تفصیلی جواب داخل کرنے کا حکم دیدیا۔

جواب داخل

مزید : صفحہ آخر