لندن کا پاکستانی مسلمان میئر

لندن کا پاکستانی مسلمان میئر
 لندن کا پاکستانی مسلمان میئر

  

دُنیا میں پاکستان اور اہلِ پاکستان کا امیج کچھ اچھا نہیں ہے، لیکن پاکستانی ثابت کرتے رہے ہیں کہ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ حتیٰ وہ بہت سے اچھے تاریخ ساز کام کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ انگریزوں اور ہندوؤں کی زبردست مخالفت کے باوجود انہوں نے علیحدہ وطن بنا لیا۔ بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو بھٹو نے قسم کھائی کہ ہم گھاس کھا لیں گے اور ایٹم بم بنائیں گے اور پھر پاکستانیوں نے گھاس کھائے بغیر ایٹم بم بنا لیا۔ دُنیا حیران تھی کہ سوئی سے لے کر سائیکل درآمد کرنے والے اس مُلک نے کامیابی کیسے حاصل کی؟ دو پاکستانیوں نے نوبل پرائز بھی حاصل کئے، مگرپاکستانی ایسی قوم ہیں جہاں بہت سے لوگ ان نوبل پرائز حاصل کرنے والوں پر فخر کا اظہار کرنے سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔پاکستان میں ہر شعبے میں کسی موثر نظام کی عدم موجودگی کی شکایت کی جاتی ہے، مگر اسی سرزمین پر ایسے لوگ پیدا ہوتے رہتے ہیں جو اپنے اپنے شعبوں میں معجزے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

برطانیہ سے عام طور پر اچھی خبریں کم کم آتی ہیں۔ تاہم پاکستانی نژاد صادق خان کے لندن کے میئرمنتخب ہونے کی خبر سے تمام پاکستانیوں کو خوشگوار حیرت ہوئی ہے۔ صادق خان ایک بس ڈرائیور کے بیٹے ہیں، مگر انہوں نے کنزرویٹو پارٹی کے ارب پتی امیدوار زیک گولڈ سمتھ کو شکست دے دی ہے۔ صادق خان لندن کے پہلے مسلمان میئر ہیں۔برطانیہ سے پاکستانیوں کی منی لانڈرنگ کی خبریں آتی رہی ہیں۔ ان پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ برطانوی میڈیا ان کی ایسی تصویریں پیش کرتا رہا ہے کہ جن میں وہ انسان کم کم نظر آتے رہے ہیں، مگر لندن کے شہریوں نے صادق خان کو منتخب کر کے ثابت کر دیا ہے کہ میڈیا انسانی رائے پر بہت زیادہ اثر انداز نہیں ہوتا اور ترقی یافتہ معاشروں میں لوگ آزادانہ طور پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک دور تھا جب لندن سے پوری دُنیا پر حکومت کی جاتی تھی اور کہا جاتا تھا کہ سلطنت برطانیہ پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا۔ وقت کے ساتھ برطانوی حکومت جزائر برطانیہ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے تاہم لندن کی عالمی اہمیت برقرار ہے۔ اب بھی اس کا شمار دُنیا کے اہم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ پاکستان کے سیاست دانوں نے علاج کرانا ہو، سیاست کرنی ہو،جلاوطنی کی زندگی گزارنی ہو تو ان کا پسندیدہ شہر لندن ہوتا ہے۔ لندن انگریزوں کا شہر ہے، مگر یہ ایک ایسا شہر ہے، جس کے بعض علاقوں میں آپ پورا پورا دن انگریزی بولے بغیر گزار سکتے ہیں۔صادق خان کا تعلق لیبرپارٹی سے ہے اور اس کی کامیابی سے لندن سٹی ہال پر کنزرویٹو پارٹی کی 8سالہ حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ صادق خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ لندن کے میئر بن جائیں گے۔

صادق خان کی کہانی عزم و ہمت کی ایک غیر معمولی داستان ہے۔ اس کے دادا تقسیم کے بعد ہندوستان سے پاکستان آئے اور خان کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے برطانیہ آ گئے۔ اس کے مرحوم والد امان اللہ خان 25 سال سے زائد عرصہ تک بس ڈرائیور کے طور پر کام کرتے رہے۔ صادق اپنے بچپن کے دنوں کو اب بھی یاد کرتے ہیں۔ اس کے ماں اور باپ ہر وقت کام کرتے رہتے تھے۔ خود صادق نے بھی اوائل عمر میں ہی کام کرنا شروع کر دیا۔ وہ مختلف عمارتوں پر مزدور کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔ یہ خاندان برطانیہ میں مشقت کی زندگی گزار رہا تھا،مگر یہ پاکستان میں اپنے غریب عزیزوں کو نہیں بھولے تھے۔ یہ انہیں باقاعدگی کے ساتھ رقم بھجواتے تھے تاکہ ان کی محنت سے ان کے عزیز و اقارب بھی راحت تلاش کر سکیں۔ زندگی کے وہ بہت کٹھن دن تھے۔ ان کا خاندان ایک چھوٹے سے تین بیڈروم کے فلیٹ میں زندگی گزار رہا تھا۔ صادق ڈینٹسٹ بننا چاہتا تھا۔ اس نے اے لیول میں سائنس اور ریاضی کے مضامین رکھے، مگر اس کے ایک استاد صادق کے مدلل اظہارِ خیال سے بڑے متاثر تھے۔ انہوں نے صادق کو وکیل بننے کا مشورہ دیا۔ یوں وہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یونیورسٹی آف نارتھ لندن پہنچ گئے۔ بعد ازاں وہ اس کالج میں وزٹنگ لیکچرر بھی رہے۔ صادق نے لندن میں قانون کی پریکٹس شروع کی۔ وہ ایسے مقدمات کی پیروی کرتے تھے جہاں پولیس نے زیادتی کی ہو، جہاں روزگار کے مسائل ہوں اور کسی کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ انہوں نے ان مقدمات سے خاصی شہرت حاصل کی۔ لندن میں وہ ایک ایسے ماہرقانون کے طور پر معروف ہوئے جو انسانی حقوق کا چیمپئن تھا اور مظلوموں کو ان کا حق دلانے کے لئے برطانوی عدالتوں میں دلیل کی زبان میں بات کرنے کا ماہر تھا۔وکالت کے بعد سیاست کا میدان صادق خان کا منتظر تھا۔ 1994ء میں انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کونسلر سے کیا۔ 2003ء میں انہوں نے لیبرپارٹی کے ذریعے ایم پی کی نشست کا امیدوار بننے کی کوشش کی اور پھر 2005ء کے عام انتخابات میں وہ پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ صادق خان کا سیاسی کیریئر ان کی جرات کی داستان بھی سناتا ہے۔ وہ پارلیمنٹ میں اسلامی دہشت گردی کے موضوع پر مدلل اور تفصیلی تقاریر کرتے تھے۔ 2005ء میں پارلیمنٹ میں ان کی شاندار کارکردگی پر انہیں ایوارڈ بھی ملا۔ اگست 2006ء میں انہوں نے ٹونی بلیئر کے نام لکھے جانے والے اس خط پر دستخط کر کے شہرت حاصل کی، جس میں حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی گئی تھی۔

2010ء میں صادق خان دوبارہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہو گئے۔ ڈیوڈملی بینڈ کی لیبر لیڈرشپ کی انتخابی مہم کے لیڈر بھی رہے۔ 2015ء کے انتخابات میں صادق خان تیسری مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ صادق خان گورڈن براؤن کی حکومت میں وزیرمملکت برائے کمیونٹیز بھی رہے۔ 2009ء میں انہوں نے وزیرمملکت برائے ٹرانسپورٹ کی حیثیت سے کیبنٹ کے اجلاس میں شرکت کی۔ 2010ء کے انتخابات میں صادق خان مسلسل لندن کے 100 بڑے سیاست دانوں میں شامل رہے۔ ہر اہم سطح پر ان کی اپنی رائے ہوتی تھی جس کا وہ جرأت سے اظہار کرتے تھے۔ صادق خان آج دنیا کو بتا رہے ہیں کہ ’’مائی نیم از صادق خان اینڈ آئی ایم میئر آف لندن‘‘۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو صادق خان نے اپنی محنت سے حاصل کیا ہے۔ دُنیا بھر میں برطانوی جمہوریت کی تعریف کی جاتی ہے اس کی تقلید کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کیونکہ اس کے پاس صادق خان جیسی مثالیں ہیں۔ برطانوی جمہوریت ایک غریب ڈرائیور کے بچے کو قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اس کے لئے سیاست کے دروازے کھولتی ہے۔صادق خان ایک ایسی پارلیمنٹ کا حصہ بنتا ہے جو دنیا میں جمہوریت کے فروغ میں ایک مثال کا درجہ رکھتی ہے۔ یہاں صادق خان اپنی ذہانت، فطانت اور جرأت کا لوہا منواتے ہیں۔ نظام ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن رہا۔ انہیں مسلسل مواقع فراہم کر رہا ہے اور اب وہ لندن کے میئر ہیں۔ وہ لندن کے شہریوں کو امید کا پیغام دے رہے ہیں۔ اپنے انتخاب کے بعد انہوں نے کہا کہ ’’مجھے فخر ہے کہ لندن نے آج خوف کے مقابلے میں امید کا انتخاب کیا ہے۔ ہمارے شہر میں خوف کی سیاست کا خیرمقدم نہیں کیا جاتا‘‘ ۔

انتخابات کے دوران کنزرویٹو پارٹی ان پر متعدد الزامات لگاتی رہی۔ صادق خان نے لندن کا انتخاب جمائما خان کے بھائی کے خلاف لڑا۔جمائما خان اپنے بھائی کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیتی رہی۔ عمران خان پر بھی اس حوالے سے الزامات کی بارش ہوتی رہی کہ وہ ایک مسلمان کے مقابلے میں غیرمسلم کی حمایت کر رہا ہے۔ انتخابات کے بعد جمائما نے صادق خان کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ وہ نوجوان مسلمانوں کے لئے ایک عظیم مثال ہے۔ صادق خان کا اصرار ہے کہ وہ لندن میں رہنے والے ہر شخص کا نمائندہ ہے اور اب اپنے عمل سے اس قول کو ثابت کرے گا۔ صادق خان اپنی فتح کے بعد جب لندن میں رہنے والے ہر شخص کے لئے کام کرنے کے عزم کا اظہار کررہے ہیں تو لندن میں زک گولڈ سمتھ کی انتخابی مہم کے اثرات ابھی باقی ہیں۔ اپنی مہم میں زک نے صادق خان کے مسلمان ہونے پر تنقید کی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ صادق خان کے انتخاب سے مسلم انتہاپسندوں کو ایک پلیٹ فارم حاصل ہو جائے گا۔ لندن کے انتخابات کے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ منفی انتخابی مہم کے کبھی بھی مثبت نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ زک گولڈ سمتھ نے لندن کے میئر کا انتخاب ہی نہیں ہارا ہے، بلکہ اس کے متعلق اب برطانوی میڈیا یہ پشین گوئی کر رہا ہے کہ اب اس کے لئے سیاست میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ صادق خان کی زبردست کامیابی پر ہم اس خواہش کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ وطن عزیز کو اب ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے، جو سرسیدؒ ، اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کی طرح تاریخ کا دھارا تبدیل کرنے کی صلاحیت اور جرأت رکھتے ہوں اور صادق خان کے میئر لندن منتخب ہونے کے بعد اس قوم سے ایسی توقعات وابستہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

مزید : کالم