سیکرٹری خزانہ بلوچستان کی حماقت کو ست سلام

سیکرٹری خزانہ بلوچستان کی حماقت کو ست سلام
سیکرٹری خزانہ بلوچستان کی حماقت کو ست سلام

  

ایک ایسے مُلک میں جہاں پیسے ٹھکانے لگانے کے ایک ہزار ایک طریقے موجود ہیں، مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ نے یہ کیا حماقت کی، کروڑوں روپے بیگز میں ڈال کر گھر میں ایسے رکھ دیئے جیسے پرانے کپڑوں کے بیگ رکھے جاتے ہیں، جتنے روپے برآمد ہوئے ہیں اُن سے تو یہی لگتا ہے کہ موصوف روزانہ ایک بیگ بھر کے دفتر سے گھر لاتے تھے۔ انہیں شاید یہ بھی یاد نہیں رہا کہ بلوچستان میں گوادر پورٹ بھی موجود ہے اور کچھ نہیں تو لانچوں میں تھیلے بھر کے روپے اور ڈالر باہر بھیجتے رہتے، جیسے سندھ کے بعض لوگ کرتے رہے ہیں۔ بہرحال سیکرٹری صاحب کی حماقت کے باعث نیب کو ایک بڑا چھکا لگانے کا موقع مل گیا ہے۔ یکمشت کیش میں اتنی رقم تو نیب نے آج تک برآمد نہیں کی، پلی بار گین کے ذریعے لوٹی گئی دولت قسطوں میں واپس ملتی ہے اور بے برکتی کی وجہ سے اُس کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ کہاں گئی۔ سیکرٹری صاحب نے تو نیب کا ریکارڈ بنا دیا، اس پر انہیں کچھ انعام تو ملنا چاہئے۔

اس واقعہ کے بعد یہ نکتہ بھی سامنے آیا ہے کہ دولت کو لوٹنا آسان ہے اسے سنبھال کے رکھنا مشکل ہے۔ اب کئی بزدل اور احمق قسم کے بیورو کریٹس اور سیاست دان مال بنانے سے ہاتھ کھینچ لیں گے،جنہوں نے گھروں میں تجوریاں بھر کے رکھی ہوئی ہیں وہ انہیں سانپ کی پٹاریاں لگ رہی ہوں گی، جو اگر کھل گئیں تو سانپ باہر نکل کر انہیں ڈس لیں گے۔ مجھے ایک صحافی دوست نے بتایا کہ آج کل صرافہ بازار سے سونے کی ٹکیاں خریدنے کا رجحان عام ہے۔ جب سے بینکوں میں مانیٹرنگ کا نظام رائج ہوا ہے اورا کاؤنٹس کی تفصیل ایف بی آر کی دسترس میں آئی ہے، بنکوں میں ناجائز دولت رکھنے کا رجحان کم ہو گیا ہے، شاید سیکرٹری صاحب کے ساتھ بھی یہی مسئلہ رہا ہو۔ اُن کی عمر اور صحت دیکھ کے لگتا ہے کہ انہیں باقی ماندہ عرصہ حیات میں ایک اچھی زندگی گزارنے کے لئے ایک دو کروڑ روپے ہی کافی تھے، پھر نجانے انہوں نے ہوسِ زر میں مبتلا ہو کر کروڑوں روپے کے انبار کیوں لگائے؟ اب اس سارے عمل میں عزتِ سادات بھی گئی اور دولت بھی، سزا علیحدہ بھگتنی پڑے گی۔ سیکرٹری خزانہ بلوچستان کی گرفتاری سے آف شور کمپنیوں کی اہمیت کا احساس ہوا ہے۔جب بندہ اپنی دولت بنک میں بھی نہ رکھ سکے اور گھر میں بھی رکھنے پر چھاپہ پڑ جائے تو اُس کے لئے صرف یہی ایک راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ کسی بے نامی کمپنی کا سہارالے، پیسے اُس کے پاس جمع کرا دے اور بوقتِ ضرورت جتنی ضرورت ہو نکلواتا رہے۔ اُن کے ذریعے جائیدادیں خریدے، فیکٹریاں لگائے، سٹاک ایکسچینج میں انویسٹ کرے،غرض سارے کام ہی یہ کمپنیاں کریں اور وہ محفوظ بیٹھ کر مزے لوٹتا رہے۔ لگتا یہی ہے کہ بلوچستان کے یہ سیکرٹری خزانہ اس قسم کے معاملات سے نابلد تھے، وگرنہ وہ اتنی بڑی حماقت نہ کرتے۔

بلوچستان ہمارا وہ صوبہ ے جسے ہر دور میں بے تحاشہ فنڈز ملتے رہے ہیں۔ اس کے احساسِ محرومی کو دور کرنے کے لئے فوجی ہو یا سول حکمران سبھی نے بجٹ میں دِل کھول کے رقوم مختص کی ہیں کہا یہ جاتا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کا رکن ہونا پاکستان کی ہر اسمبلی سے زیادہ مفید ہے، کیونکہ وہاں رکن اسمبلی حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں اسے فنڈز ضرور ملتے ہیں بعض ادوار تو ایسے بھی آتے رہے ہیں کہ اسمبلی کے تمام اراکان کسی نہ کسی عہدے پر براجمان رہے، ماضئ قریب کے وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی کے بارے میں سبھی جانتے تھے کہ وہ تمام فنڈز بانٹنے یا خود ہڑپ کر جانے پر یقین رکھتے تھے۔ بلوچستان کی پسماندگی آج بھی اسی طرح ہے جیسے پہلے تھی، حالانکہ اب این ایف سی ایوارڈ کے تحت اتنے زیادہ فنڈز ملتے ہیں کہ اگر وہ صحیح معنوں میں خرچ ہو جائیں تو صوبے کی حالت بدل جائے، مگر وہ خرچ نہیں ہوتے سب بیورو کریسی اور ارکانِ اسمبلی کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں کوئی عقل کا اندھا ہی ہو گا، جو یہ سمجھے کہ سیکرٹری صوبائی خزانہ اکیلے کرپشن کر رہے تھے۔ وہ تو ہر سرکاری منصوبے کے مختص فنڈ کا صرف 10فیصد لیتے تھے، باقی رقم ارکانِ اسمبلی کو جاتی ہو گی۔ اگر زمین پر منصوبہ نظر نہ آئے اور کاغذوں میں بن جائے تو یہ متعلقہ ادارے ، وہاں کے رکن اسمبلی اور منصوبوں پر نظر رکھنے والے محکموں کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ذرا سوچئے کہ اگر ایک سیکرٹری کے گھر سے ایک ارب روپیہ مل سکتا ہے تو باقی لوگوں نے کتنا حصہ وصول کیا ہو گا۔ اربوں روپے اِسی طرح خورد برد ہوتے ہیں اور عوام صحت و صفائی، پینے کے صاف پانی، روز گار اور تعلیم کے لئے ترستے رہ جاتے ہیں ہمارے نظام میں ہر محکمے کا سیکرٹری اربوں روپے کا بجٹ خرچ کرتا ہے۔ نظام کچھ اس طرح بنا دیا گیا ہے کہ سب کچھ اس کی صوابدید پر ہوتا ہے۔ پھر وہ منتخب نمائندوں کو ساتھ ملا کر طریقے ڈھونڈتا ہے، ایک روپیہ لگے تو سو روپے کا بل بنتا ہے اور اربوں روپے ادھر اُدھر ہو جاتے ہیں۔ اگر بجٹ میں مختلف منصوبوں اور علاقوں کے لئے مختص شدہ رقوم صحیح معنوں میں خرچ ہو جائیں تو چند برسوں میں پاکستان کی تقدیر بدل جائے۔

نیب نے بڑی اچھی کامیابی حاصل کی ہے، مگر یہ آخری کامیابی نہیں ہونی چاہئے، جس طرح نیب نے ایک صوبے کے سیکرٹری کے گھر سے نوٹوں کے تھیلے برآمد کئے ہیں، اِسی طرح اسے دیگر صوبوں کے سیکرٹریوں اور دوسروں پر بھی نظر رکھنی چاہئے۔ پاکستان میں کوئی فرشتہ نہیں۔ یہاں ایک سے بڑھ کر ایک لٹیرا موجود ہے ایک سازش کے تحت کرپشن کو سیاست دانوں کی میراث بنا دیا گیا ہے، حالانکہ سب سے زیادہ کرپشن ضلعی سطح پر ہوتی ہے اور ڈی سی او کرتا ہے، کیونکہ سارے فنڈز اور منصوبے تمام اختیارات سمیت اس کے پاس ہوتے ہیں جب سے بلدیاتی ادارے ختم ہوئے ہیں، سب کچھ ضلعی افسر کے پاس آیا ہوا ہے۔ اگر کسی ضلع میں میٹرو جیسا منصوبہ آ جائے تو وہاں کرپشن کی وہ گنگا بہتی ہے کہ لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی۔ وزیراعلیٰ شاید درست ہی کہتے ہوں گے کہ ان پر کرپشن کا ایک روپیہ بھی ثابت نہیں ہو سکتا، مگر اورنج ٹرین اور میٹرو منصوبوں کے لئے انتظامیہ جو جائیدادیں خریدتی ہے، اس کا بھاؤ تاؤ تو وزیراعلیٰ کے علم میں نہیں ہوتا، اس کے لئے تو علاقے کا پٹواری، تحصیلدار اور ڈسٹرکٹ کلکٹر ہی سب فیصلے کرتے ہیں۔ آج بھی ملتان میں میٹرو کے متاثرین اپنے جائز معاوضوں کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ وہ دو کلیمز داخل کرتے ہیں تو انہیں ایک کلیم پر اکتفا کرنے کو کہا جاتا ہے دوسرے کی رقم کہاں جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق میٹرو ملتان کے منصوبے میں متاثرین جائیداد کو معاوضے کے لئے چار ارب دیئے گئے تھے۔ ان کی تقسیم کیسے ہوئی کس فارمولے کے تحت کی گئی، نیب ملتان کو اس کا بھی جائزہ لینا چاہئے، شاید یہاں بھی بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ جیسا کوئی کردار مل جائے۔ آج کل جو پانامہ لیکس کے حوالے سے شور و غوغا مچا ہے، اس سے تو لگتا ہے کہ پاکستان میں صرف وزیراعظم ہی کرپشن کرتا ہے باقی سب حاجی نمازی ہیں۔ بلوچستان میں چاولوں کی دیگ کے ایک دانے سے یہ خیال غلط ثابت ہو گیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں احتساب کو بھی سیاسی بنا دیا گیا ہے، جس کا سب سے زیادہ فائدہ بیورو کریسی اٹھاتی ہے اور اس شور شرابے میں اپنا کام جاری رکھتی ہے۔ احتساب کی ہر سطح پر ضرورت ہے۔ عوامی نمائندوں کو تو پھر بھی ایک خاص مدت کے بعد عوام کے پاس ووٹ کے لئے جانا پڑتا ہے، بیورو کریٹس تو ایک خاص مدت کے بعد اپنے تبادلے کی آڑ لے کر اس سطح سے ایسے غائب ہوتے ہیں کہ پھر مڑ کر نہیں دیکھتے ان کے خلاف کیس بھی نہیں بنتے اور سارا ملبہ سیاست دانوں پر آ گرتا ہے۔

اُمید کی جانی چاہئے کہ نیب کے ہاتھ سیکرٹری خزانہ کی صورت میں معلومات کا جو خزانہ لگا ہے وہ اسے رائیگاں نہیں جانے دے گا۔ اس سرے کو پکڑ کر ان تمام کرداروں کو قانون اور احتساب کے کٹہرے میں لائے گا جو سیکرٹری کو کھلی چھٹی دے کر خود بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے۔ ساتھ ہی چیئرمین نیب قمر الزمان سے یہ گزارش بھی ہے کہ وہ اپنے علاقائی دفاتر میں موجود افسروں کو یہ حکم جاری کریں کہ وہ صرف سیاست دانوں کو ہی نہ ٹٹولتے رہیں،بلکہ اہم پوسٹوں پر براجمان سرکاری افسروں کے رہن سہن، بنک بیلنس اور دفتری اوقات کے دوران ان کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھیں۔ اس کے دو فائدے ہوں گے، نچلی سطح پر کرپشن کم ہو جائے گی اور دوسرا فلاحی منصوبوں کے لئے مختص جو رقوم بے دریغ لوٹی جا رہی ہیں وہ بچ جائیں گی:

شاید کہ اُتر جائے ترے دِل میں مری بات

مزید : کالم