آم کی برآمدات کے فروغ کیلئے پراسیسینگ کی تمام سہولیات کے حامل رائپننگ سینٹرزقائم کئے جائیں، احمد جواد

آم کی برآمدات کے فروغ کیلئے پراسیسینگ کی تمام سہولیات کے حامل رائپننگ ...

اسلام آباد (اے پی پی) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( ایف پی سی سی آئی) کی ریجنل قائمہ کمیٹی کے چئرمین احمد جواد نے کہا ہے کہ آم کی ملکی برآمدات کے فروغ کیلئے پراسیسینگ کیتمام تر سہولیات کے حامل رائپننگ سینٹرزقائم کئے جائیں، جس سے عالمی مارکیٹ میں ملکی آم کی دوگنا قیمت وصول کی جا سکتی ہے اورآم کی برآمدات سے حاصل ہونے والے زر مبادلہ میں دوگنا اضافہ کیا جا سکتی ہے۔احمد جواد نے بتایا کہ پاکستانی آم اپنے خصوصی ذائقے اور معیار کی وجہ سے دنیا بھر کے خریداروں کیلئے انتہائی پر کشش ہے اور دنیا کے دیگر ممالک میں پیدا ہونے والے آم اسکا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی ذائقہ کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے کیلئے رائپننگ سینٹرز انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ دنیا بھر کے خریدار آم کی پراسیسنگ کو اہمیت دی جاتی ہے جبکہ بد قسمتی سے پاکستان میں آم کی پراسیسنگ کی خاطر خواہ سہولیات کا فقدان ہے۔

احمد جواد نے بتایا کہ ملک میں 20لاکھ ٹن آم پیدا ہوتا ہے لیکن اس میں سے صرف ایک لاکھ ٹن آم سالانہ برآمد کیا جا سکتا ہے اور کم برآمدات کی بنیادی وجہ پراسیسنگ کی نا کافی سہولیات ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ گذشتہ سال تھائی لینڈ کے آم یو اے ای کی منڈی میں 49.50 درہم فی کلو جبکہ پاکستانی آم صرف 14 درہم فی کلو کی قیمت حاصل کر سکے جبکہ اپنے ذائقہ اور معیار کے باعث پاکستانی آم کہیں بہتر ہے۔اسکی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تھائی لینڈ نے پراسیسنگ کی جدید سہولتوں کا انتظام کر رکھا ہے اور بد قسمتی سے پاکستان میں مناسب سہولتیں حاصل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پراسیسنگ کی ضدید سہولتوں کی فراہمی سے ہم آم کی ملکی برآمدات میں تین گنا اضافہ کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا کی نجی شعبہ کی شراکت سے ہارٹی کلچر کی برآمدات بڑھانے کیلئے جامع اقدامات کئے جائیں جس سے قیمتی زرمبادلہ کمانے میں مدد ملے گی۔

مزید : کامرس