حکومتی امداد کے بغیر ہاکی کی بحالی ممکن نہیں ، پی ایچ ایف

حکومتی امداد کے بغیر ہاکی کی بحالی ممکن نہیں ، پی ایچ ایف

 ایبٹ آباد (آن لائن) پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری شہباز احمد سینئر نے کہا ہے کہ ہاکی کا ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے انفرا سٹرکچر اور حکومتی امداد کے بغیر ہاکی کی بحالی کسی صورت ممکن نہیں ہمیں ہر حال میں خالصتا قوم پرست پاکستانی ہونے کے ناطے ہاکی اور ملک کے مفاد میں فیصلے کرنے ہونگے اور تمام صوبوں میں سپورٹس کے کوٹے کی بحالی اور ہاکی کے کھلاڑیوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے حکومتی سطح پر عملی اقدامات بروئے کار لانے پرخصوصی توجہ دینی ہو گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایبٹ آباد میں جاری جونیئر ہاکی ٹیم کے تربیتی کیمپ کے دورے کے موقع میڈیاکے نمائندوں سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر اولمپئن طاہر زمان بریگیڈیئر فرحانی اولمپئن لالہ فضل الرحمن مقامی ہاکی ایسوسی ایشن کے عہدیدار پروفیسر ناصر محمود ،سردار عارف محمود ،سردار وسیم،محمد مدثر شوکت حسین اور دیگر بھی موجود تھے شہباز احمد سینئر نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سے دس سال میں ہاکی میں بہتری کی بجائے تنزلی ہوئی ہے اور لڑکوں میں ملک کے لئے کھیلنے کے جذبات میں کمی واقع ہوئی ہے یہ کھلاڑی ملک کے لئے لڑنے کی بجائے ہاکی لیگ کے لئے لڑتے دکھائی دیتے ہیں ان میں اپنی ذاتی پہچان ختم ہو کر رہ گئی ہے اور انکی سکل اور لڑنے کی سپرٹ میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور ان تمام چیزوں کی بحالی کے لئے ایک مضبوط ارادے اور سوچ کے ساتھ انہیں اپنے اندر سے خود کو بلند کرنا ہوگا اور اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا انہون نے کہا کہ موجودہ فیڈریشن تمام معاملات کو شفاف طریقے سے آگے بڑھانے پر یقین رکھنتی ہے اور کھلاڑیوں کی سلیکشن میں ہر طرح کا فیورٹ ازم مکمل طور پر ختم کر دیا ہے اور کسی کھلاڑی کے ساتھ کوئی ذیادتی اور بدنیتی قطعا نہیں کی جائیگی اور جو اہل اور فٹ ہوگا وہی ٹیم کا حصہ ہوگا انہوں نے کہا کہ آئندہ جونیئر ورلڈ کپ کی کی تیاریوں کے لئے ٹیم کو دو مہینے کا یورپ کا ٹور کرایا جائیگا تاکہ ان نئے لڑکوں کو یورپین ٹیموں کے ساتھ کھیلنے کا تجربہ حاصل ہو سکے ان لڑکوں کی ٹانگوں میں میں زور ہے انہیں دماغی طور پر اپنے آپ کو مضبوط بن کر لڑنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا اور مستقبل میں انہی جونیئرز اور سینئیرز کے ملاپ سے ٹیم تشکیل دی جائیگی انہون نے کہا کہ حکومت کرکٹ کی طرح ہاکی فیڈریشن کو بھی خود مختاری دینے کے ساتھ ساتھ وسائل اور فنڈز فراہم کریاور اپنا چیک اینڈ بیلنس رکھے اور ہر چار سے چھ مہینے بعد آڈٹ کر وائے ہماری سرپرستی کرے اور متعلقہ وزیر روزانہ کی بنیاد پر اگر صرف پانچ منٹ بھی ہاکی کو دے دیں تو یہ خود بخود بہتری کی طرف گامزن ہو جائیگی جبکہ انہوں نے بعض عناصر کی جانب سے پی ایچ ایف کو انسانی سمگلنگ مین ملوث کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور ان عناصر کے محاسبے کا مطالبہ کرتی ہے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی