کپاس کی نگہداشت خصوصی توجہ درکار ہے

کپاس کی نگہداشت خصوصی توجہ درکار ہے

کامرس رپورٹر

کپاس پاکستان کی ایک انتہائی اہم فصل ہے جو کہ ملکی زرمبادلہ میں 60 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ کپاس پاکستان میں پنجاب اور سندھ کے کئی اضلاع میں کاشت کی جاتی ہے۔ ساہیوال، ملتان، خانیوال، وہاڑی، لیہ، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازیخان، بہاولپور اور رحیم یار خان کپاس پیدا کرنے کے مرکزی اضلاع میں شامل ہیں۔ کپاس کی پتہ مروڑ وائرس اور جراثیمی جھلساؤ بہت خطرناک بیماریاں ہیں اور گزشتہ سال ان بیماریوں کے حملہ کی وجہ سے کپاس کی پیداوار کا بہت زیادہ نقصان دیکھنے میں آیا ہے۔ سفید مکھی کپاس کے پودوں سے رس چوسنے کے ساتھ پتہ مروڑ وائرس کو بھی اپنے جسم کے اندر لے جاتی ہے اور پھر صحت مند پودوں میں منتقل کرتی ہیں۔ کپاس کی پتہ مروڑ وائرس کی بیماری پاکستان میں 1990ء کی دہائی میں کپاس کی پیداوار میں کمی کا باعث بنی۔ یہ بیماری پاکستان اور انڈیا میں کپاس کی پیداوار میں کمی کا ایک اہم سبب گردانی جاتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں سفید مکھی میں کیڑے مار ادویات کے خلاف مزاحمت کے پیدا ہونے کی وجہ اور موسمی حالات میں تبدیلیوں کے باعث کپاس کی پتہ مروڑ وائرس اور جراثیمی جھلساؤ کی بیماریوں کے حملہ میں اضافہ ہوا ہے۔ بھنڈی توری، تمباکو، آلو، بینگن، حلوہ کدو، کھیرا، تر، کریلا، ٹماٹر، لیہلی، ٹینڈا، تربوز، خربوزہ، سورج مکھی اور مرچ وغیرہ سفید مکھی کے متبادل میزبان پودے ہیں اور جڑی بوٹیاں بالخصوص مکو، کرنڈ، لیہہ، ہزاردانی، اٹ سٹ، اک، رتن جوت، گڑھل، پٹھ کنڈا، سن ککڑا اور آرائشی پودے پٹونیا، گارڈینیا اور لینٹانا وغیرہ بھی سفید مکھی کے میزبان پودوں کے علاوہ کپاس کی پتہ مروڑ وائرس کے بھی میزبان پودے ہیں۔ پتہ مروڑ وائرس کی دس سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں۔ پتہ مروڑ وائرس کی بوریوالا قسم زیادہ شدید نقصان کا باعث بنتی ہے اور یہ قسم 2002ء میں وہاڑی کے علاقہ بورے والا میں رپورٹ ہوئی۔ اس وائرس کی وجہ سے قوت مدافعت رکھنے والی کپاس کی تمام اقسام کی قوت مدافعت بھی ختم ہوگئی ہے۔ اب تک وائرس کی بورے والا قسم کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی کپاس کی نئی اقسام متعارف نہیں کروائی گئیں اور مسلسل کوششوں کے باوجود زرعی سائنسدان کپاس کی پتہ مروڑ وائرس کے تدارک میں خاطر خواہ کامیاب حاصل نہیں کرسکے۔ پتہ مروڑ وائرس سے متاثرہ پودوں کے پتے اوپر یا نیچے کی طرف مڑجاتے ہیں اور پتے چڑمڑ جاتے ہیں۔ وائرس سے متاثرہ پودے قد میں صحت مند پودوں کی نسبت قدرے چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ پتوں کی رگیں زیادہ موٹی ہوجاتی ہیں اور پتوں کے نیچے چھوٹے کپ کی طرح کی ساختیں بن جا تی ہیں۔ بیمار پودوں پر ٹینڈوں کی پیداوار میں خاطر خواہ کمی ہو جاتی ہے۔کپاس کی پتہ مروڑ وائرس کی بیماری سے بچاؤ کیلئے ضروری ہے کہ وائرس سے پاک اور صحت مند بیج استعمال کیا جائے۔ کپاس کا بیج پنجاب سیڈ کارپوریشن کے رجسٹرڈ ڈیلروں یاپرائیویٹ سیڈ کمپنیوں کا فیڈرل سیڈسرٹیفیکشن ڈیپارٹمنٹ سے سرٹیفائیڈ سیڈ استعمال کیا جائے۔ بیج کوبر اتارنے کے بعد ضررساں کیڑوں سے محفوظ بنانے کیلئے سفارش کردہ کیڑے مار ادویات سے آلودہ کر کے کا شت کیا جائے ۔ اس عمل سے کپاس کی فصل اپنے اگاؤ کے ابتدا ئی دنوں میں رس چوسنے والے اوردیگر کیڑوں سے محفوظ ہو جاتی ہے اور پودوں میں مختلف بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

گزشتہ سالوں میں کئے گئے تجربات کی روشنی میں زرعی سائنسدانوں نے سفارش کی ہے کہ کپاس کی کاشت اپریل کے پورے مہینے کے علاوہ مئی کے پہلے ہفتے میں مکمل کی جائے۔ ہفتہ وار فصل کا معائنہ جاری رکھا جائے اور بیماری سے متاثرہ پودوں کو کھیت سے نکال کر فوری طور پر تلف کیا جائے۔ سفید مکھی کے بروقت انسداد کیلئے کپاس کے علاوہ متبادل میزبان پودوں پر اس کے حملہ کو کنٹرول کیا جائے اور نئی کیمسٹری کی سفارش کردہ زہروں ڈایا فینتھیوران زہر50 فیصد ایس سی بحساب 200 ملی لٹر یاپائری پروکسی فن زہر 10.8فیصد ای سی500ملی لٹر یا اسیٹا میپرڈ زہر20 فیصدایس ایل بحساب 125 ملی لٹرکا بروقت سپرے کیا جائے۔ کپاس کے لیے منتخب کردہ کھیتوں میں سینجی ،برسیم ،جنتر یارواں کی فصلیں بطور سبز کھاد کاشت کرنے کی صورت میں ان کو کپاس کی بوائی سے کم ازکم 25 سے30 دن پہلے وتر حالت میں دبا دیا جائے اور کھیت کو پانی لگایاجائے۔ سبزکھادوں کی فصلوں کیگلنے سڑنے کے عمل کے دوران زمین میں موجوداگنے والی جڑی بوٹیاں بھی تلف ہوجائیں گی۔ڈبل راؤنی سے بھی کھیت میں جڑی بوٹیوں کے مڈھ گل سڑ کر ختم جاتے ہیں۔ کھیت میں مو جو د جر ی بوٹیوں کا تدارک کیا جا ئے۔کپاس کی پتہ مروڑ وائرس جڑی بو ٹیو ں کے اندر مو جو دہو تی ہے جو کہ وا ئرس کو تحفظ فرا ہم کر تی ہیں اور اسے کپاس کے پودوں میں تک پھیلا نے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کپاس کی فصل کی بوائی سے پہلے کھیت کو پانی لگادیا جائے اور وتر آنے پر ہل چلا کر سہاگہ پھیر دیا جائے۔ چند دن کھیت کو داب کی حالت میں رہنے دیں اور جڑی بوٹیاں اگنے پر دوبارہ ہل چلا کر ان کو تلف کیا جائے ۔اگر کپاس کا رقبہ کم ہو اور مزدور آسانی سے کم اجرت پر مل سکیں تو کھرپہ یاکسولہ سے جڑی بوٹیوں کی تلفی ایک بہت موثر طریقہ ہے۔ خشک گوڈی بوائی کے بعد اور پہلے پانی لگانے سے پہلے کی جاتی ہے ۔گوڈی کی گہرائی دوتااڑھائی انچ رکھی جائیں تاکہ وتر ضائع نہ ہو۔ بارشوں کے بعد گوڈی کا عمل دوہرایا جائے کیونکہ کپاس کے کھیتوں میں نمی کی وجہ سے جڑی بوٹیاں تیزی سے اگ آتی ہیں اور کپاس کی پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔ کپاس کے کھیتوں میں ہر آبپاشی اور بارش کے بعد صحیح وتر حالت میں گوڈی کرنے سے اگنے والی جڑی بوٹیوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور کپاس کے صحت مند پودوں کے بڑھنے اور پھلنے پھولنے سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوتاہے ۔ڈیلایا مورکھ جیسی جڑی بوٹیوں کی مؤثر تلفی کیلئے جدید طریقہ یہ ہے کہ فصل کاشت کرنے سے ڈیڑھ ماہ قبل زمین کو وتر حالت میں تیار کیاجائے، ڈیلا اگنے کیلئے کھیت کو20 تا 25 دن تک چھوڑدیا جائے اورپھر مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے ہالو سلفیوران زہر بحساب 20 گرام 120لٹر پانی میں ملا کر فی ایکڑ سپرے کی جائے۔کپاس کی فصل میں گھاس نمااور چوڑے پتے والی جڑی بوٹیوں کے علاوہ ڈیلا کے انسداد کیلئے ایک کلو گرام ایمازین + ایٹرازین کے ساتھ 500 ملی لٹر ایم سی پی اے زہریں ملا کر استعمال کی جاسکتی ہیں۔کپاس کی فصل میں کھاد کو چھٹہ دینے کی بجائے ڈرل کیا جائے تاکہ کھاد لائنوں سے دو انچ پہلو میں اور مناسب گہرائی میں ڈالی جا سکے۔ اسی طرح کھیت کو کھلا پانی لگانے کی بجائے صرف کھالیوں کے ذریعے پانی دیا جائے تو نہ صرف پانی کی بچت ہوگی بلکہ جڑی بوٹیوں کی تلفی میں بھی مدد ملتی ہے۔ اس بات کی کوشش کی جائے کہ پانی کھیلیوں کے نصف کے ذرا اوپر چڑھ جائے کیونکہ اگر پانی پٹڑیوں کے اوپر چڑھ جائے تو کپاس کا اگاؤ کم ہوجاتاہے اور جڑی بوٹیاں تیز ی سے بڑھ جاتی ہیں۔کپاس کی فصل میں نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشکے علاوہ زنک اور بوران کی متوازن مقدار میں فراہمی سے پودوں کی صحت بہتر ہوجاتی ہے ، ان میں مختلف بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے اوریہ وائرس کے حملے سے محفوظ رہتے ہیں۔کپاس کاشت کے مرکزی علاقوں میں ٹماٹر اور بھنڈی توری کی فصلیں لگا نے سے گریزکیا جا ئے کیونکہ ٹما ٹر اوربھنڈ ی توری سفید مکھی کی مر غوب ترین غذ ا ہیں اور یہ فصلیں سفید مکھی کی آبا دی بڑ ھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اجتماعی حکمت عملی کے ذریعے پتہ مروڑ وائرس اور سفید مکھی کا حملہ کم ہونے سے کپاس کی فصل کو شدید نقصان سے بچایا جاسکتاہے۔

مزید : ایڈیشن 2