سنی اتحاد کونسل نے ایبٹ آباد میں لڑکی کو زندہ جلانے کے واقعہ کو غیر شرعی قرار دے دیا

سنی اتحاد کونسل نے ایبٹ آباد میں لڑکی کو زندہ جلانے کے واقعہ کو غیر شرعی قرار ...
سنی اتحاد کونسل نے ایبٹ آباد میں لڑکی کو زندہ جلانے کے واقعہ کو غیر شرعی قرار دے دیا

  

لاہور (ویب ڈیسک) سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاجزادہ حامد رضا کی اپیل پر سنی اتحاد کونسل کے مفتیوں نے اپنے اجتماعی شرعی اعلامیہ میں ایبٹ آباد میں جرگے کے فیصلے پر 16 سالہ لڑکی کو قتل کر کے اس کی لاش کو جلائے جانے کے المناک واقعہ کو غیر شرعی ، غیر اخلاقی اور غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔روزنامہ خبریں کے مطابق شرعی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسلام میں نجی عدالتوں اور جرگوں کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اسلام ماں، بہن اور بیٹی کو خود ساختہ رسومات کے نام پر قتل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ غیرت کے نام پر خواتین کا قتل غیر شرعی عمل ہے۔ دین اسلام اسلامی ریاست کے عدالتی نظام کی تابعداری کا درس دیتا ہے ۔ جرگے کا لڑکی کو جلادینے کا فیصلہ بدترین جہالت پر مبنی ہے ۔ اس دردناک واقعہ میں ملوث افراد کو سخت ترین سزائیں دیکر عبرت کا نشانہ بنایا جائے۔

حکومت بند گلی میں داخل ہو چکی ، اسی سال الیکشن ہوتا دیکھ رہا ہوں : عمران خان

شرعی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جاگیردارانہ نظام اور قباعلی سسٹم کی ظالمانہ رسموں کے سدباب کی ضرورت ہے ۔ حکومت جرگہ سسٹم کے تحت ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے جس کے نتیجے میں بے گناہ افراد موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں۔ خودساختہ ، جاہلانہ اور ظالمانہ رسومات کا تدارک ناگزیر ہو چکا ہے۔ حکومت عدالتی نظام کو اسلامی اصولوں پر استوار کرے۔ سزاو جزا کا مﺅثر نظام بنا کر اس کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کیلئے شرعی قوانین اور اسلامک لاءسے آگاہی لازمی قرارد ی جائے۔

سعودی کابینہ کے 6 وزیر برطرف، سب سے تجربہ کار وزیربھی فارغ، متعدد وزارتوں کے نام تبدیل کردیے گئے

شرعی اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ معصوم لڑکی کے بے رحم قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر مثال قائم کی جائے ۔ تاکہ آئندہ اس طرح کے جاہلانہ فیصلے کرنے کی کسی کو جرات نہ ہو۔ نجی عدالتوں اور جرگوں میں زندگی اور موت کے فیصلے ہونے ملکی قوانین اور شریعت سے بغاوت ہے جس کو روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ جرگہ سسٹم معاشرے کو یرغمال بنانے کے مترادف ہے ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ معاشرے کی تربیت کی اشد ضرورت ہے اور اسلامی اصولوں کے مطابق حقوق نسواں کے بارے میں شعور پیدا کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ اور علمبردار ہے۔ اسلام نے عورت کو ماں ، بہن اور بیٹی کی حیثیت سے احترام اور عزت والا بلند مقام عطا کیا ہے۔ اسلامی اصولوں پر عمل کر کے عورتوں پرہونے والے مظالم کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔

افغان صوبے غزنی میں مسافر بس اور آئل ٹینکر میں تصادم ، 50افراد ہلاک ،60سے زائد زخمی

شرعی اعلامیہ جاری کرنے والے مفتیان کرام میں مفتی محمد حسیب قادری ، مفتی محمد اکبر رضوی، مفتی محمد صدیقی، علامہ محمد اکبر نقشبندی ، علامہ ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان، علامہ سرور حیدری ، علامہ تنویر الاسلام نقشبندی، علامہ حافظ یعقوب فریدی، علامہل سیف سیالوی، مفتی محمد شیرخان ، مفتی محمد بخش رضوی ، مفتی غلام عثمان غنی، مفتی محمد منور حسین رضوی ، مفتی عبدالشکور رضوی شامل ہیں۔

مزید : قومی