کیا سلمان شہبازکے مقدمے میں جان ہے؟

کیا سلمان شہبازکے مقدمے میں جان ہے؟
 کیا سلمان شہبازکے مقدمے میں جان ہے؟

  

سلمان شہباز بہت کم میڈیا میں آتے ہیں۔ وہ ٹوئٹ بھی بہت کم کرتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ غیر سیاسی ہیں۔ وہ ایک مکمل سیاسی شخصیت ہیں۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ فی الحا ل خاموشی سے سیاست کرنا ہی ان کی سیاست ہے۔ وہ پنجاب کی سطح تک ایک مکمل فعال سیاسی شخصیت ہیں۔ اور پنجاب کی حد تک ہونے والے سیاسی و انتظامی فیصلوں میں ان کی رائے مکمل طور پر شامل ہوتی ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ انہیں شریف فیملی کا ہونہار سپوت بھی سمجھا جاتا ہے۔ اور سب کو ان سے کافی امیدیں ہیں۔ انہوں نے خود کو شریف فیملی کے سیاسی ترجمان کی حیثیت سے بھی خود کو منوا لیا ہے۔ نہایت کم سیاسی پردہ سکرین پر آنے کے باوجود وہ شریف فیملی کے سیاسی مخالفین کی ہٹ لسٹ پر رہتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ بھی تھی کہ جب چند ماہ قبل وزیر اعظم میاں نواز شریف سعودی عرب کے دورہ پر تھے تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بیان جاری کر دیا کہ سلما ن شہباز کس حیثیت میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ساتھ دورہ پر ہیں تو سلمان شہباز کو وضاحت کرنی پڑی کہ وہ تو لاہور میں ہیں۔ عمران خان نے ایک پرانی تصویر میڈیا میں دیکھ کرکہا کہ وہ سعودی عرب میں ہیں۔ اس طرح سلمان شہباز پردے کے پیچھے رہنے کی شعوری کوشش کے باوجود اکثر سیاسی فوکس میں بھی آجاتے ہیں۔

آجکل پانامہ اور آف شور کمپنیوں کا بہت شور ہے۔ آج اس ضمن میں نئی قسط آنے کی بھی باز گشت ہے۔ جس میں پاکستان سے بھی چار سو مزید نام آرہے ہیں۔جن کی پانامہ میں آف شور کمپنیاں ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس بار اس قسط میں جو نام شامل ہیں ان میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی شامل ہیں۔ لہذا یہ امید کی جا سکتی ہے کہ جب اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے مزید نام سامنے آجائیں گے تو اپوزیشن کا پارہ بھی نیچے آجائے گا۔ اس سے قبل جب پانامہ میں صرف میاں نواز شریف کے خاندان کا نام آیا تھا تو محترم عمران خان نے پانامہ میں نام آنا ہی اتنا بڑا جرم قرار دے دیا تھاجیسے بس نام آنا ہی مجرم ہونے کے لئے کافی ہے ۔ وہ تو بعد میں جب ان کی اپنی پارٹی سے جہانگیر ترین اور علیم خان کے نام سامنے آگئے تو انہیں اپنے موقف میں بھی تبدیلی کرنی پڑی۔ اب ان کا موقف یہ ہے کہ صرف پانامہ کمپنی کا ہونا کوئی جرم نہیں اس لئے اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو نئے نام آئے ہیں وہ بھی مجرم نہیں ہو نگے۔

گو کہ سلمان شہباز نے اپنے تازہ ایک انٹریو میں اس بات کی دوٹوک وضاحت کر دی ہے کہ ان کے خاندان کی کوئی آف شور کمپنی نہیں۔ ان کے خاندان میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف، حمزہ شہباز شریف اور شہباز شریف کی دیگر فیملی کے ارکان شامل ہیں۔ وہ برملا کہہ رہے ہیں کہ ان کے تمام اثاثے اور کاروبار پاکستان میں ہیں۔ لیکن اس حد تک ان کے موقف میں جان ہے کہ شریف فیملی چاہے پاکستان میں کاروبار کرے یا پاکستان سے باہر کاروبار کرے۔ اسے تنقید کا سامنا تو رہے گا۔

سلمان شہباز یہ بات تو ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ ان کا تو سارا کاروبار پاکستان میں ہے لیکن پھر بھی انہیں تنقید کا سامنا ہے۔ اور دوسری طرف میاں نواز شریف کے بچوں کا سارا کاروبار ملک سے باہر ہے۔ اور انہیں بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس لحاظ سے اس وقت شریف فیملی یقیناًابہام کا شکار ہے کہ وہ کیا کرے۔ اگر کاروبار پاکستان میں کرے تو بھی سیاسی مخالفین کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے اور اگر ملک سے باہر کرے تو بھی سیاسی مخالفین کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے ۔و ہ کرے تو کیا کرے؟

کیا پاکستان میں سیاسی شخصیات کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ اگر مان لیا جائے کہ نہیں ۔ تو پھر پاکستان کی سیاست ماضی کی طرح جاگیر داروں کے ہاتھوں میں ہرغمال نہیں ہو جائے گی۔ کیا صنعتکار اور کاروباری حضرات یہ مطالبہ نہیں کریں گے کہ اگر ان کے لئے سیاست کے دروازے بند ہیں ۔ تو جاگیرداروں کے لئے بند ہونے چاہئے۔ اس کے بعد یہ مطالبہ بھی سامنے آسکتا ہے کہ بڑے گھروں میں رہنے والوں کو سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہو نی چاہئے۔ بعد میں اس قسم کے کئی مزید مطالبات بھی سامنے آسکتے ہیں۔ لیکن کیا یہ سوچ پاکستان کی ترقی کا باعث ہو گی۔

میرے خیال میں سلمان شہباز کے اس اعلان کا تمام سیاسی حلقوں کو خیر مقدم کرناچا ہیے کہ چلیں ان کی ساری دولت اور کاروبار تو پاکستان میں ہے۔ اور وہ آگے بھی پاکستان میں کاروبار کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان میں کاروبار کرنے میں دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ منافع ہے۔ وہ مان رہے ہیں کہ پاکستان میں کاروبار کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ ورنہ آپ پاکستان میں جس بھی کاروباری شخصیت سے بات کر لیں وہ یہی کہے گا کہ بس بہت نقصان ہو گیا۔ پاکستان میں تو کاروبار کے کوئی حالات نہیں ہیں۔ یہاں تو بس نقصان ہی نقصان ہے۔

میرے خیال میں پانامہ لیکس سے ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ پاکستان کے بااثر افراد یا پاکستان کے ارباب اقتدار پاکستا ن میں اپنی دولت اور بچوں کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ اسی لئے اکثریت کے بچے اور دولت باہر ہیں۔ پاکستان میں ہمیں ایک ایسا سیاسی ماحول بنانا ہو گا کہ یہاں کے بااثر اور ارباب اقتدار یہاں اپنی دولت اور بچوں کو محفوظ سمجھ سکیں۔ کیونکہ کاروبار کے بغیر پاکستان کا کوئی مستقبل نہیں۔ کیا آج کی کیپٹل مارکیٹ میں کاروبار کسی ملک کی ترقی میں ایک بنیادی جزو نہیں ہے۔

اس ملک کی اسٹبلشمنٹ آجکل بے لاگ احتساب کی بہت مہم جوئی کر رہی ہے۔بہت ماحول بنایا جا رہا ہے ۔ لیکن شائد کوئی بھی اس ملک کی اسٹبلشمنٹ سے یہ سوال کرنے کی جرات نہیں کر سکتا کہ جب بارہ اکتوبر 1999 کو انہوں نے مہم جوئی کی تھی تو شریف فیملی کے غیر سیاسی بچوں کو کیوں گرفتار کیا گیا تھا۔ تب حسین نواز کو کیوں گرفتار کیا گیا اور جب اس ملک کی اسٹبلشمنٹ خود بچوں کو گرفتار کرے گی تو کیا لوگ اپنے بچے محفوظ جگہوں پر نہیں رکھیں گے۔ کیونکہ پاکستان میں تو کچھ بھی کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ احتساب کے لئے سکرپٹ رائٹرز کو بھی اپنا احتساب کرنا ہو گا ۔ تب ہی حقیقی احتساب ممکن ہے۔

مزید : کالم