انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا کا ایک صائب مشورہ!

انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا کا ایک صائب مشورہ!

اخلاقیات ایک ایسا موضوع ہے جس کا تعلق مذہب، ماحول، توارث اور تعلیم و تربیت سے جڑا ہوا ہے۔یہ عناصرِ اربعہ کسی بھی فرد یا قوم کی تشکیلِ کردار میں نہایت اہم رول ادا کرتے ہیں۔ پہلے مذہب کی بات کرتے ہیں۔۔۔ مذہب کوئی بھی ہو، اس میں کوئی خدا کا برگزیدہ پیغمبر خواہ نہ بھی اترا ہو لیکن پھر بھی دُنیا بھر کے مذاہب میں انسانی کردار کے چیدہ چیدہ اور نمایاں پہلو ایک جیسے ہوتے ہیں۔ برائی سے بچنا اور نیکی کی راہ اختیار کرنا، ظلم اور زیادتی سے نفرت اور محبت اور اخوت سے پیار اور جبرو جور سے گریز اور مودّت و مروت کی طرف جھکاؤ، ہر مذہب یا دین کی اولین اساسیات شمار کی جاتی ہیں۔ لہٰذا مذہب کوئی بھی ہو وہ مثبت اخلاقیات کا مبلغ اور منفی اخلاقی اقدار کا ناقد بلکہ شدید مخالف ہوتا ہے۔

دوسری وجہ جو انسانی کردار کو متعین کرنے میں پیش پیش رہتی ہے وہ کسی انسان کا یا کسی قوم کا وہ جغرافیائی ماحول ہے جس میں قوم اور اس کے افراد پروان چڑھتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ وہ انسان جو سنگریزے کو نگینے میں تبدیل کرنے کا باعث ہوتا ہے وہ کبھی کبھار کوہ و دشت ہی میں پیدا ہوتا ہے، شہروں کی گنجان آبادیوں میں نہیں۔خدا وند تعالیٰ کے اکثر معروف و مشہور اور صاحبانِ کتاب پیغمبروں کی ولادت ریگستانی،نیم صحرائی اور دشت و جبل کے جغرافیائی ماحول میں ہوئی۔ کوئی بڑ کے درخت کے نیچے سر جھکائے محو ِ تفکر رہتا تھا، کوئی غارِ حرا میں ہفتوں اور برسوں جا کر خلوت گزینی کرتا تھا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو کوئی14برس تک جنگلوں اور صحراؤں میں مارا مارا پھرتا اور اپنے والد کا پیمان وفا کر کے بن باس کی مدت پوری کرتا تھا۔ شائد کوہ و صحرا اور بیابان و ریگزار فطرت سے زیادہ قریب ہوتے ہیں،شائد مظاہرِ فطرت کم آباد علاقوں اور زمینی قطعات میں زیادہ برہنہ، واشگاف یا نمایاں ہوتے ہیں، شائد خلوت میں استغراق کی کیفیت زیادہ دلکش ہوتی ہے کہ تبھی تو شاعر مشرق سوال کرتا ہے :

حسنِ بے پروا کو اپنی بے نقابی کے لئے

ہوں اگر شہروں سے بَن پیارے تو شہر اچھے کہ بَن؟

لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ انفرادی اور اجتماعی انسانی کردار میں جغرافیائی ماحول کا اپنا ایک رول ہے جو ظاہر و باہر ہے۔ لیکن فطرت (نیچر) جانب داری سے کام بھی نہیں لیتی۔ وہ بنیادی طور پر سیکولر مزاج واقع ہوئی ہے۔ اگر صحرا اور کوہ و بیاباں نیک اور پارسا لوگوں کو ہی پروان چڑھاتے تو منگولیا کے بے آب و گیاہ صحراؤں سے چنگیز خاں اور ہلاکو خان کیوں اُٹھتے؟ اور اگر کم آباد معاشروں کی کوکھ ہی سے جلیل وجمیل اور عظیم کردار جنم لیتے تو مصر کے گنجان آباد اور شہری ہنگامہ آرائیوں سے بھرپور ماحول میں حضرت یوسف علیہ السلام کیسے پیدا ہوتے؟

انسان کی تشکیلِ کردار میں تیسرا پہلو اس کا حسب نسب اور خاندان ہے۔ کہتے ہیں برصغیر میں آریاؤں کی آمد سے لے کر آج تک توارثی پہلو کو ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ ذات پات کی تمیز صرف ہندوؤں ہی سے خاص نہیں، مسلمانوں کا بھی یہی حال رہا اور سکھوں کا بھی یہی۔ مسلمانوں میں سید، پٹھان، مغل اور نجانے کتنے سینکڑوں قبیلے وجہِ تفاخر جانے جاتے ہیں، جبکہ دھوبی، نائی، ماشکی، مراثی، ڈوم اور نجانے کتنے سینکڑوں پیشے ایسے ہیں جو ہدفِ تضحیک بنائے جاتے ہیں۔ ورودِ اسلام سے پہلے مشرق وسطیٰ میں قبائل کی کثرت اور درجہ بندی ایک حقیقتِ ثابتہ ہے۔ یہ اُونچ نیچ اور یہ تمیزِ بندہ و آقا آج بھی مسلم معاشروں میں عام دیکھنے میں آتی ہے۔ یہ بھی تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ انسان کے دو معاشرے ہوتے ہیں، ایک اس کا اپنا گھر اور خاندان یعنی Immediate Surrounding اور دوسرا اس کا جغرافیائی ماحول، یعنی اس کا گاؤں، شہر، ضلع، صوبہ اور مُلک وغیرہ جسے Distant Surrounding کہا جاتا ہے۔ وہ ان دونوں معاشروں کے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ البتہ ’’الشاذو کالمعدوم‘‘ یعنی استثنائی صورتیں تو ہر جگہ ہوتی ہیں۔۔۔۔لیکن اصول اور روایات بنانے کے لئے اکثریت کو ہی پیمانہ مقرر کیا جاتا ہے۔ وگرنہ تو اسی خاکِ مکہ سے ابو جہل بھی تھا اور خدا کے آخری پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی۔۔۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو واحدانیتِ الٰہی کے اولین مبلغ تھے ان کے توارث میں بھی بت پرستی اور بت گری پائی جاتی تھی۔ لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا،یہ استثنائی صورتیں ہوتی ہیں اور ان کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔کبھی کبھی بے وجہ بھی دِل کو قرار آ جاتا ہے اور ویرانوں میں چپکے سے بھی بہار آ جاتی ہے۔ فطرت اگر چاہتی ہے تو سینۂ صحرا سے حباب اُٹھتے ہیں اور چاہے تو بہتے دریا خشک ہو جاتے ہیں۔ ان سب مظاہرِ فطرت کا اثر انسان پر خواہ مخواہ ہوتا ہے کہ یہ ساری کائنات خدا وندِ عزو جل نے پیدا ہی انسان کے لئے کی ہے۔وہی مرکزِ کائنات ہے۔ خدا خود تو ازل سے موجود ہے اور ابد تک رہے گا، اسے کسی کائنات کی کیا ضرورت تھی؟ انسانوں کی درجہ بندی(کلاسی فیکیشن) اول اول شائد جغرافیائی ماحول کی مجبوری کے باعث ہوئی ہو گی اور پھر مرورِ ایام سے انسانی اعمال و افعال اور عادات و کردار، توارث کے زیر اثر آ گئے ہوں گے۔ جدید علوم انسانی میں اگرچہ توارث کو زیادہ در خورِ توجہ نہیں گردانا جاتا، لیکن حضرتِ انسان کی لاکھوں برس کی تاریخ اس حقیقت پر دال ہے کہ اس کے کردار کے تعین میں اس کا توارث ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔

انسانی سیرت کی تعمیر میں تعلیم و تربیت کے رول کو مَیں نے سب سے آخر میں رکھا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی اہمیت بھی آخری ترجیح پر ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مذہب، ماحول، توارث اور تعلیم و تربیت کے عناصرِ اربعہ میں تعلیم و تربیت کا رول سب سے کلیدی اور ہمہ پہلو ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہو گا۔ اس نکتے کی تشریح کے لئے دو مثالیں قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ ایک کا تعلق میرے بچپن سے ہے اور دوسری کا بڑھاپے سے۔۔۔ بچپن میں انڈیا کی ایک فلم ’’آوارہ‘‘ دیکھی تھی جس میں راج کپور، نرگس، پرتھوی راج اور کے این سنگھ وغیرہ نے کام کیا تھا۔ 1950ء،1960ء اور 1970ء کے عشروں کو بھارت اور پاکستان کی فلم انڈسٹری کا سنہری دور شمار کیا جاتا ہے۔ یہ موضوعی اور مقصدی فلموں کا زمانہ تھا جس میں گلیمر اور سیکس کی بجائے کہ جو آج کی فلموں کا طرۂ امتیاز ہے، انسانی اخلاقیات اور سماجی اقدار کے موضوعات پر زور دیا جاتا تھا۔ آوارہ بھی ایک مقصدی فلم تھی، جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ انسان کا توارث نہیں، بلکہ اس کا ماحول اور سب سے بڑھ کر اس کی تعلیم و تربیت، سیرت سازی کی معمار ہوتی ہے۔۔۔ فلم کی مختصر سٹوری اس طرح ہے کہ کسی جج کی عدالت میں ایک مقدمہ پیش ہوتا ہے جس میں ملزم اقرار کرتا ہے کہ میرا ارادہ ارتکابِ جرم کا نہیں تھا، لیکن میری تربیت ہی ایسے ماحول میں ہوئی کہ مَیں اس گناہ/جرم کے ارتکاب پر مجبور ہو گیا۔جج نہیں مانتا اور کہتا ہے:’’تو گندی نالی کا کیڑا ہے، تیرے والدین اور ان کے والدین بھی ڈاکو، چور اور قاتل تھے اور تو بھی قاتل، ابنِ قاتل، ابنِ قاتل، وغیرہ ہے‘‘۔۔۔ یہ بحث دراز ہو جاتی ہے۔ جج صاحب (پرتھوی راج) نہیں مانتے۔ مجرم (کے این سنگھ) کو سزا ہو جاتی ہے۔ وہ سزا کاٹ کر واپس آتا ہے اور جج کی بیوی کو اغوا کر لیتا ہے۔ لیکن جب اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ حاملہ ہے تو وہ اس کی رکھوالی کرتا ہے۔ وہ ایک بچے(راج کپور) کو جنم دیتی ہے تو کے این سنگھ اُسے جج کے گھر کے دروازے پر چھوڑ آتا ہے۔ جج اُس بچے کو ’’حرامی اولاد‘‘ قرار دے کر دونوں کو باہر سڑک پر پھینک دیتا ہے لیکن ڈاکو دونوں کو لے جا کر اپنی کمین گاہ میں پالتا پوستا ہے۔ جب راج کپور جوان ہوتا ہے تو ڈاکہ زنی، جیب تراشی اور چوری چکاری کا پیشہ اختیار کر لیتا ہے۔ از راہِ اتفاق جج صاحب کی بھتیجی(نرگس) اس کے گھر ہی میں رہ رہی ہوتی ہے۔ راج کپور چوری کی غرض سے جج کے گھر آتا ہے، دونوں کی ملاقات ہوتی ہے، محبت کا آغاز ہوتا ہے۔پھر راج اِسی مقدمے میں پکڑا جاتا ہے اور جب اسے جج کے سامنے پابجولاں پیش کیا جاتا ہے تو وہ اپنے سگے باپ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ وہ سین بہت طویل ہے، مکالمے بے حد معنی خیز اور زور دار ہیں، باپ کو احساس ہوتا ہے کہ جس بیٹے کو اس نے برسوں پہلے سڑک پر پھینک دیا تھا وہ اُس کا یہی ’’آوارہ‘‘ بیٹا تھا اور اس کا اپنا خون تھا۔ ۔۔۔ سٹوری کا مارل یہ تھا کہ سیرتِ کردار میں تعلیم و تربیت کا رول زیادہ ہے اور توارث کا کم۔

دوسری مثال ابھی چند روز پہلے کی ہے۔ ایبٹ آباد کے ایک گاؤں میں ایک دلخراش سانحے میں ایک گاؤں کی جواں سال لڑکی اور نوجوان لڑکے میں محبت ہو جاتی ہے۔ وہ گھر سے بھاگ جاتے ہیں اور شادی کر لیتے ہیں۔ اس کہانی میں ایک لڑکی16سالہ عنبرین ریاست بھاگنے والی لڑکی کی سہیلی ہوتی ہے جو دونوں کی ملاقاتیں کرواتی ہے۔ گاؤں میں جرگہ بیٹھتا ہے اور عنبرین کے انجام کا فیصلہ کرتا ہے۔ لڑکی کو گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا جاتا ہے اور اُسی وین (گاڑی) میں جلا دیا جاتا ہے جس میں گاؤں سے وہ جوڑا فرار ہوا تھا اور عنبرین نے ان بھاگنے والے جوڑے کی مدد کی تھی۔۔۔۔ پھر ایک ہفتے کے اندر اندر پولیس جرگے کے تمام افراد کو پکڑ لیتی ہے۔ یہ 14افراد آج پولیس کے ریمانڈ پر ہیں، ان میں دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلے گا اور انشاء اللہ قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ اس سانحے کی تفصیلات اکثر قارئین نے پڑھی اور دیکھی ہوں گی۔

تین روز پہلے(جمعہ کی شب) ’’دُنیا نیوز‘‘ پر معید پیرزادہ ٹاک شو میں آئی جی پولیس خیبرپختونخوا جناب ناصر درانی اس دلدوز واقعہ پر تبصرہ کر رہے تھے۔ مَیں ناصر درانی صاحب کی بصیرت اور پیشہ ورانہ ویژن کا شروع ہی سے مداح ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھے وہ روائتی پولیس والے لگتے ہی نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی اور سیارے کے پولیس آفیسر ہیں۔ انہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں ایک ایسے پہلو کی طرف اشارہ کیا جو بے حد اہم اور قابل توجہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’آج پاکستانی معاشرے میں پے بہ پے ایسے سانحات و حادثات رونما ہو رہے ہیں جو پہلے نہ کبھی دیکھے تھے نہ سنے تھے۔ اس کی ایک غالب وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی تعلیمی درس گاہوں (سکولوں اور کالجوں وغیرہ) میں شہریت(Civics) کا وہ مضمون ہی نصاب سے نکال دیا ہے جس میں طلبا اور طالبات کو اپنی شہری ذمہ داریوں اور فرائض کا درس دیا جاتا تھا۔ یہ مضمون ہمیں دوبارہ داخلِ نصاب کرنا ہو گا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ایبٹ آباد جیسے دلخراش اور انہونے سانحے ہوتے رہیں گے!‘‘

تری آواز مکے اور مدینے

قارئین ذرا غور فرمائیں کہ کیا کسی صوبے کا انسپکٹر جنرل پولیس اس معاشرتی برائی کی سنگینی کا قصور وار سکولوں اور کالجوں کے تدریسی سلیبس کو ٹھہرا سکتا ہے؟۔۔۔ کیا اُس کی نگاہ اُس مائیکرو سائز بارودی فلیتے تک جا سکتی ہے جو آج جگہ جگہ سلگ کر ناقابلِ تصور سماجی دھماکوں اور ناقابلِ بیان سِوَک جرائم کے ارتکاب کا سبب بن رہا ہے؟

وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی موجودہ نسل کو (وہ جیسی بھی ہے) قبول کریں، اس کے کردار پر پریشان ہونے اور اس کا مداوا کرنے کے ساتھ ساتھ آنے والی نسل کے کردار کی تشکیل و تعمیر کے لئے اسی ابجد سے آغاز کریں جس کی طرف ناصر درانی صاحب نے توجہ دلائی ہے۔

مزید : کالم