سائنسدانوں نے مشرقی اور مغربی تہذیبوں میں فرق کی وجہ ڈھونڈ لی

سائنسدانوں نے مشرقی اور مغربی تہذیبوں میں فرق کی وجہ ڈھونڈ لی
سائنسدانوں نے مشرقی اور مغربی تہذیبوں میں فرق کی وجہ ڈھونڈ لی

  

نیویارک (نیوزڈیسک) کئی صدیوں سے ہماری دنیا مشرق اور مغرب میں بٹی ہوئی ہے، ایک طرف امریکہ برطانیہ اور یورپ کے مغریبی ممالک اور دوسری طرف افریقہ اور ایشیاءجیسے براعظموں کے مشرقی ممالک مشرق اور مغرب میں تہذیب و تمدن ، تعلیم و تربیت اور سوچ وفکر کا بہت بڑا فرق پایا جانا ہے اور بعض مفکرین کے نزدیک یہ دو بڑی تہذیبیں ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ لیکن اب حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مشرق اور مغرب کے درمیان جو زمین آسمان کا فرق ہے اس کی بنیاد دو فصلیں چاول اور گندم ہیں۔ یونیورسٹی آف ورجینیا کے تھامس ٹال ہیلم اور ان کے رفقاءنے اپنی دلچسپ تحقیق میں یہ واضح کیا ہے کہ چونکہ مشرق میں تاریخی طور پر چاول کاشت کئے جاتے تھے اور مغرب میں گندم تو ان فصلوں کے طریقہ کاشت اور ضروریات نے ہی مشرق اور مغرب کی تہذیبوں میں فرق کی بنیاد رکھی۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ چاول کی فصل کی کاشت بہت محنت طلب ہوتی ہے اور اس کیلئے خاندانوں اور ہمسایوں کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا پڑتا ہے جس سے مشرق کا آپسی تعاون، شتوں کی قربت اور ایک دوسرے پر انحصار کا کلچر پیدا ہوا۔ جبکہ دوسری طرف گندم کی کاشت کیلئے بارشوں پر انحصار ہوتا تھا اور قدرے کم محنت طلب ہونے کی وجہ سے کسان دوسروں پر انحصار اور تعاون کیلئے مجبور نہیں تھے جس کی وجہ سے ان ممالک میں انفرادیت پسندی اور آزادی کا کلچر پیدا ہوا۔ یہ فرق بعد میں اتنے بڑھ گئے کہ دو انتہائی مختلف تہذیبیں وجود میں آگئیں۔

مزید : بین الاقوامی