ریچھ کے جسمانی اعضاء میں چربی رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتی

ریچھ کے جسمانی اعضاء میں چربی رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتی
ریچھ کے جسمانی اعضاء میں چربی رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتی

  

نیویارک (نیوزڈیسک)کیا کبھی موٹے تازے بھاری بھرکم اور ہٹے کٹے قطبی ریچھ کو دیکھ کر آپ کے ذہن میں خیال آیا کہ یہ اس قدر موٹا بھالو موٹاپے کا علاج بھی کرسکتا ہے۔ لیکن سائنسدانوں کے ذہن میں یہ خیال ضرور آچکا ہے شاید آپ کو یقین نہ آئے لیکن سائنسدانوں نے ان یچھوں کے جینز میں ایسی تبدیلیوں کا سراغ لگا لیا ہے کہ جن کے باعث یہ چربی سے بھرپور غذاﺅں کے ڈھیر کے ڈھیر کھا کر بھی موٹاپے سے پیدا ہونے والے مسائل سے محفوظ رہتے ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ایٹ برکلے کے پروفیسر راسمن نکلسن اور ان کی ٹیم نے معلوم کیا ہے کہ ان برفانی ریچھوں کے جینز میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث ان کے جسم کی چربی اور ان خون کے نظام اور جسم کے دیگر اعضاءمیں خون کی رکاوٹ یا دیگرمنفی اثرات پیدا نہیں کرسکتی اور یہ ریچھ بے پناہ موٹاپے کے باوجود بھی دل کی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ واضح رہے کہ قطبئی ریچھ سمندری سیل اور وہیل کی چربی خوب جی بھر کے کھاتے ہیں اور ان کے جسم کا آدھے سے زائد وزن چربی پر مشتمل ہوتا ہے لیکن ان میں موٹاپے اور چربی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل نہیں پوئے جاتے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ قطبی ریچھ کے جینز کی تبدیلیوں کا مطالعہ کرکے انسانوں کو موٹاپے کے خطرناک نتائج سے بچایا جاسکتا ہے۔

مزید : تعلیم و صحت