شامی خاندان کا پیارا تھا عامر شامی

شامی خاندان کا پیارا تھا عامر شامی

عامر شامی اب اس دنیا میں نہیں رہے ،گزشتہ دنوں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ عامر شامی ہمارے تایا زاد بھائی تھے، بڑے تایا جناب ضیاء الرحمان شامی کے صاحبزادے معروف صحافی جناب مجیب الرحمان شامی کے بھتیجے اور عمران شامی کے بڑے بھائی انتہائی ہنس مکھ ،شفیق ملنسارشخصیت کے مالک عامر شامی بلا شبہ شامی خاندان کے ہی پیارے نہیں تھے بلکہ اپنے حلقہ احباب میں بھی ہر دلعزیز تھے، عامر شامی کے دو بیٹے عماد اور باسم جبکہ ایک بیٹی وداد ہے، بتلاتے چلیں کہ عامر شامی گزشتہ کئی روز سے سروسز ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں انکے علاج معالجے میں کسی قسم کی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی گئی، لیکن خدا کی مرضی کے آگے کس کا زور ہے؟

6 مئی 2016ء کی شام یہ دردناک خبر سنی تو آنکھ سے آنسو از خود ٹپک پڑے، جی ہاں درد کی ایک انجانی لہر سی تھی جو دل کے کسی کونے میں شدت سے اٹھی اور یہ بھی بتلاتے چلیں کہ عامر شامی اپنے اہل خانہ کے ساتھ لاہور میں رہتے رہے، اور جب نئے نئے بیرون ملک سے پاکستان لوٹے تو ہمارے ہی گھر میں قیام پذیر رہے ، اور ہمارے گھر میں ہمارے چھوٹے بھائی علی شامی کے روم میٹ بھی رہے ۔ علی شامی اور عامر شامی میں گاڑھی چھنتی تھی، تاہم ہمیں فیس بک پر بھی ناقابل اشاعت کی طرف سے اسٹیٹس اپ لوڈ کیا گیا تھا جس میں عامر شامی کی وفات پر تعزیت کی گئی تھی ، تاہم بتلاتے چلیں کہ ناقابل اشاعت جناب خوشنود علی خاں محترم کے زیر استعمال ہے۔

یہ بھی بتلاتے چلیں کہ کچھ روز قبل ہی جناب خوشنود علی خان کی والدہ محترمہ کا بھی انتقال ہوا تھا اور یہ بھی بتلاتے چلیں کہ ہم بھی دو تین روز قبل اسلام آباد سے لاہور لوٹے ہیں،بہر حال یہ بھی حقیقت ہے کہ سب نے ہی رب کی طرف لوٹنا ہے کسی نے جلدی تو کسی نے دیر سے جی ہاں سب نے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے حقیقت تو یہ ہی ہے،بہرحال دکھ ہے تو اس بات کا کہ عامر شامی کی ابھی عمر ہی کیا تھی ابھی تو انھوں نے زندگی میں دیکھا ہی کیا تھا لیکن یہ ضرور تھا کہ وہ نیک تھے جن کا انتقال جمعہ کے مبارک روز ہوا جی ہاں! انتہا ئی دکھ بھری گھڑی ہے کہ ، شامی خاندان کا ایک چمکتا ستارا غروب ہو گیا، بس اب تو دعا ہے کہ اللہ پاک عامر شامی کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے انھیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور شامی خاندان کے افراد کو عامر شامی کی جدائی کا صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین:

جانے والا خَامشی سے چل دیا

یہ نہ سوچا کون تنہا رہ گیا

مزید : کالم