الزام تراشی کا کلچر

الزام تراشی کا کلچر

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ کوئی فرائض نبھانا ہی نہیں چاہتا، قانون پر عملدرآمد صرف ہماری ذمے داری نہیں، الزام تراشی کا کلچر بڑھ رہا ہے، بنیادی اور اہم معاملات پر متفقہ لائحہ عمل تیار نہ کرنا مُلک کا سب سے بڑا المیہ ہے، مسائل کے حل کے لئے سب سے پہلے ملکی آبادی پر توجہ دینا ہو گی، مُلک میں انسانی حقوق کے خلاف کوئی بھی قانون نہیں بن سکتا، مثبت ذہن اور سوچ پر بحث سے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں، لیکن مُلک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم منفی سوچ کی وجہ سے بنیادی اور اہم معاملات پر آج تک کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار نہیں کر سکے۔ دُنیا میں قانونی تعلیم قومی زبان میں دی جاتی ہے، ہمیں اپنا عدالتی نظام جلد اُردو میں منتقل کرنا ہو گا، عدالتیں کردار ادا کریں تو معاشرہ سدھر سکتا ہے وہ جوڈیشل ایجوکیشن کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔

جناب چیف جسٹس نے الزام تراشی کے جس کلچر کی نشاندہی کی ہے وہ ہمارے معاشرے میں تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے، ہر کوئی دوسروں پر الزام لگا کر خوش ہوتا ہے اور یہ بھی سمجھتا ہے کہ جو کچھ اُس نے کہا ہے وہی حرفِ آخر ہے، جواب میں اگر دوسرا بھی کوئی اِسی طرح کا الزام ہی الزام لگانے والے کی طرف لڑھکا دے تو وہ سیخ پا ہو جاتا ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ ٹی وی ٹاک شوز میں لوگ ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے کرتے کبھی کبھار گالیوں پر بھی اُتر آتے ہیں اور ٹی وی ناظرین کے لئے جگ ہنسائی کا سامان پیدا کرتے ہیں۔ یہ کلچر روز بروز فروغ پذیر ہے اور اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ اچانک یوں تو تکار پر اُتر آتے ہیں ۔الزام تراشی کے اس کلچر کا نتیجہ ہے کہ برداشت اور روا داری معاشرے سے عنقا ہوتی جا رہی ہے اور اس کی جگہ جذباتیت تشدد اور مارکٹائی لے رہی ہے۔

الزام تراشی کا یہ کلچر اِس حد تک وسعت اختیار کر چکا ہے کہ اب لوگ کسی پر بھی الزام لگاتے ہوئے ذرا حجاب محسوس نہیں کرتے، پڑھے لکھے لوگوں کی تقریبات بھی اس علّت سے خالی نہیں رہیں، سیاست دان اس الزام تراشی کا خصوصی ہدف بنے رہتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کرتے رہتے ہیں، بلکہ دشنام طرازی سے بھی گریز نہیں کرتے۔جلسوں میں اشتعال انگیز الزامات لگانا کچھ عرصے سے فروغ پذیر ہے انتخابی مہمات کے دوران سیاست دانوں کا الزام تراشی کا یہ کلچر عروج پر ہوتا ہے۔ پانامہ لیکس کے معاملے ہی کو لے لیں اِن میں صرف اتنی سی بات بیان کی گئی ہے کہ وزیراعظم کے صاحبزادوں کی آف شور کمپنیاں ہیں،اِن میں دوسرے اڑھائی سو لوگوں کے نام بھی ہیں، بعض سیاست دانوں کا نام لے کر اُن کی آف شور کمپنیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اِن میں نہ تو یہ بات بتائی گئی ہے کہ کمپنیوں کا حجم کتنا ہے پیسے کہاں سے آئے اور کاروبار کی نوعیت کیا ہے؟ یا یہ آف شور کمپنیاں جو کام کر رہی ہیں وہ کس قسم کا کاروبار ہے؟ اِس طرح کے درجنوں سوالات پیدا ہوتے ہیں، جن کا جواب معلوم نہیں۔لیکن اس پر ایسی ایسی گرہیں لگائی جا رہی ہیں کہ ہر کسی نے تبّرہ بازی کو شعار کر لیا ہے ۔

وزیراعظم کے دونوں بیٹے یہ بات مانتے ہیں کہ اُن کی کمپنیاں ہیں۔ اب اِس الزام کو کھینچ تان کر وزیراعظم پر منطبق کیا جا رہا ہے اور اُن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ تک ہو چکا ہے۔ گویا الزام لگانے والوں نے نہ صرف خود ہی مدعی، گواہ اور منصف کا منصب سنبھال لیا ہے، بلکہ سزا بھی خود ہی تجویز کر رہے ہیں، حالانکہ آف شور کمپنی بنانا پاکستان کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ اِس بات کی وضاحت جہانگیر ترین نے بھی کر دی ہے کہ ایسی کمپنی بنانا خلاف قانون نہیں اور اُن کے بیٹوں کے نام پر بھی کمپنی موجود ہے، گویا محض آف شور کمپنی بنانا اگرکوئی خلافِ قانون حرکت ہے تو اس میں وزیراعظم کے بیٹے اور جہانگیر ترین کے بیٹے یکساں قصور وار ہیں،لیکن توپوں کے گولوں کا رخ وزیر اعظم کی جانب ہے، اِس طرح اور بھی کئی سیاست دان ایسے ہیں جن کے بیٹوں کے نام پر کمپنیوں کا تذکرہ ہوتا رہا ہے۔ ان سب کو بھول کر وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ الزام تراشی کے اس کلچر کا شاخسانہ ہے جو ہمارے ہاں سرعت کے ساتھ فروغ پذیر ہے اور معاشرے کے ہر طبقے میں اس کی جڑیں پھیلی ہوئی ہیں۔

وکلاء کی تقریبات میں ججوں پر الزام تراشی سے گریز نہیں کیا جاتا۔ فاضل چیف جسٹس صاحبان پر اُن کی اولاد کے حوالے سے الزامات لگائے جاتے ہیں اور اس میں وہ بڑے بڑے لوگ ملوث ہو جاتے ہیں، جن کے اپنے دامن الزامات سے پاک صاف نہیں ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الزامات کا جو کلچر ہمارے ہاں فروغ پذیر ہے اس کا علاج کیا ہے اور عدالتیں اس سلسلے میں کیا کردار ادا کر سکتی ہیں اور مقننہ کا اس سلسلے میں رول کیا ہے؟ اسلام میں کسی پر جھوٹا الزام لگانے کی سزا تو بہت سخت ہے، لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے اس معاشرے میں کسی پر الزام لگانے کو سرے سے برائی ہی نہیں سمجھا جاتا اور جس کے جی میں جو آتا ہے دوسرے کے بارے میں کہہ دیتا ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مُلک میں ایسی قانون سازی کی جائے، جس سے دوسرے لوگ الزام تراشی سے بچ سکیں، ایسا قانون بن جائے اور اس کی روشنی میں عدالتوں سے سزائیں ملنے لگیں تو صورتِ حال بہتر ہو سکتی ہے۔

فاضل چیف جسٹس نے سیمینار سے اپنے خطاب میں جن اور باتوں کی جانب توجہ دلائی ان میں اُردو زبان میں قانون کی تعلیم بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دُنیا میں قانونی تعلیم قومی زبان میں دی جاتی ہے، صرف قانون ہی نہیں ہر طرح کی تعلیم دُنیا کے بیشتر ممالک اپنی اپنی قومی زبان میں دیتے ہیں اور جن ملکوں نے طب، سائنس اور انجینئرنگ میں ترقی کی ہے وہ اپنی زبانوں میں تعلیم حاصل کر کے ہی کی ہے، لیکن ہماری بدقسمتی یہ رہی کہ نوآبادیاتی دور میں ہم پر غیر ملکی زبان کچھ اِس طرح مسلط ہوئی کہ اب تک اس سے چھٹکارا ممکن نہیں ہو سکا،ایک دور میں کچھ روشنی کی کرن نظر آنے لگی تھی لیکن اب پھر ریورس گیئر لگ چکا ہے ۔ انگریزی کی تدریس اگر اختیاری زبان تک ہی رہتی تو بھی گوارا تھی، لیکن ہم نے آج تک زندگی کے ہر شعبے میں انگریزی کی بالادستی کچھ اس انداز سے قائم کر رکھی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں صرف وہی لوگ آگے بڑھ سکتے ہیں، جنہوں نے انگریزی کی تعلیم حاصل کی ہو، مقابلے کے امتحانات میں انگریزی ذریعہ اظہار نے مُلک میں ایک ایسے طبقے کو بالادست کر دیا ہے جو محض اپنی انگریزی دانی کی بنیاد پر خود کو ایک ایسی مخلوق سمجھنے لگتا ہے جو اقتدار کے لئے پیدا ہوتی ہے اور چونکہ انہیں تھوڑی بہت انگریزی آتی ہے اس لئے وہ معاشرے کے دوسرے طبقات سے اپنے آپ کو اعلیٰ مخلوق سمجھنے لگتے ہیں۔

مُلک سے انگریزی کی بالادستی ختم کرنے کے لئے جو نیم دلانہ کوششیں کی جا رہی ہیں اُن کا اس وقت تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا، جب تک حکومت سپریم کورٹ کے اِس سلسلے میں احکامات پر پوری طرح عمل نہیں کرتی۔ نفاذ اُردو کے سلسلے میں سپریم کورٹ کا حکم اِس سلسلے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اس حکم پر کما حقہ، عمل کیا جائے تو چند برس میں بہتر صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریٹائرمنٹ سے قبل جو تاریخی فیصلہ کیا تھا اس سے روشنی لے کر آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

جناب چیف جسٹس نے کہا کہ ہم منفی سوچ کی وجہ سے بنیادی اور اہم معاملات پر آج تک کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار نہیں کر سکے، یہ ایک ایسے مرض کی نشاندہی ہے جو نظر تو آتا ہے ،لیکن ہم بطور مجموعی اس کا علاج کرنے کے لئے آمادہ نہیں بلکہ ایسے اقدامات کرتے ہیں جن کی وجہ سے مرض بڑھتا ہی چلا جاتا ہے، منفی سوچ ہمارے معاشرے کے ہر پہلو پر اس طرح حاوی ہو گئی ہے کہ حیرت ہوتی ہے دو سیاستدانوں کی ملاقات ہو جائے تو اس میں سے منفی پہلو تلاش کئے جاتے ہیں راہ چلتے دو متحارب فریقوں کے نمائندے آپس میں مل لیں تو اس سے مرضی کے معنی نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کوئی سیاستدان جو اپنی سیاسی جماعت سے ناراض ہو وہ کسی مخالف جماعت کے رہنما سے ملاقات کر بیٹھے تو فوراً ہمیں یہ نظر آنے لگتا ہے کہ وہ اپنی جماعت چھوڑ کر دوسری جماعت میں جا رہا ہے، منفی سوچ کے یہ کرشمے اتنی دور تک پھیلے ہوئے ہیں جہاں تک انسانی ذہن کی رسائی ہو سکتی ہے حالانکہ اگر مثبت سوچ کو بروئے کار لایا جائے تو یہ معاشرے کے لئے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے اور بطور مجموعی معاشرہ صحت مند بنیادوں پر استوار ہو سکتا ہے۔

جناب چیف جسٹس نے معاشرے کی اصلاح کے لئے عدالتوں کے کردار کا بھی ذکر کیا ہے۔ عدالتوں کا کردار اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتا ہے لیکن ریاست کے دوسرے ستونوں کو بھی معاشرے کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے یہ تمام ادارے مل کر اگر مثبت راستے کا انتخاب کر کے اپنا کردار ادا کریں تو معاشرہ بہت جلد اصلاح کے راستے پر گامزن ہو سکتا ہے۔ جناب چیف جسٹس نے جن خرابیوں کی جانب توجہ دلائی ہے اگر ریاست کے سارے ادارے مل کر انہیں دور کرنے کی کوشش کریں تو کامیابی یقینی ہے۔

مزید : اداریہ