ساڑھے پانچ ہزار سال پرانی ممی توجہ کا مرکز بن گئی

ساڑھے پانچ ہزار سال پرانی ممی توجہ کا مرکز بن گئی
ساڑھے پانچ ہزار سال پرانی ممی توجہ کا مرکز بن گئی

  

قاہرہ (نیوزڈیسک) مصر قدیم مقبروں اور ان میں ملنے والی ممیوں کی وجہ سے دنیا بھر کے لوگوں کی دلچسپی کا مرکز ہے یہ مقبرے بیک وقت حیرت اور دہشت کے جذبات کو جنم دیتے ہیں۔ حنوط شدہ لاشیں قدیم مصر سے متعلق دریافتوں میں سے اہم ترین ہیں۔ لیکن اب ایک ایسی ممی کی دریافت ہوئی کہ جو تقریباً ساڑھے پانچ ہزار سال پرانی ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ اور عام لوگوں کی دلچسپی کا مرکز بن گئی ہے۔ اس ممی کی دریافت جنوبی مصر کے علاقے کوم الاحمر میں واقع ایک قدیم مقبرے سے ہوئی ہے۔ یہ مقبرہ اور اس میں ملنے والی حنوط شدہ لاش اس قدر پرانی ہے کہ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ قدیم مصر کے دو حصوں کے اکٹھا ہونے اور فرعونوں کے پہلے حکمران خاندان سے بھی پرانی ہے۔ مصر کی وزارت آثار قدیمہ نے بتایا کہ یہ حنوط شدہ لاش اس مقبرے کے نوجوان مالک کی ہے اور اس کے ساتھ ہاتھی دانت کا بنا ہوا ایک مجسمہ بھی دریافت ہوا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس دریافت سے فرعونوں سے پہلے کے مصر کے بارے میں قیمتی معلومات حاصل ہوں گی۔

مزید : تفریح