امریکا نے یمن میں زمینی دستوں کی موجودگی کا اعتراف کرلیا

امریکا نے یمن میں زمینی دستوں کی موجودگی کا اعتراف کرلیا
امریکا نے یمن میں زمینی دستوں کی موجودگی کا اعتراف کرلیا

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی محکمہ دفاع 'پینٹاگون' نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ اس کے فوجی ایک سال قبل یمن میں شروع ہونے والی بغاوت کے آغاز سے ہی یمن میں تعینات ہیں تاکہ القاعدہ کی مقامی شاخ کے خلاف لڑائی میں عرب اور مقامی حکومتوں کی مدد کرسکیں۔

افغان صوبے غزنی میں مسافر بس اور آئل ٹینکر میں تصادم ، 50افراد ہلاک ،60سے زائد زخمی

العربیہ کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان جیف ڈیوس نے کہا ہے کہ ” امریکی فوج یمن میں القاعدہ نواز جنگجوﺅں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں بھی تیزی لے آئی ہے اور حالیہ ہفتوں میں چار مختلف جگہوں پر القاعدہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے“۔انہوں نے مزیدبتایا کہ ” امریکی فوجیوں کی ایک بہت محدود تعداد یمنی اور عرب فوج خصوصا اماراتی فوجیوں کے ساتھ مل کر یمن کے ساحلی شہر المکلاء کے قریب کام کر رہی ہے“۔

سعودی کابینہ کے 6 وزیر برطرف، سب سے تجربہ کار وزیربھی فارغ، متعدد وزارتوں کے نام تبدیل کردیے گئے

امریکی ترجمان نے فوجی کی موجودگی پر مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ”یہ ہمارے مفادات کے لئے لازمی ہے۔ اگر کسی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے ساحلی شہر کا قبضہ سنبھال لیا تو ہمارے مفادات کو شدید دھچکا لگے گا اور ہم اسی کو روکنے کے لئے تعاون کررہے ہیں“۔پینٹاگون نے مزید اعلان کیا کہ اس کی جانب سے حالیہ ہفتوں کے دوران القاعدہ کے خلاف فضائی کارروائیوں میں بھی تیزی لائی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق” 23 اپریل سے اب تک القاعدہ کے خلاف چار فضائی حملے کئے گئے ہیں جس کے نتیجے میں القاعدہ کے 10 جنگجو ہلاک جبکہ دیگر زخمی ہوئے ہیں“۔

مزید : بین الاقوامی