اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدان

اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدان
 اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدان

  

پانامہ لیکس کا ہنگامہ جاری و ساری ہے۔ احتساب کو حکمران طبقہ ذاتی انتقام جبکہ اپوزیشن عین ملکی مفاد قرار دے رہی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سمجھتے ہیں کچھ نادیدہ قوتیں احتساب کی آڑ میں شریف فیملی کو ہمیشہ کے لئے پاکستانی سیاست سے آؤٹ کرنا چاہتی ہیں جبکہ آصف علی زرداری کا خیال ہے احتساب کی آڑ میں بھٹو ازم کو دفنانے کا سلسلہ بھی شروع ہو گا۔ دوسری طرف عمران خان گمان کرتے ہیں اگر میاں، بھٹو فیکٹرز احتسابی شکنجے میں آجائیں تو انہیں وزیراعظم بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ تمام دھماچوکڑی کے درمیان کچھ چھوٹے موٹے سیاسی کھلاڑی بھی شدید محنت کا تاثر دیتے ہوئے ایک شاخ سے دوسری پر چھلانگیں مار رہے ہیں اور ان تمام عوامل کو پوری سج دھج کے ساتھ ٹی وی سکرینوں پر بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک چینل غلغلہ مچاتا ہے کچھ نہیں ہوگا دوسرا دہائی دیتا ہے حکمران بس چند دنوں کے مہمان ٹھہرے۔ اینکرز بھی دھڑوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ ایک دھڑا وزیراعظم کو بے قصور اور ڈٹ جانے کا مشورہ دے رہا ہے دوسرا خوف میں لتھڑے فقروں کی بمباری کے ذریعے حکمرانوں کے دل دہلانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور کچھ غیر جانبدار رہنے کی کوششوں میں ریٹنگز سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ کچھ یہی کیفیت عوام کی بھی نظر آ رہی ہے۔ نسبتا خوشحال اور کاروباری طبقہ نظام کو جوں کا توں رکھنے کا خواہشمند ہے، مڈل کلاس ہوا کا رخ بھانپ رہی ہے جبکہ غربت کے مارے شام سے پہلے تبدیل شدہ نظام کے متمنی ہیں۔ ان سب سے ہٹ کر ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو تمام کھلاڑیوں، تماشائیوں، ناظرین و سامعین کو گہری نظروں سے تول رہا ہے۔ اس طبقے کو اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں اور وہ کیا سوچ رہی ہے ذرا تصویر کا یہ رخ بھی دیکھئے۔

لگ بھگ چھ سال قبل پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو طاقت کے نئے مرکز چین نے اعتماد میں لیا۔ بیجنگ، اسلام آباد میں ہونے والی پے در پے ملاقاتوں میں بیان کیا گیا پاکستان نے عالمی امن کی خاطر طویل مار کھائی۔ اسے امریکن بلاک نے اپنی طاقت کے پھیلاؤ کی خاطر جی بھر کر استعمال بھی کیا اور اہداف پورے ہونے کے بعد آنکھیں بھی پھیر لی گئیں۔ لیکن اب وقت بدل چکا ہے، مشکل وقت میں اسلام آباد نے چائنہ پر دنیا کے دروازے کھلوائے، لہذا اب وہ لمحہ آن پہنچا ہے جب یہ بند ہوتے دروازے پاکستان پر بھی کھلنا چاہئیں ۔ ملاقاتوں کا سلسلہ مزید آگے بڑھاتو راولپنڈی والوں کو بھی پیغام بھیجا گیا بیجنگ اس طویل اقتصادی راہداری کو باقاعدہ شروع کرنے کو تیار ہے جس پر کسی دور میں برطانیہ، روس اور امریکہ کی نظر رہی۔ یہ روٹ نہ صرف چائنہ کے جی ڈی پی کو ہائی جمپ دے گابلکہ علاقہ غیر نما انہی سڑکوں پر امریکہ، یورپ، افریقہ سمیت دنیا کے ہر ملک کا شہری اپنی گاڑیاں دوڑانے کا خواہاں ہو گا۔ یہ روٹ دنیا کے ان گنے چنے علاقوں پر مشتمل ہوگا جس پر سفر کرتے ہوئے لینڈ اسکیپ کبھی صحرا میں تبدیل ہوگی کبھی فلک بوس پہاڑوں سے واسطہ پڑے گا کبھی ٹھنڈے پانیوں کی گہری جھیلیں نگاہوں کو بھائیں گی اور کبھی وسیع و عریض سبز چراگاہوں کی ہوا گالوں کے بوسے لے گی۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کیلئے یہ سار ا کچھ خواب کی مانند تھا۔ بھلا ایک ایسا ملک جس کے ٹوٹنے کے متعلق 2012 ء کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہو، جہاں کے باسی دہشت گردوں سے ڈر کر بیرون ملک بھاگ رہے ہوں، وہاں غیر ملکیوں کی وسیع پیمانے پر آمدو رفت اک خواب نہ تھی تو کیا تھی؟

ابھی اسٹیبلشمنٹ نے اس خواب کے چند ہلکورے ہی لئے تھے کہ بیجنگ نے حیرت کے مزید در وا کرتے ہوئے کہا جناب خوشیاں بعد میں منائیے گا پہلے بتائیں ہزاروں کلومیٹرز پر مشتمل اس روٹ کی حفاظت کا کیا بندوبست ہوگا؟۔ جواب میں پولیس کی قابلیت، ایف سی کی بہادری، پولیٹیکل ایجنٹ کے رعب و دبدبے اور لوکل قبائلی سرداروں کی ریاستی وفاداری کا بتایا گیا۔ بیجنگ نے جواب دیا آپ کی ساری باتیں درست ہوں گی لیکن مسئلہ یہ ہے راہداری کے فنکشنل ہوتے ہی پہلے چند سالوں میں لگ بھگ سو ارب ڈالرز مالیت کے کنٹینرز سست بارڈر سے داخل ہو کر گوادر پہنچیں گے۔ کچھ مخصوص روٹ چھوڑ کر یہ کنٹینرز ایسے علاقوں سے گذریں گے جہاں چھوٹو، موٹو، پتلو ٹائپ گروہ عملداری رکھتے ہیں۔ آپ کی پولیس ان علاقوں میں بلا اجازت داخل نہیں ہوسکتی، ایف سی کا کردار محدود ہے، پولیٹیکل ایجنٹ اغواء کاروں سے ملے ہیں اور لوکل قبائلی سردار پاکستانی ٹرکوں کو اغواء کرنے کے دھندے میں ملوث ہیں، لہذا ایسے حالات میں کیا ہم روزانہ یہ خبریں سنیں گے کہ اقتصادی راہداری پر چائنیز مال سے بھرے کنٹینرز اغواء ہو رہے ہیں۔ براہ مہربانی اس موقع کو بھانپئے اور ایک سولڈ منصوبہ وضع کیجئے۔ اسٹیبلشمنٹ نے پھر سر جوڑے۔ روٹ کے مجوزہ علاقوں اور قرب و جوار آبادیوں کا جنگی بنیادوں پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کا کام شروع ہوا۔ تجزیاتی رپورٹ مکمل ہوئی تو یہ خوفناک انکشاف سامنے آیا سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں ایسے گروہ موجود ہیں جو بھوکے شکروں کی مانند اقتصادی راہداری سے گذرنے والے کنٹینروں پر پل پڑیں گے۔ یہیں اسٹیبلشمنٹ کو یہ بھی علم ہوا ہر گروپ کا کوئی نہ کوئی سرپرست بھی موجود ہے۔ کسی کو پولیس کی سپورٹ حاصل ہے کوئی سیاست دانوں کی چھتری تلے پناہ گزین ہے اور کوئی برادر و غیر برادر ملکوں کی پے رول پر سرحدی پٹیوں پر حکمرانی کے جھنڈے گاڑے پھرتا ہے۔

اس مرحلے پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ایک نتیجے پر پہنچی۔ جس عارضی ہن کی خاطر وہ کئی دہائیوں سے سٹریٹیجک ڈیپتھ اور کولیشن پارٹنرز کی صورت عالمی برادری سے بلیک میل ہوتی چلی آ رہی تھی، وہ اب مستقل اور تیز رفتار بارش کی صورت پاکستان پر برسنے کو تیار تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کو علم تھا آج چائنہ، کل روس، پرسوں وسطی ایشین ریاستیں اور اترسوں بھارت ،مشرق وسطی و براعظم افریقہ کی منڈیوں تک رسائی کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کرکے اس راہداری پر اپنے کنٹینرز چڑھانے کی درخواست کرے گا۔ متوقع اور مستقل انکم لگ بھگ تیس ارب ڈالرز سالانہ تھی۔ اندرون ملک انڈسٹریل ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ بذریعہ چین صنعتی انقلاب کی صورت سامنے نظر آرہا تھا۔ ملک کے دور دراز علاقوں میں قائم ہونے والے ہوا میں معلق اسٹیل کے ایسے عجوبہ پلوں کی تصاویر ان کے ہاتھوں میں تھیں جن کی تیاری کیلئے چائنہ نے جاپان کو آرڈر دینا تھا۔ راہداری کے گرد بستے علاقوں میں ایسی ہائی کلاس انفراسٹرکچرل شہری ترقی کے امکانات نظر آرہے تھے جن کے آگے دبئی کی رونقیں بھی ماند پڑ نا تھیں۔ ایسے حالات میں اسٹیبلشمنٹ کو اگر یہ لنگڑے لولے گروہوں اور سرپرستوں کو بحر الکاہل میں بھی پھینکنا پڑتا تو اس نے دریغ نہیں کرنا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ نے کیا بھی ایسا ہی۔۔۔ ابھی صرف شروعات ہوئی ہیں۔ معاملہ چائنہ کی طرف سے انویسٹ کئے جانے والے چھیالیس ارب ڈالرز تک محدود نہیں بلکہ اس انوسٹمنٹ سے حاصل شدہ وہ مستقل منافع ہے جو پاکستانی ریاست کو راکٹ کی سی رفتار سے خوشحال اور پروگریسو ممالک کی صف میں لا کھڑا کر ے گا۔ اس تابناک ترقی کی خاطر اسٹیبلشمنٹ نے اپنا ’’ظرف‘‘وسیع کیا۔ کئی مواقع آئے جب وہ اقتدار پر قبضہ کر سکتی تھی لیکن ایسا نہ ہوا۔ دنیا کے سب سے بڑے اور وسیع معاشی روٹ کی خاطر متوقع گاہکوں بھارت و روس کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ بھارت بدستور ہچکچاہٹ میں رہا، اسے معلوم تھا بھارتی فیکٹریوں کا مال اسی صورت پاکستانی سڑکوں کا حصہ بن سکتا ہے جب کشمیر کا مسئلہ اپنے حل کو پہنچے۔ روسی آئندہ آنے والے مہینوں میں راہداری کا باضابطہ حصہ دار بننے کیلئے مذاکرات شروع کرنے والے ہیں۔قصہ مختصر ایک نئے اور حقیقی خوشحال پاکستان کی شروعات ہوچکی ہیں۔

اب ان حالات میں پاکستانی سیاستدان کہاں کھڑے ہیں؟ اسی اقتصادی روٹ کی خاطر فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کیا۔اسی روٹ کی خاطر ضرب عضب سے لے کر آپریشن کمبنگ کی شروعات کی گئیں۔ اسی روٹ کے گارنٹر کی حیثیت سے شفافیت کا احساس دلانے کی خاطر فوجی ادارے میں احتساب کے عمل کو پبلک کیا گیا۔اب ذرا حکمران اور اپوزیشن اپنے طرز عمل کا جائزہ لیں۔ کراس کمپئیرنگ میں صاف نظر آئے گا کہ چھوٹے موٹے مجرم پیشہ گروہوں سے سیاسی فوائد کی خاطر سیاستدانوں نے اسٹیبلشمنٹ کو عوامی رائے عامہ جیتنے کا موقع خود فراہم کیا۔کیا کراچی آپریشن خود شروع نہیں کیا جاسکتا تھا؟ کیا کھوکھاملازم چھوٹو کو خود ہی جوتیاں نہیں ماری جا سکتی تھیں؟کیا سرپرست لغاریوں،مزاریوں، دریشکوں، کھوسوں کو خود ہی الٹا نہیں لٹکایا جاسکتا تھا؟ کیا جہلم، چناب، سندھ، راوی کے کچے کے علاقوں میں قائم بدمعاشوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرکے وہاں عوامی پارک قائم نہیں کئے جا سکتے تھے۔ سبھی کچھ ہو سکتا تھا۔ اب بھی وقت نہیں گذرا ، بہت کچھ ایسا کیا جا سکتا ہے جو سول، ملٹری قیادتوں کو ایک پیج پر لا سکتا ہے۔ اس مرحلے پر انتہائی زیرک افراد کی ضرورت ہے جو معاملہ سنبھالیں، اگر منہ سے آگ اگلتی شخصیات پر تکیہ کیا گیا تو پھر وہ انہونی بھی ہوسکتی ہے، جسے ٹالا جارہا ہے۔

مزید : کالم